Jasarat News:
2026-07-24@04:04:53 GMT

خلافتِ انسانی

اشاعت کی تاریخ: 16th, January 2026 GMT

data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">

قرآن نے تاریخِ انسانی کے اس بالکل ابتدائی ماجرے (تخلیق آدمؑ) کو محض ایک کہانی کے طور پر نہیں سنایا ہے، بلکہ اس کے سنانے سے اصل مقصود چند اجتماعی و سیاسی حقیقتوں کی ابتدا کا سراغ دینا ہے۔ اس سے ’خلافت‘ کے تصوّر سے متعلق جو حقیقتیں ہمارے سامنے آتی ہیں، وہ مندرجہ ذیل ہیں:
ایک یہ کہ ’خلافت‘ کا وجود خود انسانی فطرت کا بُرُوْز (مظہر) ہے۔ یہ کوئی ایسی چیز نہیں ہے جو انسان کو خارج سے لاحق ہوگئی ہو بلکہ اللہ نے اس کو اس منصب کے لیے پیدا کیا ہے اور اس کا شعور اس کے اندر ودیعت کیا ہے۔ وہ جب سے بھی اس دنیا پر ہے اس شعور کے ساتھ ہے اور اسی شعور نے اس کو سیاسی زندگی پر اُکسایا ہے۔ اس نے سیاسی زندگی مصنوعی طور پر نہیں اختیار کی ہے اور نہ بے ضرورت اختیار کی ہے، بلکہ یہ اس کی فطرت کا تقاضا ہے، جس کے پورا کیے بغیر اس کی شخصیت کی تکمیل ہو ہی نہیں سکتی۔

دوسری یہ کہ اس زمین پر انسان کا فطری منصب خودمختار اور مطلق العنان ہستی کا نہیں ہے بلکہ اللہ تعالیٰ کے ’خلیفہ‘ اور ’نائب‘ کا ہے۔ اس کو ایک خاص دائرے کے اندر تصرف کا اختیار تو حاصل ہے لیکن یہ اختیار اس کا ذاتی نہیں ہے بلکہ اللہ تعالیٰ کا تفویض کردہ ہے۔ اس وجہ سے اس کا وہی تصرف جائز اور معقول ہے جو اللہ تعالیٰ کے مقرر کردہ حدود کے اندر ہو، ان سے ہٹ کر نہ ہو۔ اس نیابت کے تصوّر کا ایک لازمی تقاضا یہ بھی ہے کہ اس کو اپنے ہر اس تصرف کے لیے جواب دہی کرنی پڑے گی، جو اصل مُستخلِف، یعنی اللہ تعالیٰ کے منشا کے خلاف ہو۔
تیسری یہ کہ اس میں اصل حاکمیت اللہ تعالیٰ کی ہے، نہ کہ انسانوں کی۔ اس میں قانون سازی اور تصرف کے جو اختیارات انسانوں کو حاصل ہیں وہ اللہ تعالیٰ کے نازل کردہ احکام کے تحت ہیں، یا پھر ان دائروں کے اندر ہیں جن میں اللہ تعالیٰ نے انسان کو آزاد چھوڑا ہے۔

چوتھی یہ کہ منشاے تخلیق کے اعتبار سے تو اس منصب کے اہل سارے ہی انسان ہیں۔ اس کی ذمے داریاں اُٹھانے کے لیے جو صلاحیتیں درکار ہیں، وہ بھی ہر ایک کے اندر ودیعت ہیں۔ لیکن، انسان اس منصب پر مجبور نہیں کیا گیا ہے، بلکہ اس کو آزادی حاصل ہے کہ وہ چاہے تو اس کو اختیار کرے اور نہ چاہے تو نہ اختیار کرے۔ وہ اللہ کے حدود کا پابند رہ کر اس کا خلیفہ بھی بن سکتا ہے اور ان حدود سے آزاد ہوکر اس کا باغی بھی بن سکتا ہے۔ جس طرح ہر انسان کو اللہ تعالیٰ نے پیدا تو کیا ہے اپنی بندگی ہی کے لیے، لیکن کسی کو اس بندگی پر مجبور نہیں کیا ہے بلکہ ہر ایک کو آزاد چھوڑا ہے: وہ بندگی کرے یا نہ کرے۔ اسی طرح اس خلافت پر بھی اس نے کسی کو مجبور نہیں کیا ہے۔

پانچویں یہ کہ اس منصب کی ذمے داریوں کی ادایگی میں انسان اگر اس اسکیم کی پابندی نہ کرے، جو اللہ تعالیٰ نے اس کے لیے پسند فرمائی ہے، تو انسان کا فساد اور خوں ریزی میں مبتلا ہوجانا بہت اقرب ہے۔
چھٹی یہ کہ اللہ تعالیٰ نے اس بات کو مبہم نہیں چھوڑا ہے کہ وہ اپنی زمین کے انتظام کے سلسلے میں کس چیز کو پسند کرتا ہے اور کس چیز کو پسند نہیں کرتا۔ یہ عین منصبِ خلافت کی فطرت کا تقاضا ہے کہ اللہ تعالیٰ، انسان کو اپنی پسند و ناپسند اور اپنے احکام و ہدایات سے باخبر رکھنے کا انتظام کرے۔ چنانچہ فرشتوں کو جو شبہہ تھا کہ انسان، خلافت پاکر فساد و خوں ریزی میں مبتلا ہوجائے گا، وہ اسی بات سے دُور ہوا کہ اولادِ آدم میں نبوت و رسالت کا سلسلہ بھی جاری ہوگا اور ان کی ہدایت کے لیے اللہ تعالیٰ اپنی کتابیں اور اپنی شریعت بھی نازل فرمائے گا۔

ساتویں یہ کہ ’خلافت‘ کی اساس قوم یا وطن یا نسل اور نسب کے تصوّرات پر نہیں ہے بلکہ یہ اپنے مزاج اور اپنی فطرت کے لحاظ سے ایک اصولی اور جہانی ریاست ہے۔
آٹھویں یہ کہ، یہ نظام کامل مساوات کے اصول پر قائم ہے۔ اس میں ’خلافت‘ کا منصب کسی خاص شخص، گروہ یا طبقے کو حاصل نہیں ہے بلکہ اصلاً ہر شخص کو حاصل ہے۔ اس میں اگر کسی کو کسی پر ترجیح حاصل ہوتی ہے تو وہ محض اہلیت و صلاحیت کی بنا پر اور یہ بھی سب کے مشورے اور مرضی سے۔

مولانا امین احسن اصلاحیؒ گلزار.

ذریعہ

ذریعہ: Jasarat News

کلیدی لفظ: کہ اللہ تعالی نہیں ہے بلکہ انسان کو کے اندر اس کو ا کیا ہے کے لیے ہے اور

پڑھیں:

5 اگست کو پاکستان تحریک انصاف کیا کرنے جا رہی ہے؟

پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے بانی اور سابق وزیراعظم عمران خان کی اڈیالہ جیل میں قید کے 3 سال مکمل ہونے پر پارٹی 5 اگست کو احتجاجی پروگرام پر غور کر رہی ہے تاہم پارٹی ذرائع کے مطابق اس حوالے سے مرکزی قیادت کے اندر ابھی تک مکمل اتفاق رائے نہیں ہو سکا جس کے باعث حتمی احتجاجی کال جاری نہیں کی گئی۔

یہ بھی پڑھیں: 5 اگست کے احتجاج پر پی ٹی آئی کی واضح حکمت عملی اب تک سامنے نہ آسکی

پارٹی ذرائع کا کہنا ہے کہ عمران خان کی ہمشیرہ علیمہ خان اڈیالہ جیل کے باہر بھرپور احتجاج کی حامی ہیں۔ ان کے مؤقف کے مطابق پارٹی کے ارکان قومی و صوبائی اسمبلی، سینیٹرز اور کارکنوں کو جیل کے باہر جمع ہونا چاہیے تاکہ عمران خان کی قید کے خلاف مؤثر پیغام دیا جا سکے۔

دوسری جانب ذرائع کے مطابق پارٹی کے بعض سینیئر رہنما، جن میں چیئرمین بیرسٹر گوہر علی خان بھی شامل ہیں، لاہور میں احتجاج یا کسی متبادل پروگرام کے حق میں دکھائی دیتے ہیں۔

بڑی احتجاجی کال پر تحفظات

پارٹی ذرائع کے مطابق متعدد ارکان قومی و صوبائی اسمبلی نے قیادت کو آگاہ کیا ہے کہ مہنگائی، مقدمات کے خدشات اور مسلسل احتجاجی سرگرمیوں کے باعث عوام پہلے جیسی تعداد میں سڑکوں پر آنے کے لیے تیار نہیں۔

ذرائع کے مطابق بعض رہنماؤں کی رائے ہے کہ ہر رکن اپنے اپنے حلقے میں علامتی یا ٹوکن احتجاج کرے اور عوام کو یہ پیغام دے کہ عمران خان کی قید کو 3 سال مکمل ہو گئے ہیں۔

مزید پڑھیے: اڈیالہ جیل کے باہر ہنگامہ آرائی، پی ٹی آئی میں انتشار کھل کر سامنے آگیا، جماعت کے سیاسی کلچر پر سنگین سوالات

پارٹی کے ایک حلقے کی جانب سے یہ تجویز بھی سامنے آئی ہے کہ 5 اگست کو کسی بڑے احتجاجی پروگرام سے گریز کیا جائے تاکہ کارکنوں اور رہنماؤں کو مزید گرفتاریوں اور مقدمات کا سامنا نہ کرنا پڑے۔

ذرائع کے مطابق ابھی تک یہ طے نہیں ہو سکا کہ احتجاج، ریلی، جلسہ یا کسی اور شکل میں ہوگا۔ علیمہ خان کی اڈیالہ جیل کے باہر احتجاج کی تجویز پر بھی پارٹی کے بیشتر رہنما متفق نہیں جبکہ متعدد رہنما محدود یا علامتی احتجاج کے حق میں ہیں۔

9 مئی کے بعد بڑا احتجاج منظم نہ ہو سکا

پارٹی ذرائع کے مطابق 9 مئی 2023 کے واقعات کے بعد پی ٹی آئی بڑے پیمانے پر کوئی کامیاب احتجاجی تحریک منظم نہیں کر سکی۔

26 نومبر کو خیبر پختونخوا کے سابق وزیراعلیٰ علی امین گنڈاپور اور بشریٰ بی بی کی قیادت میں عمران خان کی رہائی کے لیے اسلام آباد کی جانب مارچ کیا گیا تاہم یہ احتجاج کسی واضح نتیجے کے بغیر ختم ہو گیا۔

مزید پڑھیں: پی ٹی آئی کا علیمہ خان اور بشریٰ بی بی کو ایکسپوز کرنے کا فیصلہ، اقبال آفریدی سے عہدہ واپس

اس احتجاج کے بعد پارٹی کے متعدد کارکنوں اور رہنماؤں کی گرفتاریاں ہوئیں جس کے بعد پارٹی کسی بڑے احتجاجی منصوبے کا اعلان نہیں کر سکی۔ اس دوران مختلف مواقع پر ریلیاں اور مظاہرے بھی کیے گئے تاہم حکومتی اقدامات اور دیگر عوامل کے باعث وہ مطلوبہ نتائج حاصل نہ کر سکے۔

عمران خان کی قید کو 3 سال مکمل

عمران خان 5 اگست 2023 سے اڈیالہ جیل میں قید ہیں۔ اس عرصے کے دوران ان کے خلاف متعدد مقدمات درج کیے گئے جنہیں پاکستان تحریک انصاف سیاسی انتقام قرار دیتی ہے۔

پارٹی کی جانب سے مختلف مواقع پر عمران خان کی صحت، خصوصاً آنکھوں کے مسائل، اہلخانہ اور وکلا سے ملاقاتوں میں مبینہ رکاوٹوں اور عدالتی احکامات پر عمل درآمد سے متعلق تحفظات کا اظہار بھی کیا جاتا رہا ہے۔

5 اگست کی روایت برقرار رہے گی؟

گزشتہ برسوں میں پاکستان تحریک انصاف 5 اگست کو مختلف شہروں میں احتجاج، ریلیوں اور پرامن مظاہروں کے ذریعے عمران خان کی رہائی کے مطالبات اٹھاتی رہی ہے۔

یہ بھی پڑھیے: خیبرپختونخوا میں پی ٹی آئی کے بڑھتے اندرونی اختلافات سے پشاور کے عوام پریشان

ذرائع کے مطابق اس سال بھی ضلعی سطح پر مشاورت اور تیاریاں جاری ہیں تاہم مرکزی قیادت کی جانب سے ملک گیر احتجاج یا کسی بڑے پروگرام کے بارے میں حتمی فیصلہ ابھی سامنے نہیں آیا۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

اڈیالہ جیل بشریٰ بی بی پاکستان تحریک انصاف پی ٹی آئی پی ٹی آئی کا 5 اگست کو احتجاج علی امین گنڈاپور عمران خان کے قید میں 3 برس

متعلقہ مضامین

  • بھارت امن دشمن ہے، جموں و کشمیر نہ اُس کا اٹوٹ انگ ہے اور نہ ہی داخلی معاملہ، پاکستان
  • 5 اگست کو پاکستان تحریک انصاف کیا کرنے جا رہی ہے؟
  • عطا اللہ تارڑ نے اب تک معافی نہیں مانگی، وزیراعظم وزرا کے تضحیک آمیز رویے کا نوٹس لیں، سحر کامران
  • قائداعظم کے بارے میں سازشی تھیوریز نہ گھڑیں
  • شہدا ء کا مقام اور فضیلت
  • باب المندب بند۔ آگے کیا ہوگا؟
  • پاکستان کا موقف اور خطے میں امن کا تقاضا
  • ایران عرب ممالک پر نہیں بلکہ شیطانی اور دہشتگردی کے اڈوں پر حملے کر رہا ہے، علامہ رمضان توقیر
  • جاپان نے شدید گرمی سے بچاؤ کے لیے ‘انسانی ریفریجریٹر’ تیار کرلیا
  • حیسکو میں ایک ارب 6 کروڑ سے زائد کی کرپشن کا انکشاف