ڈھاکہ میں آتشزدگی کا واقعہ، 3 افراد جاں بحق، 13 زخمی
اشاعت کی تاریخ: 16th, January 2026 GMT
ڈھاکہ کے اُتارا علاقے میں ایک 6 منزلہ رہائشی عمارت میں صبح کے وقت آگ لگنے سے 3 افراد جاں بحق اور 13 دیگر زخمی ہو گئے۔ آگ میں ہلاک ہونے والے افراد دھویں سے دم گھٹنے کی وجہ سے جاں بحق ہوئے، جبکہ دیگر کو اسپتال منتقل کر کے علاج جاری ہے۔
یہ بھی پڑھیں:ڈھاکہ ایئرپورٹ پر خوفناک آتشزدگی، فلائٹ آپریشن معطل
بنگلہ دیش کے دارالحکومت ڈھاکہ کی فائر سروس کے مطابق یہ واقعہ جمعہ کی صبح تقریباً 7:50 بجے اُتارا کے سیکٹر 11، روڈ 18 پر واقع ایک عمارت کے دوسرے فلور کے فلیٹ میں پیش آیا۔ فائر فائٹرز نے 8:25 بجے تک آگ پر قابو پا لیا اور تقریباً 10:00 بجے مکمل طور پر آگ بجھا دی گئی۔
ہلاک ہونے والوں میں 2 خواتین اور ایک مرد شامل ہیں۔ فائر سروس کے اہلکاروں کا کہنا ہے کہ تینوں افراد جلنے کی وجہ سے نہیں بلکہ گھنے دھویں سے دم گھٹنے کی وجہ سے جاں بحق ہوئے۔
آگ سے متاثر ہونے والے دیگر 13 رہائشیوں کو فائر فائٹرز نے بچایا اور انہیں کویت-میتری اسپتال منتقل کیا گیا جہاں ان کا علاج جاری ہے۔
فائر سروس کے تعلقات عامہ کے اہلکار طلحہ بن جاسم نے مقامی میڈیا کو بتایا کہ فلیٹ میں زیادہ فرنیچر ہونے کی وجہ سے آگ تیزی سے پھیلی اور شدت اختیار کر گئی۔
ڈپٹی اسسٹنٹ ڈائریکٹر محمد عبدالمنان نے بتایا کہ ابتدائی تحقیقات کے مطابق آگ لگنے کی وجہ برقی شارٹ سرکٹ ہو سکتی ہے۔ آگ دوسرے فلور سے شروع ہوئی تھی بعد میں تیسرے فلور تک پھیل گئی۔
حکام اس واقعے کی مزید تحقیقات کر رہے ہیں تاکہ آگ لگنے کی اصل وجہ معلوم کی جا سکے۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
بنگلہ دیش ڈھاکہ آتشزدگی.
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: بنگلہ دیش ڈھاکہ ا تشزدگی کی وجہ سے
پڑھیں:
دبئی ایئرپورٹ پر اے آئی امیگریشن سسٹم متعارف، 3.4 سیکنڈ میں کلیئرنس
دبئی: دبئی ایئرپورٹ اے آئی امیگریشن سسٹم کے ذریعے مسافروں کے لیے سفر کو مزید تیز اور آسان بنانے کی جانب ایک اہم قدم اٹھا لیا گیا ہے۔ مصنوعی ذہانت (AI) پر مبنی جدید بارڈر کنٹرول نظام کی آزمائش کامیاب رہی ہے، جس کے تحت مسافر صرف 3.4 سیکنڈ میں امیگریشن کا مرحلہ مکمل کر سکتے ہیں۔
دبئی کی جنرل ڈائریکٹوریٹ آف آئیڈینٹیٹی اینڈ فارنرز افیئرز (GDRFA) کے مطابق اس جدید نظام میں اے آئی سے لیس بایومیٹرک کیمرے بیک وقت 10 مسافروں کی شناخت کرنے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔
بغیر پاسپورٹ دکھائے امیگریشن کلیئر
نئے سسٹم کے تحت “ریڈ کارپٹ لین” استعمال کرنے والے رجسٹرڈ مسافروں کو پاسپورٹ یا بورڈنگ پاس دکھانے کی ضرورت نہیں ہوگی۔ انہیں صرف اپنا چہرہ کھلا رکھ کر بایومیٹرک کیمرے پر موجود سبز اشارے کی طرف دیکھنا ہوگا، جس کے بعد شناخت کا عمل خودکار طور پر مکمل ہو جائے گا۔
ابتدائی مرحلے میں کن مسافروں کے لیے؟
ابتدائی طور پر اس جدید سسٹم کا آغاز دبئی ایئرپورٹ کے ٹرمینل 3 پر فرسٹ کلاس اور بزنس کلاس کے مسافروں کے لیے کیا گیا تھا، تاہم کامیاب آزمائش کے بعد اب اس سہولت کو مزید آنے والے مسافروں تک توسیع دی جا رہی ہے۔
اعداد و شمار کے مطابق 2025 کے دوران 5 لاکھ 28 ہزار سے زائد مسافروں نے دبئی کے “اسمارٹ کوریڈور” سے استفادہ کیا، جبکہ گزشتہ سال 2 کروڑ 60 لاکھ سے زیادہ مسافروں نے اسمارٹ گیٹس کے ذریعے سفر کیا۔
کن افراد کو یہ سہولت حاصل ہوگی؟
حکام کے مطابق متحدہ عرب امارات اور خلیجی ممالک کے شہری، یو اے ای کے رہائشی اور بایومیٹرک پاسپورٹ رکھنے والے ویزا آن ارائیول مسافر اس سہولت سے خودکار طور پر فائدہ اٹھا سکیں گے۔ تاہم 1.2 میٹر سے کم قد رکھنے والے بچوں کے لیے یہ نظام فی الحال دستیاب نہیں ہوگا۔
دبئی ایئرپورٹس کے چیف ایگزیکٹو پال گریفتھس کا کہنا ہے کہ اس جدید ٹیکنالوجی کا مقصد سیکیورٹی کو برقرار رکھتے ہوئے امیگریشن کے عمل کو زیادہ تیز، آسان اور مؤثر بنانا ہے۔ ان کے مطابق مستقبل میں دبئی ایئرپورٹ اے آئی امیگریشن سسٹم تمام مسافروں کے لیے دستیاب ہوگا، جس سے ہوائی سفر کا تجربہ مزید بہتر ہونے کی توقع ہے۔