ورلڈ کپ سے پہلے ہی شائقین کا طوفان، فیفا کو ٹکٹوں کی تاریخ ساز ڈیمانڈ کا سامنا
اشاعت کی تاریخ: 16th, January 2026 GMT
فیفا ورلڈ کپ 2026 کے آغاز میں ابھی وقت باقی ہے، مگر شائقینِ فٹبال کے جوش نے پہلے ہی ایک نیا عالمی ریکارڈ قائم کر دیا ہے، جہاں میچوں کے ٹکٹوں کے لیے درخواستوں کی تعداد غیر معمولی حد تک پہنچ گئی ہے۔
یہ بھی پڑھیں:فیفا ورلڈ کپ 2026: فاتح ٹیم کی انعامی رقم میں 50 فیصد اضافہ، کتنے ملین ڈالر ملیں گے؟
میڈیا رپورٹس کے مطابق رواں سال ہونے والے فیفا ورلڈ کپ 2026 کے لیے مختلف میچوں کے ٹکٹ حاصل کرنے کی درخواستیں 50 کروڑ سے تجاوز کر گئی ہیں، جو کسی بھی ورلڈ کپ سے قبل سب سے زیادہ ڈیمانڈ سمجھی جا رہی ہے۔
Record-breaking 150+ million @FIFAWorldCup tickets requested from 200+ countries! ????
— FIFA (@FIFAcom) December 29, 2025
رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ سب سے زیادہ دلچسپی 17 جون کو امریکی شہر میامی میں کھیلے جانے والے کولمبیا اور پرتگال کے میچ میں دیکھی جا رہی ہے، جس کے ٹکٹوں کے لیے ریکارڈ تعداد میں درخواستیں موصول ہوئیں۔
واضح رہے کہ فیفا ورلڈ کپ 2026 کی میزبانی امریکا، میکسیکو اور کینیڈا مشترکہ طور پر کریں گے، جبکہ ایونٹ 11 جون سے 19 جولائی تک جاری رہے گا۔ اس ورلڈ کپ میں پہلی بار 48 ٹیمیں حصہ لیں گی، جس کے باعث مقابلوں کی تعداد اور شائقین کی دلچسپی دونوں میں نمایاں اضافہ متوقع ہے۔
یہ بھی پڑھیں:صدر ٹرمپ رواں ہفتے فیفا ورلڈ کپ کے فائنل ڈرا میں شریک ہوں گے، وائٹ ہاؤس
فیفا کے مطابق ورلڈ کپ 2026 جیتنے والی ٹیم کو 5 کروڑ ڈالر انعامی رقم دی جائے گی، جبکہ رنر اپ ٹیم کو 3 کروڑ 30 لاکھ ڈالر ملیں گے۔ اس سے قبل ورلڈ کپ 2022 کی فاتح ٹیم کو 4 کروڑ 20 لاکھ ڈالر انعام دیا گیا تھا۔
فیفا حکام کا کہنا ہے کہ ٹکٹوں کی غیر معمولی طلب اس بات کا ثبوت ہے کہ ورلڈ کپ 2026 تاریخ کا سب سے بڑا اور مقبول فٹبال ایونٹ بننے جا رہا ہے۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
امریکا فیفا ورلڈ کپ 2026 میکسیکو.
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: امریکا فیفا ورلڈ کپ 2026 میکسیکو فیفا ورلڈ کپ 2026 کے لیے
پڑھیں:
پی ایس ڈی پی میں ارکان پارلیمنٹ اور ترقیاتی منصوبوں کیلئے اربوں روپے مختص کرنے کی تجویز
اسلام آباد: پی ایس ڈی پی 2026-27 کے تحت وفاقی حکومت نے ارکان پارلیمنٹ کے ترقیاتی منصوبوں سمیت مختلف شعبوں کے لیے اربوں روپے مختص کرنے کی تجویز پیش کر دی ہے۔ بجٹ دستاویزات کے مطابق آئندہ مالی سال میں ترقیاتی منصوبوں کے ذریعے گورننس، ٹیکنالوجی، توانائی اور خواتین کی فلاح و بہبود کو خصوصی ترجیح دی جائے گی۔
دستاویزات کے مطابق پائیدار ترقیاتی اہداف (SDGs) اچیومنٹ پروگرام کے تحت ارکان پارلیمنٹ کے ترقیاتی منصوبوں کے لیے 70 ارب روپے مختص کرنے کی سفارش کی گئی ہے۔ اس کے علاوہ کابینہ ڈویژن کے مختلف ترقیاتی منصوبوں کے لیے 2 ارب روپے جبکہ اسٹیبلشمنٹ ڈویژن کے منصوبوں کے لیے ایک ارب 70 کروڑ روپے رکھنے کی تجویز دی گئی ہے۔
پی ایس ڈی پی 2026-27 میں پارلیمنٹ لاجز کی اپ گریڈیشن کے لیے 5 کروڑ 60 لاکھ روپے مختص کرنے کی سفارش کی گئی ہے۔ اسی طرح نیشنل آرکائیوز آف پاکستان کی بحالی اور جدید خطوط پر استوار کرنے کے منصوبے کے لیے 5 ارب 50 کروڑ روپے تجویز کیے گئے ہیں۔
توانائی کے شعبے میں سرکاری عمارتوں میں شمسی توانائی کے نظام کی بہتری اور توانائی بچت اقدامات کے لیے 19 کروڑ 40 لاکھ روپے رکھنے کی سفارش کی گئی ہے۔
وفاقی دارالحکومت میں جدید ٹیکنالوجی حب کے قیام کے لیے اسلام آباد ٹیکنوپولس منصوبے پر ایک ارب 58 کروڑ روپے سے زائد خرچ کیے جانے کا امکان ہے، جبکہ فیڈرل پبلک سروس کمیشن (FPSC) کے امتحانی نظام کو ڈیجیٹل بنانے کے لیے 70 کروڑ روپے سے زائد فنڈز مختص کرنے کی تجویز دی گئی ہے۔
خواتین کی فلاح و بہبود کے منصوبوں کے تحت اسلام آباد میں ورکنگ ویمن ہاسٹل کے قیام کے لیے 16 کروڑ 70 لاکھ روپے جبکہ خواتین افسران کے لیے رہائشی سہولیات کی فراہمی کے منصوبے پر 82 کروڑ روپے سے زائد خرچ کیے جانے کا تخمینہ لگایا گیا ہے۔
بجٹ دستاویزات کے مطابق آئندہ مالی سال میں ڈیجیٹل گورننس، سرکاری اداروں کی استعداد کار بڑھانے، توانائی بچت اور جدید ٹیکنالوجی کے فروغ پر خصوصی توجہ دی جائے گی۔