معاشی دباؤ: پاکستان کا امارات سے قرض میں توسیع اور شرح سود میں کمی کا مطالبہ
اشاعت کی تاریخ: 16th, January 2026 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
اسلام آباد: پاکستان نے متحدہ عرب امارات سے واجب الادا 2.5 ارب ڈالر کے قرض میں 2 سال کی توسیع اور شرحِ سود میں نمایاں کمی کی باضابطہ درخواست کر دی۔
نجی ٹی وی کی رپورٹ میں سرکاری ذرائع کے حوالے سے بتایا گیا ہے کہ اس درخواست میں وہ 450 ملین ڈالر کا قرض بھی شامل ہے جو پاکستان نے تقریباً 3 دہائیاں قبل حاصل کیا تھا۔
ذرائع کے مطابق یہ معاملہ اس وقت زیرِ غور آیا جب یو اے ای کے صدر ذاتی دورے پر پاکستان پہنچے، جس کے بعد وزیراعظم شہباز شریف نے کابینہ کو آگاہ کیا کہ متحدہ عرب امارات نے قرض رول اوور کرنے پر آمادگی ظاہر کی ہے، تاہم اس حوالے سے مدت اور شرحِ سود سے متعلق تفصیلات سامنے نہیں آ سکیں۔
اسٹیٹ بینک اور وزارتِ خزانہ کے ذرائع کے مطابق ایک ارب ڈالر کی رقم پہلے ہی میچور ہو چکی ہے جب کہ مزید ایک ارب ڈالر آئندہ ہفتے میچور ہونے جا رہا ہے۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ آئی ایم ایف پروگرام کے دوران پاکستان کے لیے یہ قرض واپس کرنا ممکن نہیں، اسی لیے 2 سالہ توسیع ناگزیر ہے۔
رپورٹ کے مطابق مرکزی بینک کے ذرائع نے بتایا کہ پاکستان نے نہ صرف توسیع بلکہ شرحِ سود میں نصف سے زائد کمی کی بھی درخواست کی ہے تاکہ بیرونی مالی دباؤ کو کم کیا جا سکے۔
واضح رہے کہ اس وقت پاکستان دوست ممالک کا مجموعی طور پر 12 ارب ڈالر کا مقروض ہے، جس میں سعودی عرب، یو اے ای اور چین شامل ہیں۔ دوسری جانب عالمی بینک نے بھی حکومت پاکستان کو آگاہ کیا ہے کہ ملک میں سرمایہ کاری کی سطح کنٹری پارٹنرشپ فریم ورک کے اہداف سے کم ہے۔ عالمی بینک کے وفد نے وزیر خزانہ سے ملاقات میں نتائج پر مبنی حکمت عملی اپنانے اور پالیسی اہداف واضح کرنے پر زور دیا ہے۔
معاشی ماہرین کے مطابق قرضوں میں توسیع وقتی سہارا تو فراہم کر سکتی ہے، تاہم طویل المدتی استحکام کے لیے براہِ راست غیر ملکی سرمایہ کاری، برآمدات میں اضافہ اور مالی نظم و ضبط ناگزیر ہے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
پڑھیں:
کراچی: واش روم میں بچے کی پیدائش، تحقیقاتی رپورٹ ڈائریکٹر جناح اسپتال کے حوالے
فائل فوٹو۔جناح اسپتال کراچی کے واش روم میں بچے کی پیدائش کے معاملے پر تین رکنی تحقیقاتی کمیٹی نے اپنی رپورٹ ایگزیکٹو ڈائریکٹرکو جمع کروا دی۔
جناح اسپتال کے ذرائع کے مطابق رپورٹ میں کہا گیا متاثرہ خاتون رات ساڑھے 9 بجے گائنی وارڈ میں آئی، گائنی وارڈ میں کسی نے بھی خاتون کو طبی امداد نہیں دی۔
جناح اسپتال کے ذرائع کے مطابق خاتون کا الٹرا ساؤنڈ نہیں کروایا گیا اور چہل قدمی کا مشورہ دیا گیا۔
جناح اسپتال کے ذرائع کے مطابق کنسلٹنٹ اور آر ایم او ڈیوٹی پر موجود نہیں تھے، مریضوں کے ساتھ آنے والے مرد گائنی وارڈ کے احاطےمیں موجود تھے۔
جناح اسپتال کے ذرائع کے مطابق میڈیکل آفسر کو محکمہ صحت بھیجنے اور ڈیوٹی پر موجود پوسٹ گریجویٹ ڈاکٹرز کی 3 ماہ مزید ٹریننگ کی تجویز ہے۔
جناح اسپتال کے ذرائع کے مطابق رپورٹ میں سیکیورٹی گارڈز کی ڈیوٹی پر بھی تحفظات کا اظہار کیا گیا۔ کمیٹی کی جانب سے بنائی گئی رپورٹ سیکریٹری اور وزیر صحت کو دے دی گئی۔