WE News:
2026-07-24@06:35:58 GMT

بار سیاست: قائداعظمؒ کے نظریے سے گروپ ازم تک

اشاعت کی تاریخ: 16th, January 2026 GMT

بار سیاست: قائداعظمؒ کے نظریے سے گروپ ازم تک

اسلام آباد بار ایسوسی ایشن کے حالیہ انتخابات میں ایک مرتبہ پھر نعیم گجر ایڈووکیٹ کی قیادت میں راجہ علیم عباسی گروپ، جو بھون گروپ سے وابستہ سمجھا جاتا ہے، نے مکمل پینل کے ساتھ کامیابی حاصل کی۔ نعیم گجر دوسری بار صدر منتخب ہوئے ہیں۔ بظاہر یہ ایک جمہوری عمل کا تسلسل ہے، مگر اس کے ساتھ ہی پاکستان میں بار سیاست کے کردار، حدود اور سمت پر ایک سنجیدہ اور ناگزیر بحث جنم لیتی ہے۔

بار سیاست پر تنقید کے جواب میں عموماً یہ دلیل دی جاتی ہے کہ قائداعظم محمد علی جناحؒ اور علامہ محمد اقبالؒ جیسے عظیم رہنما بھی پیشے کے اعتبار سے وکیل تھے اور انہوں نے عملی سیاست میں نمایاں کردار ادا کیا۔ یہ دلیل تاریخی طور پر درست سہی، مگر سوال یہ ہے کہ کیا ان کی سیاست آج کی بار سیاست سے مماثلت رکھتی تھی؟

حقیقت یہ ہے کہ قائداعظمؒ اور علامہ اقبالؒ نے کبھی وکالت کو گروہ بندی، ذاتی اثرورسوخ یا طاقت کے حصول کا ذریعہ نہیں بنایا۔ ان کی سیاست نظریاتی، آئینی اور قومی مفاد سے جڑی ہوئی تھی۔ نہ انہوں نے بار الیکشنز کو سیاسی جنگ بنایا، نہ ہی عدالتی نظام کو دباؤ میں لانے کے لیے ہڑتالوں کو معمول بنایا۔ وہ آزاد عدلیہ کے علمبردار تھے، نہ کہ اس پر اثرانداز ہونے کے خواہاں۔

آج کی صورتِ حال اس کے برعکس دکھائی دیتی ہے۔ موجودہ بار الیکشنز پر کروڑوں روپے خرچ کیے جاتے ہیں۔ حکومتی، اپوزیشن اور دیگر طاقتور حلقے اپنے پسندیدہ امیدواروں پر سرمایہ کاری کرتے ہیں تاکہ کامیابی کی صورت میں اپنے مفادات کا تحفظ یقینی بنایا جا سکے۔ یہ رجحان بار جیسے پیشہ ور ادارے کی ساکھ پر سنجیدہ سوالات کھڑے کرتا ہے۔

یہ بات بھی اپنی جگہ درست ہے کہ بار سیاست کے مثبت پہلو موجود ہیں۔ وکلا تحریک نے آمریت کے خلاف جدوجہد میں تاریخی کردار ادا کیا، عدلیہ کی آزادی کی تحریک میں وکلا صفِ اول میں رہے، اور آئین، انسانی حقوق اور شہری آزادیوں کے تحفظ کے لیے اجتماعی آواز بلند کی۔ بار نے نوجوان وکلا کو نمائندگی دی اور انہیں ایک منظم پلیٹ فارم فراہم کیا۔ اگر یہ کردار نہ ہوتا تو شاید آج عدلیہ مکمل طور پر آزاد نہ ہوتی۔

تاہم، جیسا کہ سینئر وکیل سردار علیم ارشد عباسی کے مطابق مسئلہ بار سیاست کا وجود نہیں بلکہ اس کا بگاڑ ہے۔ گزشتہ دو دہائیوں میں نظریاتی سیاست بتدریج گروپ ازم میں بدل گئی۔ بار الیکشن خدمت کے بجائے سرمایہ کاری بن گئے اور بعض گروپس طاقتور سیاسی و معاشی حلقوں سے جڑ گئے۔ نتیجتاً بار ایک پیشہ ور ادارے کے بجائے دباؤ ڈالنے والے گروہ کی شکل اختیار کرتی چلی گئی۔

عدالتی امور کے معروف صحافی کوثر نقوی کے مطابق آج ججوں کے بارے میں یہ تاثر عام ہوتا جا رہا ہے کہ ان کی تقرری اور تصدیق میں بار کونسلوں اور طاقتور وکیل گروپس کا اثر و رسوخ شامل ہے۔ اگر جج یہ محسوس کریں کہ ان کا مستقبل کسی گروپ کی خوشنودی سے وابستہ ہے تو وہ کس طرح آزادانہ اور غیر جانبدارانہ فیصلے کر سکیں گے؟ یہ صورتِ حال آزاد عدلیہ کے تصور کے لیے ایک سنجیدہ خطرہ ہے۔

اس پوری بار سیاست اور گروہ بندی کا سب سے بڑا نقصان عام شہری کو ہوتا ہے۔ بار بار ہڑتالوں، عدالتی بائیکاٹس اور کام بند تحریکوں کے باعث مقدمات برسوں التوا کا شکار رہتے ہیں۔ غریب سائل، خواتین، زیرِ حراست ملزمان اور انصاف کے منتظر شہری سب سے زیادہ متاثر ہوتے ہیں۔ انصاف میں تاخیر دراصل انصاف سے انکار کے مترادف ہے۔

وکلا کا سیاست میں کردار فطری اور بعض اوقات ضروری بھی ہے، مگر شرط یہ ہے کہ یہ سیاست پیشہ ورانہ ذمہ داریوں پر حاوی نہ ہو۔ بار ہڑتال آخری حربہ ہونی چاہیے، معمول نہیں۔ گروہی مفاد کبھی بھی سائل کے حقِ انصاف پر غالب نہیں آنا چاہیے۔

آج ضرورت اس امر کی ہے کہ بار سیاست کو ختم نہیں بلکہ درست کیا جائے۔ ہڑتالوں کے لیے واضح ضابطہ، سائلین کے حقوق کا مؤثر تحفظ، بار عہدیداروں کے مالی و سیاسی مفادات کی شفافیت اور نظریاتی سیاست کی بحالی وقت کی اہم ضرورت ہے۔

آزاد اور دانشور وکلا اس بات پر متفق ہیں کہ قائداعظمؒ اور علامہ اقبالؒ وکیل ضرور تھے، مگر انہوں نے وکالت کو کبھی ذاتی یا گروہی طاقت کی سیاست میں تبدیل نہیں ہونے دیا۔ اگر بار سیاست اسی اصولی راستے پر واپس نہ آئی تو اندیشہ ہے کہ وکلا انصاف کے محافظ کے بجائے انصاف کے راستے کی سب سے مضبوط رکاوٹ بن جائیں گے اور یہ کسی بھی جمہوری معاشرے کے لیے ایک خطرناک علامت ہوگی۔

ادارے کا کالم نگار کی رائے کے ساتھ متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

عبید الرحمان عباسی

سینئر قانون دان کالم نگار اور فری لانس جرنلسٹ ہیں۔

.

ذریعہ

ذریعہ: WE News

کلیدی لفظ: بار سیاست کے لیے

پڑھیں:

تحریک انصاف5 اگست کو کیا کرنے جا رہی ہے؟

پاکستان تحریک انصاف (PTI) کے بانی اور سابق وزیراعظم عمران خان کی اڈیالہ جیل میں قید کے 3 سال مکمل ہونے پر پارٹی 5 اگست کو احتجاجی پروگرام پر غور کر رہی ہے تاہم پارٹی ذرائع کے مطابق اس حوالے سے مرکزی قیادت کے اندر ابھی تک مکمل اتفاق رائے نہیں ہو سکا جس کے باعث حتمی احتجاجی کال جاری نہیں کی گئی۔

پارٹی ذرائع کا کہنا ہے کہ عمران خان کی ہمشیرہ علیمہ خان اڈیالہ جیل کے باہر بھرپور احتجاج کی حامی ہیں۔ ان کے مؤقف کے مطابق پارٹی کے ارکان قومی و صوبائی اسمبلی، سینیٹرز اور کارکنوں کو جیل کے باہر جمع ہونا چاہیے تاکہ عمران خان کی قید کے خلاف مؤثر پیغام دیا جا سکے۔

دوسری جانب ذرائع کے مطابق پارٹی کے بعض سینیئر رہنما، جن میں چیئرمین بیرسٹر گوہر علی خان بھی شامل ہیں، لاہور میں احتجاج یا کسی متبادل پروگرام کے حق میں دکھائی دیتے ہیں۔

بڑی احتجاجی کال پر تحفظات

پارٹی ذرائع کے مطابق متعدد ارکان قومی و صوبائی اسمبلی نے قیادت کو آگاہ کیا ہے کہ مہنگائی، مقدمات کے خدشات اور مسلسل احتجاجی سرگرمیوں کے باعث عوام پہلے جیسی تعداد میں سڑکوں پر آنے کے لیے تیار نہیں۔

ذرائع کے مطابق بعض رہنماؤں کی رائے ہے کہ ہر رکن اپنے اپنے حلقے میں علامتی یا ٹوکن احتجاج کرے اور عوام کو یہ پیغام دے کہ عمران خان کی قید کو 3 سال مکمل ہو گئے ہیں۔

پارٹی کے ایک حلقے کی جانب سے یہ تجویز بھی سامنے آئی ہے کہ 5 اگست کو کسی بڑے احتجاجی پروگرام سے گریز کیا جائے تاکہ کارکنوں اور رہنماؤں کو مزید گرفتاریوں اور مقدمات کا سامنا نہ کرنا پڑے۔

ذرائع کے مطابق ابھی تک یہ طے نہیں ہو سکا کہ احتجاج، ریلی، جلسہ یا کسی اور شکل میں ہوگا۔ علیمہ خان کی اڈیالہ جیل کے باہر احتجاج کی تجویز پر بھی پارٹی کے بیشتر رہنما متفق نہیں جبکہ متعدد رہنما محدود یا علامتی احتجاج کے حق میں ہیں۔

9 مئی کے بعد بڑا احتجاج منظم نہ ہو سکا

پارٹی ذرائع کے مطابق 9 مئی 2023 کے واقعات کے بعد پی ٹی آئی بڑے پیمانے پر کوئی کامیاب احتجاجی تحریک منظم نہیں کر سکی۔

26 نومبر کو خیبر پختونخوا کے سابق وزیراعلیٰ علی امین گنڈاپور اور بشریٰ بی بی کی قیادت میں عمران خان کی رہائی کے لیے اسلام آباد کی جانب مارچ کیا گیا تاہم یہ احتجاج کسی واضح نتیجے کے بغیر ختم ہو گیا۔

مزیدپڑھیں:بیوٹی انفلوئنسر کاسمیٹک سرجری کے دوران چل بسی

اس احتجاج کے بعد پارٹی کے متعدد کارکنوں اور رہنماؤں کی گرفتاریاں ہوئیں جس کے بعد پارٹی کسی بڑے احتجاجی منصوبے کا اعلان نہیں کر سکی۔ اس دوران مختلف مواقع پر ریلیاں اور مظاہرے بھی کیے گئے تاہم حکومتی اقدامات اور دیگر عوامل کے باعث وہ مطلوبہ نتائج حاصل نہ کر سکے۔

عمران خان کی قید کو 3 سال مکمل

عمران خان 5 اگست 2023 سے اڈیالہ جیل میں قید ہیں۔ اس عرصے کے دوران ان کے خلاف متعدد مقدمات درج کیے گئے جنہیں پاکستان تحریک انصاف سیاسی انتقام قرار دیتی ہے۔

پارٹی کی جانب سے مختلف مواقع پر عمران خان کی صحت، خصوصاً آنکھوں کے مسائل، اہلخانہ اور وکلا سے ملاقاتوں میں مبینہ رکاوٹوں اور عدالتی احکامات پر عمل درآمد سے متعلق تحفظات کا اظہار بھی کیا جاتا رہا ہے۔

5 اگست کی روایت برقرار رہے گی؟

گزشتہ برسوں میں پاکستان تحریک انصاف 5 اگست کو مختلف شہروں میں احتجاج، ریلیوں اور پرامن مظاہروں کے ذریعے عمران خان کی رہائی کے مطالبات اٹھاتی رہی ہے۔

ذرائع کے مطابق اس سال بھی ضلعی سطح پر مشاورت اور تیاریاں جاری ہیں تاہم مرکزی قیادت کی جانب سے ملک گیر احتجاج یا کسی بڑے پروگرام کے بارے میں حتمی فیصلہ ابھی سامنے نہیں آیا۔

متعلقہ مضامین

  • نیٹ فلکس کی پہلی پاکستانی اوریجنل سیریز ’جو بچے ہیں سنگ سمیٹ لو‘ کب ریلیز ہو گی؟
  • ’ابھی ہو گیا، بس‘، سونو نگم نے نیٹ احتجاج پر تبصرہ کرنے سے انکار کر دیا
  • تحریک انصاف5 اگست کو کیا کرنے جا رہی ہے؟
  • 5 اگست کو پاکستان تحریک انصاف کیا کرنے جا رہی ہے؟
  • قائداعظم کے بارے میں سازشی تھیوریز نہ گھڑیں
  • باب المندب بند۔ آگے کیا ہوگا؟
  • پاکستان کا موقف اور خطے میں امن کا تقاضا
  • پیپلز پارٹی کا فارم 47 پر حالیہ بیانیہ پی ٹی آئی بیانیے سے مطابقت رکھتا ہے، علی ظفر
  • نواز شریف کل میرپور میں انتخابی جلسے سے خطاب کریں گے
  • حیسکو میں ایک ارب 6 کروڑ سے زائد کی کرپشن کا انکشاف