شہلا رضا اور اولمپئنز نے ہاکی فیڈریشن کے انتخاب مسترد کردیے
اشاعت کی تاریخ: 16th, January 2026 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
کراچی (اسٹاف رپورٹر) ممبر قومی اسمبلی و رکن اسٹینڈنگ کمیٹی بین الصوبائی رابطہ سیدہ شہلا رضا اور مایہ ناز اولمپئنز نے ہاکی فیڈریشن کے انتخابی عمل اور اسکروٹنی کو یکسر مسترد کرتے ہوئے شدید تحفظات کا اظہار کر دیا۔ کراچی پریس کلب میں اولمپئنز سمیع اللہ، کلیم اللہ، حنیف خان، ناصر علی و دیگر کے ہمراہ پریس کانفرنس کرتے ہوئے شہلا رضا نے کہا کہ وہ 2022 سے فیڈریشن کو بدعنوان ٹولے سے نجات دلانے کی جنگ لڑ رہی ہیں اور اسکروٹنی کے موجودہ عمل کو کسی صورت تسلیم نہیں کیا جائے گا۔ انہوں نے ڈی جی پاکستان اسپورٹس بورڈ یاسر پیرزادہ پر جانبداری کا الزام عائد کرتے ہوئے کہا کہ پی ایس بی نے اسٹینڈنگ کمیٹی کی ہدایات کے برعکس فیڈریشن کے قابض گروہ کو نوازنے کی کوشش کی۔اولمپئن ناصر علی نے بتایا کہ فیلڈ مارشل عاصم منیر ہاکی کے معاملات سے باخبر ہیں اور انہوں نے کور کمانڈر کراچی کو اولمپئنز سے ملاقات کی ہدایت دی ہے۔ سابق کپتان حنیف خان نے وزیراعظم شہباز شریف سے مطالبہ کیا کہ فیڈریشن میں فوری ایڈہاک لگا کر کسی غیر جانبدار شخص کو نگران مقرر کیا جائے اور ڈی جی اسپورٹس بورڈ کو عہدے سے فارغ کیا جائے۔ شرکا نے واضح کیا کہ اگر اسپورٹس بورڈ نے اپنے الیکشن کمیشن کی نگرانی میں شفاف انتخابات نہ کرائے تو وہ احتجاج جاری رکھیں گے اور کسی بھی غیر قانونی عمل کو کامیاب نہیں ہونے دیں گے۔
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
پڑھیں:
گورنر خیبر پختونخوا کی وزیراعظم سے ضم شدہ اضلاع کیلئے ٹیکس استثنیٰ بحال کرنے کی درخواست
فیصل کریم کنڈی نے خط میں کہا کہ صوبائی حکومت ضم شدہ اضلاع اور پاٹا کے تمام صوبائی ٹیکس ختم کر چکی ہے، تاہم وفاقی ٹیکسز کے خاتمے کے بغیر قبائلی عوام کو مکمل ٹیکس ریلیف نہیں مل سکتا۔ اسلام تائمز۔ گورنر خیبر پختونخوا فیصل کریم کنڈی نے وزیراعظم پاکستان کے نام خط لکھ کر ضم شدہ قبائلی اضلاع اور پاٹا کے لیے وفاقی ٹیکس استثنیٰ بحال کرنے اور اس میں توسیع کی درخواست کی ہے۔ انہوں نے کہا کہ وفاقی ٹیکس استثنیٰ بحال کر کے انضمام کے وقت کیے گئے وعدوں کی پاسداری کی جائے۔ گورنر فیصل کریم کنڈی نے خط میں مطالبہ کیا کہ قبائلی اضلاع اور پاٹا میں انکم ٹیکس، سیلز ٹیکس اور دیگر وفاقی محصولات کے نفاذ پر نظرثانی کی جائے۔ انہوں نے کہا کہ صوبائی حکومت ضم شدہ اضلاع اور پاٹا کے تمام صوبائی ٹیکس ختم کر چکی ہے، تاہم وفاقی ٹیکسز کے خاتمے کے بغیر قبائلی عوام کو مکمل ٹیکس ریلیف نہیں مل سکتا۔
انہوں نے تجویز دی کہ وفاقی اور صوبائی حکومتوں پر مشتمل مشترکہ کمیٹی قائم کر کے قبائلی اضلاع کی معاشی صورتحال کا جائزہ لیا جائے۔ ان کا کہنا تھا کہ نئے ٹیکسوں کے نفاذ سے قبل ضم شدہ اضلاع اور پاٹا کی معاشی و مالی صورتحال کا جائزہ لینا ضروری ہے، جبکہ ٹیکسوں کا معاملہ مشترکہ مفادات کونسل یا کسی مناسب آئینی فورم پر فوری طور پر پیش کیا جائے۔
گورنر خیبر پختونخوا نے کہا کہ قبائلی عوام نے پاکستان کے امن، استحکام اور سلامتی کے لیے بے مثال قربانیاں دی ہیں۔ وفاق اور صوبے کی یکساں ٹیکس پالیسی قبائلی عوام کا ریاست پر اعتماد بحال کرنے میں مددگار ثابت ہوگی، جبکہ ٹیکس ریلیف سے ضم شدہ اضلاع کی سماجی و معاشی ترقی اور قومی دھارے میں انضمام کا عمل مزید تیز ہوگا۔