ماڈلنگ کے بعد فلمی دنیا میں قدم جمانا میرا خواب ہے، بیلا حدید
اشاعت کی تاریخ: 16th, January 2026 GMT
دنیا کی مشہور سپر ماڈل بیلا حدید نے حال ہی میں اپنی آنے والی فلم The Beauty میں اداکاری کے بعد اپنے مستقبل کے اہداف پر کھل کر بات کی ہے۔ ٹاپ فیشن برانڈز کے ساتھ کام کر کے عالمی شہرت حاصل کرنے والی بیلا اب اداکاری کے میدان میں سنجیدگی سے قدم جمانا چاہتی ہیں۔29 سالہ بیلا حدید نے 14 جنوری کو نیویارک سٹی میں ریان مرفی کے پریمئیر کے موقع پر دی ہالی وڈ رپورٹر سے گفتگو کرتے ہوئے کہا،“میں اس کے بعد بھی اداکاری جاری رکھنا چاہوں گی۔ یہ میرا ایک خواب ہے۔”بیلا اس سے قبل سیریز Ramy اور Yellowstone میں مختصر کردار ادا کر چکی ہیں، تاہم ان کے مطابق اداکاری ہمیشہ سے ان کی دلچسپی کا مرکز رہی ہے۔ انہوں نے بتایا کہ اگرچہ انہوں نے ماڈلنگ کے ذریعے اپنی تخلیقی صلاحیتوں اور فنکارانہ پہلو کو اجاگر کیا، لیکن اداکاری ان کے دل کے زیادہ قریب ہے۔بیلا نے کہا،“میں نے اپنی آرٹ اور تخلیقی سوچ ماڈلنگ میں شامل کی، لیکن دن کے اختتام پر مجھے حرکت کرنا، فلم اور مجموعی طور پر اداکاری بہت پسند ہے۔”اداکاری کی تعریف کرتے ہوئے بیلا حدید نے کہا کہ انہیں اداکار اس لیے پسند ہیں کیونکہ وہ مختلف لوگوں کے لیے مختلف کردار بن سکتے ہیں۔“مجھے اداکار اس لیے پسند ہیں کیونکہ وہ بہت سے لوگوں کے لیے الگ الگ کردار بن سکتے ہیں،” انہوں نے کہا۔انٹرویو کے دوران بیلا نے مشہور ہدایتکار اور شو کے شریک تخلیق کار ریان مرفی کے ساتھ کام کرنے کے تجربے پر بھی روشنی ڈالی۔“ریان کا دماغ غیر معمولی ہے۔ مجھے ان کا دماغ اور ان کا دل دونوں بے حد پسند ہیں،” بیلا نے کہا۔انہوں نے مزید کہا کہ وہ ہدایتکاری کے حوالے سے ریان مرفی کو اپنا آئیڈیل سمجھتی ہیں۔“میں ہدایتکاری کے معاملے میں انہیں بہت دیکھتی ہوں، اور مجھے لگتا ہے کہ وہ بہت سی چیزوں میں فینٹسی لے آتے ہیں،” بیلا نے تعریف کی۔بیلا حدید نے اداکاری کا موقع دینے پر ریان مرفی کا شکریہ بھی ادا کیا اور کہا کہ یہ تجربہ ان کے لیے بالکل نیا اور مختلف تھا۔“سچ کہوں تو ماڈلنگ کا اس سیٹ پر میرے کام سے کوئی تعلق نہیں تھا۔ یہ میری اب تک کی زندگی کے تجربات سے بالکل الٹ تھا،” انہوں نے کہا۔بیلا حدید کے ان خیالات سے واضح ہوتا ہے کہ وہ مستقبل میں اداکاری کو محض ایک تجربہ نہیں بلکہ ایک مستقل کیریئر کے طور پر دیکھ رہی ہیں، اور شائقین بھی انہیں نئے کرداروں میں دیکھنے کے لیے بے چین ہیں۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Daily Mumtaz
کلیدی لفظ: بیلا حدید نے ریان مرفی انہوں نے بیلا نے کے لیے نے کہا
پڑھیں:
بعض حکمران عناصر بینظر انکم سپورٹ پروگرام کو ختم کرنا چاہتے ہیں، تاہم پیپلز پارٹی ایسا نہیں ہونے دے دی، بلاول بھٹو
چیئرمین پاکستان پیپلز پارٹی بلاول بھٹو زرداری نے کہا ہے کہ ایران میں جاری جنگ کے اثرات کے باعث معاشی بحران نے جنم لیا ہے اور موجودہ معاشی چیلنجز سے نمٹنے کی صلاحیت صرف پیپلز پارٹی کے پاس ہے، گلگت بلتستان کے عوام 7 جون کو تیر پر مہر لگائیں۔
اسکردو میں جلسے سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے پاکستان کی جانب سے امن کے قیام کے لیے کی جانے والی کوششوں کو قابل فخر قرار دیتے ہوئے امید ظاہر کی کہ جنگ بندی کے لیے کی جانے والی کاوشیں کامیاب ہوں گی۔
مزید پڑھیں: کسی پر تنقید کرکے نہیں بلکہ کارکردگی پر ووٹ مانگتا ہوں، نواز شریف کا گلگت میں خطاب
چیئرمین پیپلز پارٹی نے کہاکہ ان کی جماعت ملک کے پسماندہ اور محروم طبقات کی حقیقی نمائندہ ہے۔ ایسی ترقی اور معاشی پالیسی کا کیا فائدہ جس میں امیر مزید امیر اور غریب مزید مشکلات کا شکار ہو جائے۔
ان کا کہنا تھا کہ بینظیر انکم سپورٹ پروگرام ملک کا واحد ایسا ادارہ ہے جو براہ راست مستحق خاندانوں تک پہنچتا ہے اور اس پروگرام کے خلاف ہونے والی سیاسی سازشیں ناکام ہوں گی۔
بدقسمتی اس ملک کی ہے کہ ہمارے سیاست دان ایسے ہیں کہ جب معاشی حالات خراب ہوتے ہیں تو وہ یہ نہیں سوچتے کہ ہم اپنے امیر دوستوں کی سبسڈی کیسے ختم کریں، وہ یہ نہیں سوچتے کہ کاروباری طبقہ کتنا ٹیکس دے رہا ہے، وہ سیدھا اس پر پہنچتے ہیں کہ بینظیر انکم سپورٹ پروگرام کو ختم کرو، مگر ہم یہ… pic.twitter.com/ioZikOPLZU
— WE News (@WENewsPk) June 2, 2026
انہوں نے دعویٰ کیا کہ بعض حکمران عناصر اس پروگرام کو ختم کرنا چاہتے ہیں، تاہم پیپلز پارٹی اسے بچانے کے لیے ہر ممکن اقدام کرے گی اور آئندہ بجٹ میں اس کے فنڈز میں اضافے کے لیے وزیراعظم سے بات کی جائے گی۔
بلاول بھٹو زرداری نے کہا کہ پاکستان کو ایٹمی طاقت بنانے کی بنیاد شہید ذوالفقار علی بھٹو نے رکھی جبکہ میزائل ٹیکنالوجی کے فروغ میں شہید محترمہ بینظیر بھٹو کا کردار نمایاں رہا۔
انہوں نے کہا کہ ماضی میں گلگت بلتستان کو شمالی علاقہ جات کہا جاتا تھا لیکن اس خطے کو موجودہ شناخت صدر آصف علی زرداری نے دی۔ ذوالفقار علی بھٹو نے بلتستان کی سرزمین سے پاکستان کو ایٹمی قوت بنانے کا اعلان کیا تھا۔
انہوں نے کہاکہ اگر 18ویں آئینی ترمیم کے تحت صوبوں کو دیے گئے اختیارات گلگت بلتستان کو بھی منتقل کر دیے جائیں تو خطے کے متعدد مسائل حل ہو سکتے ہیں۔
بلاول بھٹو نے کہاکہ حق حاکمیت کے بعد عوام کو حق ملکیت بھی ملنا چاہیے اور اسلام آباد کو تسلیم کرنا ہوگا کہ گلگت بلتستان کے وسائل پر سب سے پہلا حق مقامی آبادی کا ہے۔
انہوں نے کہا کہ جب تک اس حقیقت کو تسلیم نہیں کیا جاتا، نہ گلگت بلتستان اور نہ ہی پاکستان حقیقی ترقی کر سکتا ہے۔
پیپلز پارٹی کے چیئرمین نے سندھ حکومت کی کارکردگی کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ سیلاب سے متاثرہ خاندانوں کو گھر فراہم کیے گئے اور یہی عوامی خدمت پیپلز پارٹی کی سیاست کا بنیادی محور ہے۔
ان کے مطابق پارٹی ہمیشہ عام آدمی، مزدور اور محروم طبقات کے حقوق کی سیاست کرتی آئی ہے۔
انہوں نے کہا کہ صدر آصف علی زرداری نے روٹی، کپڑا اور مکان کے نعرے کو بینظیر کارڈ کے ذریعے عملی شکل دی، جبکہ بینظیر انکم سپورٹ پروگرام کو دنیا کے کئی ممالک نے قابل تقلید ماڈل قرار دیا۔
بلاول بھٹو زرداری نے کہا کہ مسلم دنیا میں ایٹمی صلاحیت رکھنے والا واحد ملک پاکستان ہے اور اس صلاحیت کا سہرا شہید ذوالفقار علی بھٹو کے سر جاتا ہے۔
انہوں نے کہاکہ آج بھی گڑھی خدا بخش سے پاکستان کے دفاع کی روایت جڑی ہوئی ہے۔ جنرل مشرف کے دور میں غیر ملکی ممالک کو پاکستان میں اڈے حاصل تھے، تاہم سلالہ واقعے کے بعد صدر آصف علی زرداری نے ان اڈوں کو بند کروا دیا۔
انہوں نے سی پیک کے تحت تھرکول منصوبے کو سب سے کامیاب منصوبہ قرار دیتے ہوئے کہا کہ وہاں 80 فیصد ملازمتیں مقامی افراد کو فراہم کی گئیں۔
ان کا کہنا تھا کہ پیپلز پارٹی کی کوشش ہوتی ہے کہ زیادہ سے زیادہ روزگار کے مواقع پیدا کیے جائیں، جبکہ دیگر سیاسی قوتیں لوگوں کو بے روزگار کرنے کی پالیسی اپناتی ہیں۔
انہوں نے کہا کہ ان کی جماعت غریب نوجوانوں کو روزگار فراہم کرکے معاشی طور پر مضبوط بنانا چاہتی ہے۔
مزید پڑھیں: کسی بھی نئی آئینی ترمیم میں گلگت بلتستان کے عوامی حقوق کا تحفظ یقینی بنانا چاہیے، بلاول بھٹو
چیئرمین پیپلز پارٹی نے سندھ میں سیلاب کے بعد بحالی کے اقدامات کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ ایسا محسوس ہوتا تھا جیسے پورا صوبہ پانی میں ڈوب گیا ہو، تاہم حکومت 20 لاکھ متاثرہ گھروں کی تعمیر کر رہی ہے اور اتنے ہی خاندانوں کو مالکانہ حقوق کے ساتھ رہائش فراہم کی جا رہی ہے۔
بلاول بھٹو نے کہاکہ فیصلہ کیا گیا تھا کہ سڑکوں کی تعمیر سے پہلے متاثرین کو گھر دیے جائیں۔ اس منصوبے کے نتیجے میں قریباً 10 لاکھ افراد کو روزگار ملا۔
انہوں نے گلگت بلتستان کے عوام سے اپیل کی کہ 7 جون کو تیر کے انتخابی نشان پر مہر لگائیں، پیپلز پارٹی یہاں بھی سندھ طرز کے عوامی فلاحی منصوبے متعارف کرائے گی۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
wenews بلاول بھٹو چیئرمین پیپلز پارٹی گلگت بلتستان الیکشن وی نیوز