عمران خان کو لانے والے چاہتے ہیں وہ دوبارہ اقتدار میں آجائے، خواجہ آصف
اشاعت کی تاریخ: 15th, January 2026 GMT
وزیردفاع خواجہ آصف نے کہا ہے کہ عمران خان کی سیاسی پرورش کرنے اور اسکو اقتدار میں لانے والے ملک کو اپنے تابع کرنے کیلیے اپنے پالتو شخص کو دوبارہ اقتدار میں لانے کے خواہش مند ہیں۔
سماجی رابطے کی سائٹ ایکس پر اپنے بیان میں خواجہ آصف نے کہا کہ پاکستان کو گالیاں نکالنے والوں کو پناہ دینے والے سب چاہئیں گے یہ مملکت خداداد انکی تابع ہو جائے اور دوبارہ انکا پالتو عمران خان بر سر اقتدار آجائے۔
انہوں نے لکھا کہ یاد رکھیں 9مئی کو فوجی تنصیبات پر حملے کا مقا صد بھی اسی حصول کی کوشش تھی۔ وزیر دفاع نے موازانہ کرتے ہوئے کہا کہ فرق دیکھیں جب عمران خان کے دور میں ہندوستان نے حملہ کیا تو راتوں رات ابھی نندن کو ہم نے ہاتھ جوڑ کے واپس کیا۔
خواجہ آصف نے لکھا کہ مئی 2025 میں جب ہندوستان نے حملہ کیا تو پاکستان نے فتح کی تاریخ رقم کی جس سے دنیا حیرت زدہ رہ گئی کہ وہی پاکستان ہے جس نے کچھ سال قبل ہندوستان کا پائلٹ واپس کیا اور پارلیمنٹ کو یہ بتایا گیا کہ ھم ہندوستان سے جنگ رسک نہیں لے سکتے۔
خواجہ آصف نے کہا کہ ہماری افواج نے اللہ کی مدد سے قوم کا سر فخر سے بلند کیا، شہیدوں نے وطن کو جاوداں کیا۔
انہوں نے لکھا کہ دشمن آج بھی تاک میں ھے جاگتے رہنا، یہ باہر بیٹھے نام نہاد پاکستانی، طالبان سے محبت بھرے مذاکرات کے حامی وطن عزیز کی ترقی اور امن کے دشمن ملک کو معاشی استحکام اور محفوظ مستقبل سے دور رکھنا چاہتے ہیں۔ پاکستان زندہ باد
.
ذریعہ
ذریعہ: Express News
کلیدی لفظ: خواجہ ا صف نے
پڑھیں:
گورنر خیبر پختونخوا کی وزیراعظم سے ضم شدہ اضلاع کیلئے ٹیکس استثنیٰ بحال کرنے کی درخواست
فیصل کریم کنڈی نے خط میں کہا کہ صوبائی حکومت ضم شدہ اضلاع اور پاٹا کے تمام صوبائی ٹیکس ختم کر چکی ہے، تاہم وفاقی ٹیکسز کے خاتمے کے بغیر قبائلی عوام کو مکمل ٹیکس ریلیف نہیں مل سکتا۔ اسلام تائمز۔ گورنر خیبر پختونخوا فیصل کریم کنڈی نے وزیراعظم پاکستان کے نام خط لکھ کر ضم شدہ قبائلی اضلاع اور پاٹا کے لیے وفاقی ٹیکس استثنیٰ بحال کرنے اور اس میں توسیع کی درخواست کی ہے۔ انہوں نے کہا کہ وفاقی ٹیکس استثنیٰ بحال کر کے انضمام کے وقت کیے گئے وعدوں کی پاسداری کی جائے۔ گورنر فیصل کریم کنڈی نے خط میں مطالبہ کیا کہ قبائلی اضلاع اور پاٹا میں انکم ٹیکس، سیلز ٹیکس اور دیگر وفاقی محصولات کے نفاذ پر نظرثانی کی جائے۔ انہوں نے کہا کہ صوبائی حکومت ضم شدہ اضلاع اور پاٹا کے تمام صوبائی ٹیکس ختم کر چکی ہے، تاہم وفاقی ٹیکسز کے خاتمے کے بغیر قبائلی عوام کو مکمل ٹیکس ریلیف نہیں مل سکتا۔
انہوں نے تجویز دی کہ وفاقی اور صوبائی حکومتوں پر مشتمل مشترکہ کمیٹی قائم کر کے قبائلی اضلاع کی معاشی صورتحال کا جائزہ لیا جائے۔ ان کا کہنا تھا کہ نئے ٹیکسوں کے نفاذ سے قبل ضم شدہ اضلاع اور پاٹا کی معاشی و مالی صورتحال کا جائزہ لینا ضروری ہے، جبکہ ٹیکسوں کا معاملہ مشترکہ مفادات کونسل یا کسی مناسب آئینی فورم پر فوری طور پر پیش کیا جائے۔
گورنر خیبر پختونخوا نے کہا کہ قبائلی عوام نے پاکستان کے امن، استحکام اور سلامتی کے لیے بے مثال قربانیاں دی ہیں۔ وفاق اور صوبے کی یکساں ٹیکس پالیسی قبائلی عوام کا ریاست پر اعتماد بحال کرنے میں مددگار ثابت ہوگی، جبکہ ٹیکس ریلیف سے ضم شدہ اضلاع کی سماجی و معاشی ترقی اور قومی دھارے میں انضمام کا عمل مزید تیز ہوگا۔