Jasarat News:
2026-06-02@23:53:09 GMT

خلافتِ انسانی

اشاعت کی تاریخ: 16th, January 2026 GMT

data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">

قرآن نے تاریخِ انسانی کے اس بالکل ابتدائی ماجرے (تخلیق آدمؑ) کو محض ایک کہانی کے طور پر نہیں سنایا ہے، بلکہ اس کے سنانے سے اصل مقصود چند اجتماعی و سیاسی حقیقتوں کی ابتدا کا سراغ دینا ہے۔ اس سے ’خلافت‘ کے تصوّر سے متعلق جو حقیقتیں ہمارے سامنے آتی ہیں، وہ مندرجہ ذیل ہیں:
ایک یہ کہ ’خلافت‘ کا وجود خود انسانی فطرت کا بُرُوْز (مظہر) ہے۔ یہ کوئی ایسی چیز نہیں ہے جو انسان کو خارج سے لاحق ہوگئی ہو بلکہ اللہ نے اس کو اس منصب کے لیے پیدا کیا ہے اور اس کا شعور اس کے اندر ودیعت کیا ہے۔ وہ جب سے بھی اس دنیا پر ہے اس شعور کے ساتھ ہے اور اسی شعور نے اس کو سیاسی زندگی پر اُکسایا ہے۔ اس نے سیاسی زندگی مصنوعی طور پر نہیں اختیار کی ہے اور نہ بے ضرورت اختیار کی ہے، بلکہ یہ اس کی فطرت کا تقاضا ہے، جس کے پورا کیے بغیر اس کی شخصیت کی تکمیل ہو ہی نہیں سکتی۔

دوسری یہ کہ اس زمین پر انسان کا فطری منصب خودمختار اور مطلق العنان ہستی کا نہیں ہے بلکہ اللہ تعالیٰ کے ’خلیفہ‘ اور ’نائب‘ کا ہے۔ اس کو ایک خاص دائرے کے اندر تصرف کا اختیار تو حاصل ہے لیکن یہ اختیار اس کا ذاتی نہیں ہے بلکہ اللہ تعالیٰ کا تفویض کردہ ہے۔ اس وجہ سے اس کا وہی تصرف جائز اور معقول ہے جو اللہ تعالیٰ کے مقرر کردہ حدود کے اندر ہو، ان سے ہٹ کر نہ ہو۔ اس نیابت کے تصوّر کا ایک لازمی تقاضا یہ بھی ہے کہ اس کو اپنے ہر اس تصرف کے لیے جواب دہی کرنی پڑے گی، جو اصل مُستخلِف، یعنی اللہ تعالیٰ کے منشا کے خلاف ہو۔
تیسری یہ کہ اس میں اصل حاکمیت اللہ تعالیٰ کی ہے، نہ کہ انسانوں کی۔ اس میں قانون سازی اور تصرف کے جو اختیارات انسانوں کو حاصل ہیں وہ اللہ تعالیٰ کے نازل کردہ احکام کے تحت ہیں، یا پھر ان دائروں کے اندر ہیں جن میں اللہ تعالیٰ نے انسان کو آزاد چھوڑا ہے۔

چوتھی یہ کہ منشاے تخلیق کے اعتبار سے تو اس منصب کے اہل سارے ہی انسان ہیں۔ اس کی ذمے داریاں اُٹھانے کے لیے جو صلاحیتیں درکار ہیں، وہ بھی ہر ایک کے اندر ودیعت ہیں۔ لیکن، انسان اس منصب پر مجبور نہیں کیا گیا ہے، بلکہ اس کو آزادی حاصل ہے کہ وہ چاہے تو اس کو اختیار کرے اور نہ چاہے تو نہ اختیار کرے۔ وہ اللہ کے حدود کا پابند رہ کر اس کا خلیفہ بھی بن سکتا ہے اور ان حدود سے آزاد ہوکر اس کا باغی بھی بن سکتا ہے۔ جس طرح ہر انسان کو اللہ تعالیٰ نے پیدا تو کیا ہے اپنی بندگی ہی کے لیے، لیکن کسی کو اس بندگی پر مجبور نہیں کیا ہے بلکہ ہر ایک کو آزاد چھوڑا ہے: وہ بندگی کرے یا نہ کرے۔ اسی طرح اس خلافت پر بھی اس نے کسی کو مجبور نہیں کیا ہے۔

پانچویں یہ کہ اس منصب کی ذمے داریوں کی ادایگی میں انسان اگر اس اسکیم کی پابندی نہ کرے، جو اللہ تعالیٰ نے اس کے لیے پسند فرمائی ہے، تو انسان کا فساد اور خوں ریزی میں مبتلا ہوجانا بہت اقرب ہے۔
چھٹی یہ کہ اللہ تعالیٰ نے اس بات کو مبہم نہیں چھوڑا ہے کہ وہ اپنی زمین کے انتظام کے سلسلے میں کس چیز کو پسند کرتا ہے اور کس چیز کو پسند نہیں کرتا۔ یہ عین منصبِ خلافت کی فطرت کا تقاضا ہے کہ اللہ تعالیٰ، انسان کو اپنی پسند و ناپسند اور اپنے احکام و ہدایات سے باخبر رکھنے کا انتظام کرے۔ چنانچہ فرشتوں کو جو شبہہ تھا کہ انسان، خلافت پاکر فساد و خوں ریزی میں مبتلا ہوجائے گا، وہ اسی بات سے دُور ہوا کہ اولادِ آدم میں نبوت و رسالت کا سلسلہ بھی جاری ہوگا اور ان کی ہدایت کے لیے اللہ تعالیٰ اپنی کتابیں اور اپنی شریعت بھی نازل فرمائے گا۔

ساتویں یہ کہ ’خلافت‘ کی اساس قوم یا وطن یا نسل اور نسب کے تصوّرات پر نہیں ہے بلکہ یہ اپنے مزاج اور اپنی فطرت کے لحاظ سے ایک اصولی اور جہانی ریاست ہے۔
آٹھویں یہ کہ، یہ نظام کامل مساوات کے اصول پر قائم ہے۔ اس میں ’خلافت‘ کا منصب کسی خاص شخص، گروہ یا طبقے کو حاصل نہیں ہے بلکہ اصلاً ہر شخص کو حاصل ہے۔ اس میں اگر کسی کو کسی پر ترجیح حاصل ہوتی ہے تو وہ محض اہلیت و صلاحیت کی بنا پر اور یہ بھی سب کے مشورے اور مرضی سے۔

مولانا امین احسن اصلاحیؒ گلزار.

ذریعہ

ذریعہ: Jasarat News

کلیدی لفظ: کہ اللہ تعالی نہیں ہے بلکہ انسان کو کے اندر اس کو ا کیا ہے کے لیے ہے اور

پڑھیں:

جنگ امن اور معیشت کی کہانی

پاکستان کو اگر ترقی کے تناظر میں آگے بڑھنا ہے تواسے معاشی ترقی کو بنیاد بنانا ہوگا۔سیاست بھی عام آدمی یا محروم طبقات کے مفادات یا ان کو معاشی طور پر مستحکم کرنے سے جڑی ہونی چاہیے۔یہ عمل اس وقت تک ممکن نہیں جب تک اول ہم داخلی ،علاقائی اور خارجی محاذ پر موجود تنازعات سے باہر نہیں نکلیں گے۔

دوئم ہمیں اپنے داخلی نظام میں شفافیت، جوابدہی،احتساب ،درست ترجیحات کا تعین ،وسائل کی منصفانہ تقسیم اور ادارہ جاتی عمل کو مضبوط کرنے اور ان کو آئین اور قانون کی حکمرانی کے تابع کرنے سے جوڑنا ہوگا۔امن ہماری بنیادی ضرورت ہے اور اہم بات یہ ہے کہ اس نظام میں وہ لوگ جو مختلف سیاسی ،سماجی اور معاشی یا قانونی انصاف کی محرومی کا شکار ہیں ان کونظرانداز کرکے ہم معاشی ترقی کے اہداف حاصل نہیں کرسکیں گے۔ لوگوںکے ذہن میں موجود سیاسی اور معاشی نظام نے اس کے مسائل کو اور زیادہ گھمبیر بنادیا ہے۔

علاقائی سیاست میں جو نئی تبدیلیاں رونما ہورہی ہیں ہمیں اس کے لیے جہاں اپنی علاقائی سطح کی پالیسیوں پر نئی فکر اور سوچ کو اختیار کرنا ہے وہیں اسی کی بنیاد پر اپنی داخلی سیاست کے خدوخال یا دائرہ کار میں بھی بنیادی نوعیت کی تبدیلیوں کی ضرورت ہے ۔بالخصوص جب ہمیں ایک ہی وقت میں بھارت اور افغانستان سے جنگ یا کشیدگی کا سامنا ہے یا ان دونوں ممالک کی بنیاد پر پاکستان مخالف گٹھ جوڑ یا ان کی پاکستان مخالف پراکسی کی موجودگی میں ہم اپنی داخلی اور علاقائی سیاست کو کیسے مضبوط کرسکیں گے ،اہم سوال بنتا ہے ۔

کیونکہ اب جو ہم نئی تبدیلیاں علاقائی یا خلیجی ممالک کی سطح پر دیکھ رہے ہیں اور جس انداز سے یو اے ای سمیت دیگر خلیجی ممالک کی پالیسیوں میں تبدیلیاں پیدا ہورہی ہیں اس میں ہمیں بھی ایک نئے فریم ورک کی ضرورت ہے ۔اسی طرح چین،روس،امریکا کی سطح پر جو حالات بن رہے ہیں ان میں ہمارے تعلقات کی نوعیت یاسیاسی و معاشی روابط کی بنیاد کیا ہوگی ۔بنیادی سوال انسانی ترقی کا ہے ۔لیکن کیا انسانی ترقی کے اس ماڈل میں ہم صرف اسلحہ اور جنگوں پر وسائل خرچ کرکے یا اپنے دفاع کو مضبوط کرکے انسانی ترقی کو نئی جہت دے سکیں گے اس پر سنجیدگی سے غور کرنے کی ضرورت ہے ۔اس میں کوئی شک نہیں کہ کسی بھی ریاست کا دفاع اس کی بنیادی ضرورت بنتا ہے اور بالخصوص موجودہ حالات میں دفاع کا مضبوط ہونا اہم ہے ۔لیکن اسی تناظر میں ایک متوازن پالیسی دفاع اور انسانی ترقی کی بنیاد پر قائم ہونی چاہیے اور یہ ہی تعلق بنیادی طور پر ریاست،حکومت اور شہریوں کے درمیان تعلقات کو مضبوط بنانے اس کی ساکھ کو قائم کرنے میں مدد دے گا۔

بدقسمتی سے ہمیں علاقائی تعلقات کی بحالی میں جو تعاون بھارت اور افغانستان سے درکار ہے، اس میں کافی چیلنجز کا سامنا ہے اور ایسے لگتا ہے کہ ان دونوں ممالک کی ترجیحات میںپاکستان سے تعلقات کو بہتر بنانا ایجنڈے کا حصہ نہیں ۔اگرچہ پچھلے دنوں سے کچھ آوازیں ہمیں بھارت کی جانب سے سننے کو ملی ہیں جہاں کچھ بڑے انفرادی لوگوں نے مودی حکومت کو کہا ہے کہ وہ جنگ کے ماحول سے نکل کر پاکستان سے تعلقات کی بہتری میں بات چیت کے راستے کھولیں ۔لیکن کیا نریندر مودی کی حکومت اس معاملے میں کوئی بڑی پیش رفت دکھاتی ہے، اس پر کچھ کہنا قبل ازوقت ہوگا ۔لیکن ایک بات طے ہے کہ بھارت اور افغانستان سے پاکستان سے تعلقات کی بہتری محض ان ملکوں تک ہی محدود نہیں ہوگی بلکہ مجموعی طور پر علاقائی سیاست میں سیاسی اور معاشی استحکام دیکھنے کو ملے گا۔پا کستان،بھارت اور افغانستان کو تعلقات کی بہتری کے لیے موجودہ کشیدہ حالات کے خاتمہ میں غیر معمولی اقدامات اور اپنے قد سے اوپر اٹھ کر کچھ ایسا کرکے دکھانا ہوگا جو ان ممالک کو ایک دوسرے کے قریب لاسکے ۔لیکن یہ عمل کسی سیاسی تنہائی میں نہیں ہوگا اس میں بڑی طاقتوں جن میں امریکا،چین اور روس کو ایک موثر سطح کا کردار ثالثی کا ادا کرنا ہوگا ۔

کیونکہ پاکستان ،بھارت اور افغانستان کے درمیان جو بھی تعلقات کی بہتری کا فریم ورک بنے گا وہ ان بڑے ممالک کی حمایت اور نگرانی کے ممکن نہیں ہے۔بالخصوص دہشت گردی جو پاکستان، بھارت اور افغانستان کا مشترکہ مسئلہ ہے اس کے لیے عملی طور پر ان ممالک کے درمیان اس سے نمٹنے کے لیے مشترکہ میکنزئم درکار ہے اور یہ عمل عالمی حمایت کے بغیر ممکن نہیں ۔کیونکہ محض الزام تراشی کی بنیاد پر مسائل کا علاج تلاش نہیں کیا جاسکے گا اور نہ ہی ان مسائل کا حل مزید جنگ یا تنازعات کو آگے بڑھانے سے ممکن ہوسکے گا لیکن کیا ہم اپنی اس حکمت عملی نظرثانی کے لیے تیار ہیں اس کا جواب بھی تلاش کرنا ہوگا۔یہ بات طے ہے کہ پاکستان سمیت کوئی بھی ملک اسٹیٹس کو کی بنیاد پر علاقائی تعلقات کی بہتری میں کوئی بڑی مثبت تبدیلیاں پیدا نہیں کرسکے گا اور نہ ہی معاملات بہتری کی طرف جاسکیں گے۔

لیکن سوال یہ ہی بنتا ہے کہ بلی کے گلے میں گھنٹی کون باندھے گا اور کون معاملات کی درستگی کو ممکن بنانے میں پہل کرے گا یا ایسا کیا قدم اٹھائے گا جوعملا دوسروں کو ترغیب دے کہ وہ بھی امن کا راستہ بات چیت کی مدد سے طے کرے ۔مگر یہ جو اعتماد سازی یا بداعتمادی کا بحران ہے اس نے مجموعی طور پر علاقائی سیاست کو ایک بڑے بحران کی طرف دکھیل دیا ہے اور ایسے لگتا ہے کہ ہم اپنی حقیقی منزل سے کافی دور ہیں۔ان دوریوں کو ختم کرنا علاقائی سیاست اور ان میںشامل ممالک کی مشترکہ حکمت عملی کا حصہ ہونا چاہیے۔

جہاں تک پاکستان کا تعلق ہے تو ایک طرف اسے علاقائی سیاست کا چیلنج ہے تو دوسری طرف حالات کی بہتری کے لیے اسے اپنے داخلی سطح کے معاملات کو درست کرنے پر بھی توجہ دینی ہوگی کیونکہ یہ ممکن نہیں کہ ہم اپنے داخلی معاملات کو درست کیے بغیر علاقائی سیاست میں بہت کچھ حاصل کرسکیں گے۔ اس میں کوئی شبہ نہیں کہ موجودہ ایک برس میں ہم نے عالمی اور علاقائی سفارت کاری کی سطح پر اپنی صلاحیتوں کو خوب منوایا ہے اور اس کی ہر سطح پر پزیرائی بھی کی جارہی ہے۔لیکن اس کے باوجود ہم اپنے داخلی معاملات کی درستگی میں کچھ کمزوریوں کے پہلو ہم کو دیکھنے کو ملتے ہیں۔ہم جہاںعالمی ثالثی میں اپنا کردار ادار کررہے ہیں وہیںہماری داخلی سیاست کی تقسیم کے تناظر میں جو سیاسی کشیدگی اور سیاسی دشمنی یا سیاسی ڈیڈ لاک اسے بھی ختم کرنا ریاست اور حکمرانوں کی ذمے داری کے زمرے میں آتا ہے ۔یہ تسلیم کرنا ہوگا کہ ہماری سیاسی تقسیم نے ہمیں مجموعی طور پر نہ صرف تقسیم کردیا ہے بلکہ اس کے نتیجے میں کشیدگی بھی بڑھ رہی ہے ۔اسی طرح قومی سیکیورٹی یا دہشت گردی سے جڑے مسائل بھی اہم ہیں اور موجودہ دہشت گردی کے داخلی واقعات نے ہمارے لیے سنجیدہ سوالات اٹھائے ہیں ۔

بلوچستان اور خیبر پختونخواہ میں مسلسل دہشت گردی جاری رہنا یا وہاں تسلسل کے ساتھ دہشت گردی کے واقعات کا ہونا، ہماری داخلی کمزوریوں کی نشاندہی کرتا ہے ۔گورننس سے جڑے معاملا ت کا حل تلاش نہ کرنا بھی ہماری مسلسل ناکامی کی نشاندہی کرتا ہے ۔18ویں ترمیم کے باوجود وفاق اور صوبوں کے درمیان گورننس سے مسائل کا حل تلاش نہ کرنا اور اس کا عام فرد پر براہ راست اثر انداز ہونالوگوں میںنظام کے بارے میں ایک بڑے ردعمل کی سیاست پیدا کررہا ہے۔یہ جو ہمارے ملک میں سرمائے کی کمی یا سرمایہ کاری کے نہ ہونے کا داخلی اور خارجی بحران ہے اس کی چند بڑی وجوہات میں ایک وجہ گورننس یا ادارہ جاتی نظام کی ناکامی سے جڑا ہوا بھی پہلو ہے۔

اگر ہم نے داخلی معاملات کو درست نہ کرنے کی سیاسی روش کو برقرار رکھا اور پرانے خیالات کے ساتھ ہی نظام کو چلانا ہے تو یہ نظام جدید تقاضوں کے مطابق نہیں چل سکے گا۔اہم نقطہ یہ ہے کہ پاکستان کے پالیسی سازوں کی عملا ترجیحات میں ہمیں مسلسل کمزوری کے پہلو دیکھنے کو مل رہے ہیں۔ان امور کی نشاندہی مسلسل عالمی مالیاتی ادارے اور تھنک ٹینک بھی پیش کررہے ہیں کہ ہم اپنی داخلی درستگی کے لیے وہ کچھ نہیں کررہے جو ہمیں کرنا چاہیے۔سوال یہ ہی ہے کہ کیا ہم اپنی ترجیحات کو تبدیل کرسکیں گے یا ان تبدیلیوں کے تناظر میں ملک کی سطح پر کوئی بڑے دباؤ کی سیاست کو پیدا کیا جاسکے گا۔کیونکہ بدقسمتی سے جہاں حکمرانی کا نظام کمزور ہوا ہے وہیں دباو ڈالنے والی سیاست اور اس سے جڑے فریق بھی کمزور ہوئے ہیں،یہ بڑا المیہ بھی ہے۔

متعلقہ مضامین

  • سرمایہ کاری نہیں قرضے ترجیح کب تک
  • ناتمام (آخری قسط)
  • جو زہر ہم ہوا میں بو رہے ہیں
  • جنگ امن اور معیشت کی کہانی
  • ایران کے شہید سپریم لیڈر علی خامنہ ای کی تدفین مشہد میں ہوگی، تیاریاں شروع
  • جسٹس ریٹائرڈ مقبول باقر سندھ انسانی حقوق کمیشن کے چیئرپرسن مقرر
  • شہید آیت اللہ خامنہ ای کی تدفین کی تیاریاں، 3 روزہ تقریبات کا اعلان
  • بی جے پی کو پیپر لیک سے نہیں بلکہ اس ایشو پر بات کرنے سے مسئلہ ہے، اروند کیجریوال
  • ٹرمپ کی خام خیالی تھی وہ ہمیں مذاکرات میں لگاکر حزب اللہ کیخلاف کارروائیاں کریں گے، ایرانی سفیر
  • وفاقی بجٹ5جون کو پیش نہیں کیا جائے گا