ایم ڈبلیو ایم ملتان کے صدر عون رضا انجم سے وکلاء کے وفد کی ملاقات، کامیابی پر مبارکباد
اشاعت کی تاریخ: 15th, January 2026 GMT
وفد میں چوہدری نعمان احمد ایڈووکیٹ، سید محمد رضا شاہ ایڈووکیٹ، آریز افروز چغتائی ایڈووکیٹ، وسیم اکرم ایڈووکیٹ، چوہدری ارشد ایڈووکیٹ، رانا پھول محمد ایڈووکیٹ، شاہ خان دریشک ایڈووکیٹ، سمیع قریشی ایڈووکیٹ، آکاش احمد جٹ ایڈووکیٹ، ملک ارسلان ڈوگر ایڈووکیٹ موجود تھے۔ اسلام ٹائمز۔ مجلس وحدت مسلمین ملتان کے ضلعی صدر عون رضا انجم ایڈووکیٹ سے ہائیکورٹ بار ملتان کے وفد نے ملاقات کی اور حال ہی میں مجلس وحدت مسلمین ملتان کے صدر منتخب ہونے پر مبارکباد پیش کی۔ اس موقع پر چوہدری نعمان احمد ایڈووکیٹ ہائیکورٹ، سید محمد رضا شاہ ایڈووکیٹ ہائیکورٹ، آریز افروز چغتائی ایڈووکیٹ ہائیکورٹ، وسیم اکرم ایڈووکیٹ ہائیکورٹ، چوہدری ارشد ایڈووکیٹ ہائیکورٹ، رانا پھول محمد ایڈووکیٹ ہائیکورٹ، شاہ خان دریشک ایڈووکیٹ ہائیکورٹ، سمیع قریشی ایڈووکیٹ ہائیکورٹ، آکاش احمد جٹ ایڈووکیٹ ہائیکورٹ، ملک ارسلان ڈوگر ایڈووکیٹ ہائیکورٹ موجود تھے۔ وفد نے ضلع صدر کو پھولوں کو گلدستہ پیش کیا اور نیک تمنائوں کا اظہار کیا۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Islam Times
کلیدی لفظ: ایڈووکیٹ ہائیکورٹ ملتان کے
پڑھیں:
نابالغ بچے کا نان نفقہ کسی معاہدے سے ختم نہیں کیا جا سکتا: لاہور ہائیکورٹ
لاہور ہائی کورٹ---فائل فوٹولاہور ہائی کورٹ نے قرار دیا ہے کہ باپ نابالغ بچے کے مستقبل کے نان نفقے کا حق کسی معاہدے یا رضامندی نامے کے ذریعے ختم نہیں کر سکتا۔
لاہور ہائی کورٹ کے جسٹس محسن اختر کیانی نے درخواست پر تفصیلی تحریری فیصلہ جاری کر دیا۔
عدالت نے معاہدے کی بنیاد پر بچے کا نان نفقہ ختم کرنے سے متعلق باپ کی اپیل خارج کرتے ہوئے ٹرائل کورٹ، فیملی کورٹ اور اپیلٹ کورٹ کے فیصلے برقرار رکھے ہیں۔
عدالت نے اپنے فیصلے میں کہا کہ درخواست گزار کے مطابق بورڈنگ کارڈ جاری ہونے کے بعد اچانک آف لوڈ کیا گیا اور صرف اس خدشے پر سفر سے روکا گیا کہ شاید دبئی سے واپس نہ آئے۔
عدالتی فیصلے کے مطابق فریقین کی شادی 2002ء میں ہوئی تھی جبکہ 2005ء میں طلاق ہو گئی، طلاق کے بعد خاندان کے بڑوں نے دونوں فریقین کے درمیان ایک معاہدہ کروایا جس کے تحت شوہر بچے کے نان نفقے کے حوالے سے 60 ہزار روپے ادا کرے گا۔
عدالتی حکم نامے کے مطابق خاتون نے 2019ء میں بچے کے نان نفقے کا دعویٰ دائر کیا جس پر درخواست گزار نے مؤقف اختیار کیا کہ معاہدے کے باوجود دعویٰ دائر کرنا غیر قانونی ہے تاہم عدالت نے قرار دیا کہ مالی تنگی بھی باپ کی نان نفقے کی ذمے داری ختم نہیں کر سکتی اور نابالغ بچے کا نان نفقہ باپ پر مستقل جاری رہنے والا فریضہ ہے۔
فیصلے میں کہا گیا ہے کہ کسی نجی معاہدے یا رضامندی نامے کے ذریعے نابالغ بچے کا نان نفقے کا حق ختم نہیں کیا جا سکتا۔
عدالت نے واضح کیا ہے کہ نان نفقہ باپ پر صرف قانونی ہی نہیں بلکہ اخلاقی اور مذہبی ذمے داری بھی ہے جبکہ غیر ادا شدہ نان نفقہ باپ پر قابلِ نفاذ قرض ہے جو ختم نہیں ہو سکتا۔
لاہور ہائی کورٹ نے باپ کی درخواست خارج کرتے ہوئے فیصلے کی کاپی لاء اینڈ جسٹس کمیشن اور وزارتِ قانون و انصاف کو بھی بھیجنے کا حکم دیا ہے۔