data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">

اسلام آباد: پاکستان نے متحدہ عرب امارات سے واجب الادا 2.5 ارب ڈالر کے قرض میں 2 سال کی توسیع اور شرحِ سود میں نمایاں کمی کی باضابطہ درخواست کر دی۔

نجی ٹی وی کی رپورٹ میں سرکاری ذرائع کے حوالے سے بتایا گیا ہے کہ اس درخواست میں وہ 450 ملین ڈالر کا قرض بھی شامل ہے جو پاکستان نے تقریباً 3 دہائیاں قبل حاصل کیا تھا۔

ذرائع کے مطابق یہ معاملہ اس وقت زیرِ غور آیا جب یو اے ای کے صدر ذاتی دورے پر پاکستان پہنچے، جس کے بعد وزیراعظم شہباز شریف نے کابینہ کو آگاہ کیا کہ متحدہ عرب امارات نے قرض رول اوور کرنے پر آمادگی ظاہر کی ہے، تاہم اس حوالے سے مدت اور شرحِ سود سے متعلق تفصیلات سامنے نہیں آ سکیں۔

اسٹیٹ بینک اور وزارتِ خزانہ کے ذرائع کے مطابق ایک ارب ڈالر کی رقم پہلے ہی میچور ہو چکی ہے جب کہ مزید ایک ارب ڈالر آئندہ ہفتے میچور ہونے جا رہا ہے۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ آئی ایم ایف پروگرام کے دوران پاکستان کے لیے یہ قرض واپس کرنا ممکن نہیں، اسی لیے 2 سالہ توسیع ناگزیر ہے۔

رپورٹ کے مطابق مرکزی بینک کے ذرائع نے بتایا کہ پاکستان نے نہ صرف توسیع بلکہ شرحِ سود میں نصف سے زائد کمی کی بھی درخواست کی ہے تاکہ بیرونی مالی دباؤ کو کم کیا جا سکے۔

واضح رہے کہ اس وقت پاکستان دوست ممالک کا مجموعی طور پر 12 ارب ڈالر کا مقروض ہے، جس میں سعودی عرب، یو اے ای اور چین شامل ہیں۔ دوسری جانب عالمی بینک نے بھی حکومت پاکستان کو آگاہ کیا ہے کہ ملک میں سرمایہ کاری کی سطح کنٹری پارٹنرشپ فریم ورک کے اہداف سے کم ہے۔ عالمی بینک کے وفد نے وزیر خزانہ سے ملاقات میں نتائج پر مبنی حکمت عملی اپنانے اور پالیسی اہداف واضح کرنے پر زور دیا ہے۔

معاشی ماہرین کے مطابق قرضوں میں توسیع وقتی سہارا تو فراہم کر سکتی ہے، تاہم طویل المدتی استحکام کے لیے براہِ راست غیر ملکی سرمایہ کاری، برآمدات میں اضافہ اور مالی نظم و ضبط ناگزیر ہے۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Jasarat News

کلیدی لفظ: ارب ڈالر کے مطابق

پڑھیں:

برطانیہ؛ 70 ارکانِ کا نئے وزیراعظم کو خط؛ اسرائیل کیخلاف سخت اقدامات کا مطالبہ

برطانیہ کے 70 سے زائد ارکانِ پارلیمنٹ نے نئے وزیراعظم اینڈی برنہم سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ غزہ میں اسرائیلی کارروائیوں کے حوالے سے اقوامِ متحدہ کے آزاد تحقیقاتی کمیشن کے نتائج کو باضابطہ طور پر تسلیم کریں اور اسرائیل کے خلاف فوری اور مؤثر اقدامات کریں۔

عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق خط میں نشاندہی کی گئی ہے کہ گزشتہ ماہ جاری ہونے والی اقوامِ متحدہ کی آزاد تحقیقاتی رپورٹ میں یہ نتیجہ اخذ کیا گیا تھا کہ غزہ میں اسرائیلی فوج کی کارروائیاں نسل کشی کے زمرے میں آتی ہیں اور رپورٹ میں خاص طور پر اسرائیلی حملوں میں بچوں کو دانستہ طور پر نشانہ بنانے کی تصدیق بھی تھی۔

ارکان پارلیمان نے کھلے خط میں نو منتخب وزیراعظم سے مطالبہ کیا کہ وہ بین الاقوامی عدالتِ انصاف کی جولائی 2024 کی مشاورتی رائے پر بھی عمل درآمد کو یقینی بنانے کے لیے عملی اقدامات کریں۔

برطانوی ارکانِ پارلیمنٹ کے بقول عالمی عدالت نے اسرائیل پر زور دیا تھا کہ وہ فوری طور پر مقبوضہ فلسطینی علاقوں سے اپنی موجودگی ختم کرے، تمام اسرائیلی بستیاں ختم کرے، متاثرہ فلسطینیوں کو معاوضہ ادا کرے اور بے گھر ہونے والے فلسطینیوں کی واپسی میں تعاون کرے۔

عدالت نے اپنی رائے میں یہ بھی کہا تھا کہ دنیا کے تمام ممالک پر ذمہ داری عائد ہوتی ہے کہ وہ ایسے اقدامات سے گریز کریں جو اسرائیلی قبضے کو برقرار رکھنے یا اس میں معاونت کا سبب بنیں۔

خط میں برطانوی حکومت سے مطالبہ کیا گیا ہے کہ اسرائیل پر مکمل اسلحہ پابندی عائد کی جائے، اسرائیلی حکام کے خلاف پابندیاں لگائی جائیں اور ایسی ہر قسم کی تجارت پر پابندی عائد کی جائے جو مقبوضہ فلسطینی علاقوں میں قائم اسرائیلی بستیوں کو فائدہ پہنچاتی ہو۔

ارکانِ پارلیمنٹ کا کہنا ہے کہ برطانیہ کو بین الاقوامی قوانین اور انسانی حقوق سے متعلق اپنی ذمہ داریوں کو پورا کرتے ہوئے واضح اور مؤثر پالیسی اختیار کرنی چاہیے۔

I'm one of 80 MPs & Peers calling on the PM to:

- Recognise the UN’s findings on genocide & implement the ICJ ruling in full
- Impose sanctions including a full arms embargo
- Ban trade that supports Israel’s illegal settlements

End Britain’s complicity in genocide, now. pic.twitter.com/TjtJ0yj2Qq

— Kim Johnson (@KimJohnsonMP) July 23, 2026

فلسطین سالیڈیرٹی کمپین کے نائب ڈائریکٹر پیٹر لیری نے ارکانِ پارلیمنٹ کے خط کا خیرمقدم کرتے ہوئے کہا تھا کہ برطانوی حکومت نے طویل عرصے سے نسل کشی کنونشن اور بین الاقوامی عدالتِ انصاف کے مؤقف کو نظر انداز کیا ہے۔

انھوں نے الزام عائد کیا ہے کہ برطانیہ مسلسل ایسی پالیسیاں اپناتا رہا ہے جن سے فلسطینی عوام کے خلاف اسرائیلی کارروائیوں کو عملی یا سفارتی حمایت ملتی رہی۔

خیال رہے کہ اسرائیل غزہ میں نسل کشی کے الزامات کو مسترد کرتا ہے اور مؤقف اختیار کرتا آیا ہے کہ اس کی فوجی کارروائیاں حماس اور دیگر مسلح گروہوں کے خلاف ہیں جبکہ شہری ہلاکتوں سے بچنے کے لیے اقدامات کیے جاتے ہیں۔

واضح رہے کہ اقوامِ متحدہ اور متعدد بین الاقوامی انسانی حقوق کی تنظیمیں اسرائیلی دعوؤں کو مسترد کرتے ہوئے غزہ میں بڑے پیمانے پر شہریوں، خصوصاً خواتین اور بچوں کے جانی نقصان پر مسلسل تشویش کا اظہار کر رہی ہیں۔

 

متعلقہ مضامین

  • خام تیل کی قیمت 100 ڈالر فی بیرل سے تجاوز کرگئی، عالمی منڈی میں تشویش کی لہر
  • تحریک انصاف5 اگست کو کیا کرنے جا رہی ہے؟
  • 5 اگست کو پاکستان تحریک انصاف کیا کرنے جا رہی ہے؟
  •  230 سے زائد پی ٹی آئی رہنماؤں  کارکنوں کی عبوری ضمانت میں توسیع
  • پاکستان ڈی ایٹ ممالک کے ساتھ مضبوط معاشی شراکت داری قائم کرنا چاہتا ہے، عرفان سومرو
  • سٹیٹ بینک کے زرمبادلہ ذخائر میں 3 کروڑ 30 لاکھ ڈالر کا اضافہ
  • پاکستان کے لیے بڑی معاشی خوشخبری، عالمی ادارے نے کریڈٹ ریٹنگ 7 سال کی بلند ترین سطح پر قرار دیدی
  • اسٹیٹ بینک کے زرمبادلہ ذخائر میں اضافہ، مرکزی بینک کے ذخائر 17.25 ارب ڈالر سے تجاوز کر گئے
  • بلوچستان، جج کے قتل کے بعد کالعدم بی ایل اے اور داعش کا گٹھ جوڑ سامنے آگیا، اقوام متحدہ سے کارروائی کا مطالبہ
  • برطانیہ؛ 70 ارکانِ کا نئے وزیراعظم کو خط؛ اسرائیل کیخلاف سخت اقدامات کا مطالبہ