مچل اسٹارک آئی سی سی پلیئر آف دی منتھ قرار، دسمبر 2025 کا اعزاز آسٹریلوی فاسٹ بولر کے نام
اشاعت کی تاریخ: 16th, January 2026 GMT
آسٹریلیا کے مایہ ناز فاسٹ بولر مچل اسٹارک کو دسمبر 2025 کے لیے آئی سی سی مینز پلیئر آف دی منتھ منتخب کر لیا گیا ہے، یہ اعزاز انہیں ایشز سیریز میں شاندار آل راؤنڈ کارکردگی اور میچ وننگ پرفارمنس کے اعتراف میں دیا گیا۔
For his heroics in Australia's Ashes triumph, Mitchell Starc has been crowned the ICC Men's Player of the Month for December 2025 ⚡
Read more ???? https://t.
— ICC (@ICC) January 15, 2026
دبئی میں آئی سی سی کی جانب سے جاری بیان کے مطابق مچل اسٹارک نے ویسٹ انڈیز کے بیٹر جسٹن گریوز اور نیوزی لینڈ کے فاسٹ بولر جیکب ڈفی کو پیچھے چھوڑتے ہوئے یہ اعزاز حاصل کیا۔ ایشز سیریز میں اسٹارک نے ابتدا ہی میں پرتھ ٹیسٹ میں 10 وکٹیں حاصل کر کے سیریز کا رخ آسٹریلیا کے حق میں موڑ دیا، جبکہ برسبین ٹیسٹ میں مزید 8 وکٹیں لے کر اپنی برتری برقرار رکھی۔
یہ بھی پڑھیں:تیسرا ایشز ٹیسٹ: بین اسٹوکس مچل اسٹارک کی گیند پر آؤٹ ہوکر آپے سے باہر، ویڈیو وائرل
دسمبر کے دوران انہوں نے ایڈیلیڈ اور میلبورن ٹیسٹ میں بھی چار، چار وکٹیں حاصل کیں اور یوں مہینے کے اختتام تک 16 وکٹیں اپنے نام کیں۔
اسٹارک نے بیٹنگ میں بھی اہم کردار ادا کیا اور برسبین و ایڈیلیڈ میں نصف سنچریاں اسکور کر کے نچلے نمبر پر قیمتی رنز فراہم کیے، جس کی بدولت آسٹریلیا نے 5 ٹیسٹ میچوں کی سیریز میں ناقابلِ شکست 3-0 برتری حاصل کی۔
ایشز سیریز میں آسٹریلیا نے مجموعی طور پر 4-1 سے کامیابی حاصل کی، جبکہ مچل اسٹارک 31 وکٹوں کے ساتھ سیریز کے سب سے کامیاب بولر رہے اور پلیئر آف دی سیریز کا اعزاز بھی اپنے نام کیا۔
اعزاز حاصل کرنے پر مچل اسٹارک نے کہا کہ ہوم گراؤنڈ پر ایشز جیسی تاریخی سیریز جیتنے کے بعد یہ اعزاز ملنا ان کے لیے باعثِ فخر ہے، اور ٹیم آئندہ ورلڈ ٹیسٹ چیمپیئن شپ فائنل کے لیے اسی رفتار کو برقرار رکھنے کی کوشش کرے گی۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
آسٹریلین بولر پلیئر آف دی منتھ فاسٹ بولر مچل اسٹارک
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: ا سٹریلین بولر پلیئر ا ف دی منتھ فاسٹ بولر مچل اسٹارک
پڑھیں:
کالم نگار کو بیوروکریسی کے بارے میں مبینہ ریمارکس پر نوٹس صرف مؤقف حاصل کرنے کے لیے جاری کیا گیا تھا، اس پر کوئی ایف آئی آر درج نہیں کی گئی، سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے اطلاعات و نشریات کے اجلاس میں این سی سی آئی کی بریفنگ
اسلام آباد (ڈیلی پاکستان آن لائن)سینیٹر سرمد علی کی قائم مقام صدارت میں پی ٹی وی ہیڈ کوارٹر اسلام آباد میں سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے اطلاعات و نشریات کا اجلاس منعقد ہوا جس میں این سی سی آئی اے کی جانب سے سوشل میڈیا کے اعداد و شمار اور میٹا کی جانب سے قابلِ اعتراض مواد ہٹانے کے حوالے سے بریفنگ دی گئی۔ این سی سی آئی اے نے واضح کیا کہ اس سے قبل کمیٹی کو جو اعداد و شمار فراہم کیے گئے تھے، وہ میٹا کے عوامی سطح پر دستیاب ڈیٹا پر مبنی تھے۔ کمیٹی نے اس وضاحت کو قبول کیا اور تصدیق شدہ حقائق کی بنیاد پر ذمہ دارانہ رپورٹنگ کی ضرورت پر زور دیا۔
کمیٹی نے بیوروکریسی کے بارے میں مبینہ متنازعہ ریمارکس پر ایک اخبار کے کالم نگار کو نوٹس جاری کرنے کے معاملے کا بھی جائزہ لیا۔ این سی سی آئی اے نے کمیٹی کو بتایا کہ یہ نوٹس پاس (PAS) افسران ایسوسی ایشن کے صدر کی طرف سے درج کرائی گئی شکایات کے بعد صرف کالم نگار کا مؤقف حاصل کرنے کے لیے جاری کیا گیا تھا۔ مزید آگاہ کیا گیا کہ پیکا کے تحت کوئی ایف آئی آر درج نہیں کی گئی، کالم نگار نے تاحال نوٹس کا جواب نہیں دیا، اور یہ مضمون اخبار کے ای پیپر سے ہٹا دیا گیا ہے، اگرچہ یہ کالم نگار کے فیس بک پیج پر اب بھی دستیاب ہے۔
سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے اطلاعات و نشریات کا اجلاس،فلم "بلھا" پر پابندی یا نام تبدیلی کی سفارش، صحافیوں کے ہاؤسنگ کوٹے اور پیکا کیسز پر اہم فیصلے
بحث کے دوران اراکین نے پارلیمنٹ میں دی گئی حکومت کی اس یقین دہانی کو دہرایا کہ پیکا کا استعمال اخبارات اور ٹیلی ویژن کی ویب سائٹس یا ڈیجیٹل پلیٹ فارمز کے خلاف نہیں کیا جائے گا کیونکہ ان کے منظم کردہ مواد کو بالترتیب پریس کونسل اور پیمرا کنٹرول کرتے ہیں۔ سینیٹر پرویز رشید نے اس بات پر زور دیا کہ حقائق واضح کرنے کے لیے کالم نگار کو نوٹس کا جواب دینے کا کہا جائے۔ کمیٹی نے متفقہ طور پر مشاہدہ کیا کہ ہر فرد کی عزت اور تقدس کا احترام کیا جانا چاہیے۔ مشاورت کے بعد، قائم مقام چیئرمین نے این سی سی آئی اے کو ہدایت کی کہ وہ شکایت اور شکایات کنندہ دونوں کو پریس کونسل آف پاکستان کے پاس بھیجیں، جو کہ شائع شدہ کالم کا جائزہ لینے اور اس معاملے پر فیصلہ کرنے والا مناسب فورم ہے۔
کمیٹی نے صوبائی حکام سے پیکا کے مقدمات کی این سی سی آئی اے کو منتقلی کا بھی جائزہ لیا۔ سینیٹر وقار مہدی کے سوال پر این سی سی آئی اے کے حکام نے کمیٹی کو بتایا کہ سندھ سے اب تک صرف نو مقدمات منتقل کیے گئے ہیں، جبکہ دیگر صوبوں میں مقدمات کی منتقلی کا عمل ابھی باقی ہے۔ تفصیلی غوروخوض کے بعد، سینیٹر سرمد علی نے ہدایت کی کہ تمام متعلقہ صوبائی حکام کو خطوط بھیجے جائیں تاکہ عمل درآمد کے لیے سینیٹ کی ذیلی کمیٹی برائے اطلاعات و نشریات کی سفارشات اور رپورٹ کے ساتھ زیر التوا مقدمات کی منتقلی کو تیز کیا جا سکے۔
پاکستانی تاجروں نے چین کو 60ہزار ٹن چاول برآمد کرنے کے آرڈرز حاصل کرلئے
مزید :