امریکی عدالت نے فلسطین حامی رہنما محمود خلیل کی رہائی کا حکم منسوخ کردیا
اشاعت کی تاریخ: 16th, January 2026 GMT
امریکا کی ایک اپیل عدالت نے فلسطین حامی سرگرم رہنما محمود خلیل کی رہائی کے حکم کو کالعدم قرار دے دیا ہے، جس کے بعد ان کی دوبارہ گرفتاری کا امکان پیدا ہو گیا ہے۔ عدالتی دستاویزات کے مطابق یہ فیصلہ جمعرات کو جاری کیا گیا۔
محمود خلیل امریکا کے قانونی مستقل رہائشی ہیں، ان کی اہلیہ امریکی شہری ہیں جبکہ ان کا بیٹا امریکا میں پیدا ہوا۔ انہیں مارچ میں امیگریشن حکام نے حراست میں لیا تھا اور تین ماہ تک قید رکھا گیا، جہاں ان پر الزام عائد کیا گیا تھا کہ وہ امریکی خارجہ پالیسی کے مفادات کے لیے خطرہ ہیں۔
کولمبیا یونیورسٹی کے سابق طالبعلم محمود خلیل امریکا بھر میں ہونے والے فلسطین حامی طلبہ احتجاج کی نمایاں شخصیات میں شمار ہوتے ہیں۔ انہیں جون میں رہائی ملی تھی، تاہم ان کے خلاف ملک بدری کی کارروائی جاری رہی۔
مزید پڑھیںغزہ منصوبے کا دوسرا مرحلہ شروع، امریکا کا حماس کو غیر مسلح کرنے کا اعلان
جنگ بندی کے باوجود تین ماہ کے دوران غزہ میں 100 سے زائد بچے شہید ہوگئے، اقوام متحدہ کا خوفناک انکشاف
نیو جرسی کے وفاقی جج مائیکل فربیاز نے خلیل کی گرفتاری کو غیر قانونی قرار دیا تھا، تاہم فلاڈیلفیا میں قائم اپیل عدالت نے اپنے فیصلے میں کہا ہے کہ ضلعی عدالت کو اس کیس کی سماعت کا اختیار حاصل نہیں تھا اور معاملہ امیگریشن عدالت میں سنا جانا چاہیے تھا۔
عدالت کے 2-1 فیصلے کے بعد محمود خلیل کی دوبارہ گرفتاری کی راہ ہموار ہو گئی ہے، تاہم یہ فیصلہ فوری طور پر نافذ نہیں ہوگا، جس کے باعث وہ فی الحال آزاد رہیں گے۔ محمود خلیل نے فیصلے پر ردعمل دیتے ہوئے کہا کہ یہ فیصلہ مایوس کن ہے لیکن فلسطین اور انصاف کے لیے ان کے عزم کو کمزور نہیں کر سکتا
.
ذریعہ
ذریعہ: Express News
کلیدی لفظ: محمود خلیل خلیل کی
پڑھیں:
امریکا نے ایران پر مسلسل 13 ویں رات بھی فضائی حملے شروع کر دیے، سینٹکام
امریکہ نے ایران کے خلاف مسلسل 13 ویں رات بھی فوجی کارروائیاں جاری رکھیں جبکہ ایرانی شہر اہواز میں متعدد دھماکوں کی آوازیں سنی جانے کی اطلاعات سامنے آئی ہیں۔
امریکی سینٹرل کمانڈ سینٹکام نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر جاری بیان میں تصدیق کی کہ امریکی افواج نے جمعرات کی شب ایران کے فوجی اہداف پر ایک اور حملہ کیا۔ بیان کے مطابق یہ کارروائیاں مسلسل 13 ویں رات جاری رہیں۔
U.S. forces started another night of strikes against Iranian military targets at 6:45 p.m. ET today. This is the 13th consecutive night of strikes aimed to hold Iran accountable and diminish threats from the Islamic Revolutionary Guard Corps to commercial shipping.
مزید پڑھیںمشرق وسطیٰ کی صورتحال کنٹرول سے باہر ہوتی جارہی ہے، یو این سیکریٹری جنرل
جارحیت کی قیمت واشنگٹن کو بہت مہنگی پڑے گی، عباس عراقچی
— U.S. Central Command (@CENTCOM) July 23, 2026سینٹکام کا کہنا ہے کہ ان حملوں کا مقصد ایران کو اس کے اقدامات پر جوابدہ بنانا اور پاسداران انقلاب کی جانب سے تجارتی بحری جہازوں کو لاحق خطرات کو کم کرنا ہے۔
دوسری جانب ایران کے صوبہ خوزستان کے دارالحکومت اہواز کے رہائشیوں نے جمعہ کی علی الصبح متعدد زور دار دھماکوں کی آوازیں سننے کی اطلاع دی ہے۔
ایرانی خبر رساں ادارے کے مطابق دھماکوں کی تفصیلات فوری طور پر سامنے نہیں آسکیں۔