بار سیاست: قائداعظمؒ کے نظریے سے گروپ ازم تک
اشاعت کی تاریخ: 16th, January 2026 GMT
اسلام آباد بار ایسوسی ایشن کے حالیہ انتخابات میں ایک مرتبہ پھر نعیم گجر ایڈووکیٹ کی قیادت میں راجہ علیم عباسی گروپ، جو بھون گروپ سے وابستہ سمجھا جاتا ہے، نے مکمل پینل کے ساتھ کامیابی حاصل کی۔ نعیم گجر دوسری بار صدر منتخب ہوئے ہیں۔ بظاہر یہ ایک جمہوری عمل کا تسلسل ہے، مگر اس کے ساتھ ہی پاکستان میں بار سیاست کے کردار، حدود اور سمت پر ایک سنجیدہ اور ناگزیر بحث جنم لیتی ہے۔
بار سیاست پر تنقید کے جواب میں عموماً یہ دلیل دی جاتی ہے کہ قائداعظم محمد علی جناحؒ اور علامہ محمد اقبالؒ جیسے عظیم رہنما بھی پیشے کے اعتبار سے وکیل تھے اور انہوں نے عملی سیاست میں نمایاں کردار ادا کیا۔ یہ دلیل تاریخی طور پر درست سہی، مگر سوال یہ ہے کہ کیا ان کی سیاست آج کی بار سیاست سے مماثلت رکھتی تھی؟
حقیقت یہ ہے کہ قائداعظمؒ اور علامہ اقبالؒ نے کبھی وکالت کو گروہ بندی، ذاتی اثرورسوخ یا طاقت کے حصول کا ذریعہ نہیں بنایا۔ ان کی سیاست نظریاتی، آئینی اور قومی مفاد سے جڑی ہوئی تھی۔ نہ انہوں نے بار الیکشنز کو سیاسی جنگ بنایا، نہ ہی عدالتی نظام کو دباؤ میں لانے کے لیے ہڑتالوں کو معمول بنایا۔ وہ آزاد عدلیہ کے علمبردار تھے، نہ کہ اس پر اثرانداز ہونے کے خواہاں۔
آج کی صورتِ حال اس کے برعکس دکھائی دیتی ہے۔ موجودہ بار الیکشنز پر کروڑوں روپے خرچ کیے جاتے ہیں۔ حکومتی، اپوزیشن اور دیگر طاقتور حلقے اپنے پسندیدہ امیدواروں پر سرمایہ کاری کرتے ہیں تاکہ کامیابی کی صورت میں اپنے مفادات کا تحفظ یقینی بنایا جا سکے۔ یہ رجحان بار جیسے پیشہ ور ادارے کی ساکھ پر سنجیدہ سوالات کھڑے کرتا ہے۔
یہ بات بھی اپنی جگہ درست ہے کہ بار سیاست کے مثبت پہلو موجود ہیں۔ وکلا تحریک نے آمریت کے خلاف جدوجہد میں تاریخی کردار ادا کیا، عدلیہ کی آزادی کی تحریک میں وکلا صفِ اول میں رہے، اور آئین، انسانی حقوق اور شہری آزادیوں کے تحفظ کے لیے اجتماعی آواز بلند کی۔ بار نے نوجوان وکلا کو نمائندگی دی اور انہیں ایک منظم پلیٹ فارم فراہم کیا۔ اگر یہ کردار نہ ہوتا تو شاید آج عدلیہ مکمل طور پر آزاد نہ ہوتی۔
تاہم، جیسا کہ سینئر وکیل سردار علیم ارشد عباسی کے مطابق مسئلہ بار سیاست کا وجود نہیں بلکہ اس کا بگاڑ ہے۔ گزشتہ دو دہائیوں میں نظریاتی سیاست بتدریج گروپ ازم میں بدل گئی۔ بار الیکشن خدمت کے بجائے سرمایہ کاری بن گئے اور بعض گروپس طاقتور سیاسی و معاشی حلقوں سے جڑ گئے۔ نتیجتاً بار ایک پیشہ ور ادارے کے بجائے دباؤ ڈالنے والے گروہ کی شکل اختیار کرتی چلی گئی۔
عدالتی امور کے معروف صحافی کوثر نقوی کے مطابق آج ججوں کے بارے میں یہ تاثر عام ہوتا جا رہا ہے کہ ان کی تقرری اور تصدیق میں بار کونسلوں اور طاقتور وکیل گروپس کا اثر و رسوخ شامل ہے۔ اگر جج یہ محسوس کریں کہ ان کا مستقبل کسی گروپ کی خوشنودی سے وابستہ ہے تو وہ کس طرح آزادانہ اور غیر جانبدارانہ فیصلے کر سکیں گے؟ یہ صورتِ حال آزاد عدلیہ کے تصور کے لیے ایک سنجیدہ خطرہ ہے۔
اس پوری بار سیاست اور گروہ بندی کا سب سے بڑا نقصان عام شہری کو ہوتا ہے۔ بار بار ہڑتالوں، عدالتی بائیکاٹس اور کام بند تحریکوں کے باعث مقدمات برسوں التوا کا شکار رہتے ہیں۔ غریب سائل، خواتین، زیرِ حراست ملزمان اور انصاف کے منتظر شہری سب سے زیادہ متاثر ہوتے ہیں۔ انصاف میں تاخیر دراصل انصاف سے انکار کے مترادف ہے۔
وکلا کا سیاست میں کردار فطری اور بعض اوقات ضروری بھی ہے، مگر شرط یہ ہے کہ یہ سیاست پیشہ ورانہ ذمہ داریوں پر حاوی نہ ہو۔ بار ہڑتال آخری حربہ ہونی چاہیے، معمول نہیں۔ گروہی مفاد کبھی بھی سائل کے حقِ انصاف پر غالب نہیں آنا چاہیے۔
آج ضرورت اس امر کی ہے کہ بار سیاست کو ختم نہیں بلکہ درست کیا جائے۔ ہڑتالوں کے لیے واضح ضابطہ، سائلین کے حقوق کا مؤثر تحفظ، بار عہدیداروں کے مالی و سیاسی مفادات کی شفافیت اور نظریاتی سیاست کی بحالی وقت کی اہم ضرورت ہے۔
آزاد اور دانشور وکلا اس بات پر متفق ہیں کہ قائداعظمؒ اور علامہ اقبالؒ وکیل ضرور تھے، مگر انہوں نے وکالت کو کبھی ذاتی یا گروہی طاقت کی سیاست میں تبدیل نہیں ہونے دیا۔ اگر بار سیاست اسی اصولی راستے پر واپس نہ آئی تو اندیشہ ہے کہ وکلا انصاف کے محافظ کے بجائے انصاف کے راستے کی سب سے مضبوط رکاوٹ بن جائیں گے اور یہ کسی بھی جمہوری معاشرے کے لیے ایک خطرناک علامت ہوگی۔
ادارے کا کالم نگار کی رائے کے ساتھ متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
سینئر قانون دان کالم نگار اور فری لانس جرنلسٹ ہیں۔
.
ذریعہ
ذریعہ: WE News
پڑھیں:
سرمایہ کاری نہیں قرضے ترجیح کب تک
حکمران اکثر یہ بات کرتے رہتے ہیں کہ ہمیں قرضے نہیں سرمایہ کاری درکار ہے بلکہ ایسے بیانات مسلسل آتے رہے ہیں اور آئی ایم ایف کے مطالبات پر حکومت فوری رضامندی بھی ظاہر کر دیتی ہے تاکہ قرض کی منظوری میں تاخیر نہ ہو۔ قرض منظوری کے بعد ایسے بیانات جاری ہوتے ہیں جیسے بہت بڑا معرکہ سر کر لیا ہو۔ مطلب یہ ہے کہ ہمیں قرض کے حصول کے لیے آئی ایم ایف کی ہر شرط ماننا اور بے انتہا کوشش کے بعد قرض حاصل کرنے میں کامیابی حاصل ہوتی ہے۔
ملک کو اس حالت میں پہنچایا جا چکا ہے کہ خود انحصاری کی منزل بہت دور ہوگئی ہے ۔ پاکستان کی ہر حکومت نے آئی ایم ایف کی ہر بات مانی لیکن خود انحصاری کی منزل نہ مل سکی۔ غیر سیاسی وزیر خزانہ بھی اس امید پر لائے گئے کہ ان کی کوشش سے ملک خود انحصاری کی طرف بڑھے گا اور غیر ملکی قرضوں کے مزید حصول کی کوشش نہیں ہوگی لیکن سب نے اپنا اولین مقصد مزید قرضے حاصل کرنا بنا رکھا ہے اور آئی ایم ایف کو ہر ممکن طریقے سے مزید قرض دینے پر آمادہ کرنا رہ گیا ہے ۔
اب بھی پاکستان کے لیے آئی ایم ایف کا مزید قرضہ منظور کرا لیا گیا ہے جس کا حکومتی حلقے پرجوش خیر مقدم کررہے ہیں۔ ہر وزیر خزانہ کے بارے میں یہ دعویٰ سننے میں آتا رہاکہ وہ آئی ایم ایف سے معاملات طے کرنے کا وسیع تجربہ رکھتے ہیں، لیکن معاملہ مرض بڑھتا ہی گیا جوں جوں دوا کی جیسا ہی رہا۔ آئی ایم ایف سے جان نہیں چھوٹ رہی بلکہ آئی ایم ایف مزید شرائط سخت کرتا جا رہا ہے اور حکومت کو پرانے قرضوں پر سود ادا کرنے کے لیے مزید قرضے لینا پڑ رہے ہیں۔
آئی ایم ایف اپنی ہر شرط منوا رہا ہے اور حال ہی میں آئی ایم ایف نے پٹرولیم لیوی ہدف میں 18 فی صد اضافے کا کہا ہے جب کہ حکومت نے یہ لیوی آئی ایم ایف کے مطالبے سے بھی بہت زیادہ بڑھا رہی ہے مگر آئی ایم ایف ہے کہ مطمئن ہی نہیں ہوتا۔ آئی ایم ایف نے قرض دینے کے لیے کبھی یہ شرط نہیں رکھی کہ پاکستانی حکومت اپنے شاہانہ اخراجات اور حکومتی افراد کے غیر ملکی دورے کم کرکے اپنی آمدنی کے مطابق اخراجات کم کرے تاکہ اسے مزید قرضے نہ لینا پڑیں۔
موجودہ حکومت کی طرف سے پی ٹی آئی حکومت پر الزام لگایا جاتا ہے کہ اس نے سب سے زیادہ غیر ملکی قرضے لیے اور اقتدار جاتا دیکھ کر آئی ایم ایف کو مزید ناراض کرنے کے فیصلے کیے تھے جس پر نئی حکومت کو غیر ملکی قرضوں کے حصول کے لیے سخت محنت کرنا پڑی تھی اور چار سال سے عوام سرکاری طور یہ دعوے ہی سنتے آ رہے ہیں کہ ہمیں قرضے نہیں غیر ملکی سرمایہ کاری چاہیے۔
یہ دعوے صرف دکھاوے کے لیے ہیں اور حکومت کی اولین ترجیح غیر ملکی قرضوں اور امداد کا حصول رہی ہے۔ حکومت پاکستان کو قرضے مانگنے کی عادت چھوڑدینی چاہیے اور اپنے پیروں پر کھڑے ہونے اور اپنے حاصل مالی وسائل استعمال کرکے خود انحصاری کی عملی کوشش کرنے پر توجہ دینی چاہیے۔ ملکی صنعتوں اور غریبوں پر ٹیکسوں کی بھرمار ہے اور جو تنخواہ دار طبقہ ٹیکسز کے شکنجے میں پہلے سے پھنسا ہوا ہے اس پر اور عوام پر مزید ٹیکس بڑھا دیے گئے ہیں۔
حکومتی ٹیکسوں کی بھرمار، مہنگی بجلی و گیس پر فکسڈ چارجز لگا کر بھی حکومت مطمئن نہیں۔ عوام بجلی نہ بھی استعمال کریں اور سولر سسٹم لگائیں وہ بھی حکومت کو قبول نہیں۔ بجلی پر پہلے ہی بے شمار ٹیکس لگے ہوئے ہیں اس پر کم سے کم بجلی استعمال پر فکسڈ چارجز دو ماہ بعد ہی چھ سو سے نو سو روپے ماہانہ کر دیے گئے ہیں۔ فکسڈ چارجز سے آمدنی بڑھانے کا نیا طریقہ ایجاد کر لیا گیا ہے۔
عوام سانس لینے اور سڑکیں ضرور مفت استعمال کر رہے ہیں اور ہر چیز پر ٹیکس متعلقہ اداروں کو ادا کر رہے ہیں اور وزارت خزانہ ایک ہزار روپے معاوضہ لینے والوں سے بھی ڈیڑھ سو روپے ٹیکس لے رہا ہے اور بیس ہزار ماہانہ کمانے والوں سے بھی تین ہزار روپے لیے جا رہے ہیں جو حکومتی مظالم کی انتہا ہے پھر بھی حکومتی رونا ختم ہونے میں نہیں آتا اور عوام پر جھوٹا الزام کہ وہ ٹیکس نہیں دیتے۔
بڑے تاجروں سے انکم ٹیکس وصولی اور ہر سال اپنے اہداف وصولی میں ناکامی سرکار کا قصور ہے سرکاری ادارے اپنے اہداف حاصل کرنے میں ناکام ثابت ہو چکے ہیں۔ حکومت دکھاوے کی حد تک سرمایہ کاری کو اپنی ترجیح قرار تو دیتی ہے مگر عملی طور ایسا نہیں کر رہی اور اس کی ترجیح اب بھی غیر ملکی قرضوں اور امداد کا حصول ہے۔
وزیر توانائی نے کہا ہے کہ قابل تجدید توانائی کے لیے تین سو ارب ڈالر کی سرمایہ کاری کی ہمیں ضرورت ہے۔ ملکی صنعتوں پر پہلے سے ٹیکسوں کی بھرمار ہے ، نئی سرمایہ کاری کہاں سے آئے گی۔ صنعتیں باہر سے کون لائے گا یہاں تو ملکی سرمایہ بیرون ملک منتقل کیا جا رہے ہے تو یہاں بیرونی سرمایہ کار کیوں آنا چاہیں گے۔ نجیبجلی کمپنیوں کو نوازنا جاری ہے ۔ ایک مخصوص طبقے کو ٹیکسوں پر چھوٹ دی جارہی ہے، جب کہ عام لوگوں کو حکومت ریلیف کیا دے گی ،اسے تو طاقتوروں کو ٹیکسوں سے چھوٹ دینے سے ہی فرصت نہیں مل رہی۔