محمود خان اچکزئی کی بطور اپوزیشن لیڈر نامزدگی پر سابق پی ٹی آئی رہنما کیا کہتے ہیں؟
اشاعت کی تاریخ: 16th, January 2026 GMT
عمران خان کی جانب سے محمود خان اچکزئی کو قومی اسمبلی میں اپوزیشن لیڈر نامزد کرنے پر آغاز میں پی ٹی آئی میں بھی اختلافات سامنے آئے تھے، بعض رہنماؤں کا خیال تھا کہ اپوزیشن لیڈر کا تعلق پی ٹی آئی سے ہی ہونا چاہیے، بعد ازاں پی ٹی آئی کے تمام رہنماؤں نے محمود خان اچکزئی کے نام پر اتفاق کر لیا، تاہم اب بھی پی ٹی آئی کے سابق سینیئر رہنما اس فیصلے پر تنقید کرتے ہیں۔
یہ بھی پڑھیں: اپوزیشن لیڈر کی تقرری کا عمل کب تک مکمل ہونے کا امکان ہے؟ معاملات طے پا گئے
پی ٹی آئی کے سابق سینیئر رہنما شیر افضل مروت نے اس حوالے سے کہا ہے کہ محمود خان اچکزئی کی اپوزیشن لیڈر نامزدگی اس بات کا ثبوت ہے کہ پی ٹی آئی کی موجودہ قیادت پر عمران خان کو اعتماد نہیں ہے، ہو سکتا ہے کہ عمران خان کو کسی نے کہا ہو کہ ان کی پارٹی کے رہنما اس بہتر انداز میں اپوزیشن نہیں کر سکتے کہ جس طرح محمود خان اچکزئی کر سکتے ہیں۔
’ان کی نامزدگی پاکستان تحریک انصاف کی ترقی اور مستقبل کے لیے اچھی بات نہیں‘شیر افضل مروت کا کہنا ہے کہ ان کی نامزدگی پاکستان تحریک انصاف کی ترقی اور پاکستان تحریک انصاف کے مستقبل کے لیے اچھی بات نہیں ہے، اور مستقبل میں عمران خان کا یہ فیصلہ پارٹی کے لیے طعنہ بن سکتی ہے، بیرسٹر گوہر اور اسد قیصر سوچ رہے ہوں گے کہ ان پر عمران خان نے عدم اعتماد کیا ہے۔
شیر افضل مروت نے کہا کہ محمود خان اچکزئی ایک سینیئر سیاست دان ہیں اور ان کا سیاست اور پارلیمنٹ میں وسیع تجربہ ہے، ایک بات واضح ہے کہ محمود خان اپوزیشن لیڈر بننے کے بعد پاکستان تحریک انصاف کو کوئی نقصان نہیں پہنچائیں گے، وہ فرینڈلی اپوزیشن نہیں کریں گے، وہ ایک بڑے سیاست دان ہیں اور ان کا سیاسی تجربہ بہت زیادہ ہے، میرے خیال میں پی ٹی آئی رہنماؤں سے بہتر اپوزیشن محمود خان اچکزئی کر سکتے ہیں۔
’پی ٹی آئی کے موجودہ رہنما قابل نہیں، اس لیے محمود خان اچکزئی کو اپوزیشن لیڈر نامزد کیا گیا‘پاکستان تحریک انصاف کے سابق رہنما فواد چوہدری کا اس حوالے سے کہنا ہے کہ محمود خان اچکزئی کو اپوزیشن لیڈر اس لیے نامزد کیا گیا ہے کیونکہ اس وقت جو پی ٹی آئی کے موجودہ رہنما ہیں ان میں سے کوئی بھی اس قابل نہیں ہے کہ اس کو اپوزیشن لیڈر بنایا جا سکے۔
انہوں نے کہا کہ اپوزیشن لیڈر کے لیے کسی ایسے بندے کی ضرورت ہوتی ہے کہ جس کا کوئی سیاسی قد ہو، جس کی بات میں کوئی وزن ہو یا جس کی بات کوئی سنتا ہو، تو پی ٹی آئی میں اس وقت ایسا کوئی بھی بندہ موجود نہیں ہے، اس لیے محمود خان اچکزئی کی نامزدگی میرے خیال میں بہتر فیصلہ ہے۔ پی ٹی آئی کے ساتھ اس وقت کوئی بھی بات کرنے کے لیے تیار نہیں تھا، اس لیے پی ٹی آئی میں سوچا گیا ہے کہ کوئی ایسا بندہ ہو جو کسی بھی طرح معاملات کو آگے بڑھا سکے۔
یہ بھی پڑھیں: پاکستان تحریک انصاف نے محمود خان اچکزئی کو قائد حزب اختلاف نامزد کر دیا
فواد چوہدری نے کہا کہ محمود خان اچکزئی کی نامزدگی سے اس وقت جو تناؤ کی فضا ہے اس میں کمی آئے گی، اس وقت جو مذاکرات کی بات چل رہی ہے اور جو ملاقاتیں ہو رہی ہیں، محمود خان اچکزئی کے اپوزیشن لیڈر بننے کے بعد ان ملاقاتوں اور مذاکرات میں بھی کافی سہولت ہوگی۔ پی ٹی آئی کے موجودہ رہنما کشیدگی کم کرنے میں بالکل ناکام ہوئے ہیں اور ہو سکتا ہے کہ محمود خان اچکزئی کے اپوزیشن لیڈر بننے سے کشیدگی میں کچھ کمی ہو سکے۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
we news اپویشن لیڈر اسپیکر قومی اسمبلی ایاز صادق تحریک انصاف شیرافضل مروت فواد چوہدری قومی اسمبلی محمود خان اچکزئی.
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: اسپیکر قومی اسمبلی ایاز صادق تحریک انصاف شیرافضل مروت فواد چوہدری قومی اسمبلی محمود خان اچکزئی پاکستان تحریک انصاف کہ محمود خان اچکزئی محمود خان اچکزئی کو محمود خان اچکزئی کی اپوزیشن لیڈر نامزد ہے کہ محمود خان پی ٹی آئی کے کی نامزدگی نہیں ہے اس لیے کے لیے نے کہا
پڑھیں:
سرمایہ کاری نہیں قرضے ترجیح کب تک
حکمران اکثر یہ بات کرتے رہتے ہیں کہ ہمیں قرضے نہیں سرمایہ کاری درکار ہے بلکہ ایسے بیانات مسلسل آتے رہے ہیں اور آئی ایم ایف کے مطالبات پر حکومت فوری رضامندی بھی ظاہر کر دیتی ہے تاکہ قرض کی منظوری میں تاخیر نہ ہو۔ قرض منظوری کے بعد ایسے بیانات جاری ہوتے ہیں جیسے بہت بڑا معرکہ سر کر لیا ہو۔ مطلب یہ ہے کہ ہمیں قرض کے حصول کے لیے آئی ایم ایف کی ہر شرط ماننا اور بے انتہا کوشش کے بعد قرض حاصل کرنے میں کامیابی حاصل ہوتی ہے۔
ملک کو اس حالت میں پہنچایا جا چکا ہے کہ خود انحصاری کی منزل بہت دور ہوگئی ہے ۔ پاکستان کی ہر حکومت نے آئی ایم ایف کی ہر بات مانی لیکن خود انحصاری کی منزل نہ مل سکی۔ غیر سیاسی وزیر خزانہ بھی اس امید پر لائے گئے کہ ان کی کوشش سے ملک خود انحصاری کی طرف بڑھے گا اور غیر ملکی قرضوں کے مزید حصول کی کوشش نہیں ہوگی لیکن سب نے اپنا اولین مقصد مزید قرضے حاصل کرنا بنا رکھا ہے اور آئی ایم ایف کو ہر ممکن طریقے سے مزید قرض دینے پر آمادہ کرنا رہ گیا ہے ۔
اب بھی پاکستان کے لیے آئی ایم ایف کا مزید قرضہ منظور کرا لیا گیا ہے جس کا حکومتی حلقے پرجوش خیر مقدم کررہے ہیں۔ ہر وزیر خزانہ کے بارے میں یہ دعویٰ سننے میں آتا رہاکہ وہ آئی ایم ایف سے معاملات طے کرنے کا وسیع تجربہ رکھتے ہیں، لیکن معاملہ مرض بڑھتا ہی گیا جوں جوں دوا کی جیسا ہی رہا۔ آئی ایم ایف سے جان نہیں چھوٹ رہی بلکہ آئی ایم ایف مزید شرائط سخت کرتا جا رہا ہے اور حکومت کو پرانے قرضوں پر سود ادا کرنے کے لیے مزید قرضے لینا پڑ رہے ہیں۔
آئی ایم ایف اپنی ہر شرط منوا رہا ہے اور حال ہی میں آئی ایم ایف نے پٹرولیم لیوی ہدف میں 18 فی صد اضافے کا کہا ہے جب کہ حکومت نے یہ لیوی آئی ایم ایف کے مطالبے سے بھی بہت زیادہ بڑھا رہی ہے مگر آئی ایم ایف ہے کہ مطمئن ہی نہیں ہوتا۔ آئی ایم ایف نے قرض دینے کے لیے کبھی یہ شرط نہیں رکھی کہ پاکستانی حکومت اپنے شاہانہ اخراجات اور حکومتی افراد کے غیر ملکی دورے کم کرکے اپنی آمدنی کے مطابق اخراجات کم کرے تاکہ اسے مزید قرضے نہ لینا پڑیں۔
موجودہ حکومت کی طرف سے پی ٹی آئی حکومت پر الزام لگایا جاتا ہے کہ اس نے سب سے زیادہ غیر ملکی قرضے لیے اور اقتدار جاتا دیکھ کر آئی ایم ایف کو مزید ناراض کرنے کے فیصلے کیے تھے جس پر نئی حکومت کو غیر ملکی قرضوں کے حصول کے لیے سخت محنت کرنا پڑی تھی اور چار سال سے عوام سرکاری طور یہ دعوے ہی سنتے آ رہے ہیں کہ ہمیں قرضے نہیں غیر ملکی سرمایہ کاری چاہیے۔
یہ دعوے صرف دکھاوے کے لیے ہیں اور حکومت کی اولین ترجیح غیر ملکی قرضوں اور امداد کا حصول رہی ہے۔ حکومت پاکستان کو قرضے مانگنے کی عادت چھوڑدینی چاہیے اور اپنے پیروں پر کھڑے ہونے اور اپنے حاصل مالی وسائل استعمال کرکے خود انحصاری کی عملی کوشش کرنے پر توجہ دینی چاہیے۔ ملکی صنعتوں اور غریبوں پر ٹیکسوں کی بھرمار ہے اور جو تنخواہ دار طبقہ ٹیکسز کے شکنجے میں پہلے سے پھنسا ہوا ہے اس پر اور عوام پر مزید ٹیکس بڑھا دیے گئے ہیں۔
حکومتی ٹیکسوں کی بھرمار، مہنگی بجلی و گیس پر فکسڈ چارجز لگا کر بھی حکومت مطمئن نہیں۔ عوام بجلی نہ بھی استعمال کریں اور سولر سسٹم لگائیں وہ بھی حکومت کو قبول نہیں۔ بجلی پر پہلے ہی بے شمار ٹیکس لگے ہوئے ہیں اس پر کم سے کم بجلی استعمال پر فکسڈ چارجز دو ماہ بعد ہی چھ سو سے نو سو روپے ماہانہ کر دیے گئے ہیں۔ فکسڈ چارجز سے آمدنی بڑھانے کا نیا طریقہ ایجاد کر لیا گیا ہے۔
عوام سانس لینے اور سڑکیں ضرور مفت استعمال کر رہے ہیں اور ہر چیز پر ٹیکس متعلقہ اداروں کو ادا کر رہے ہیں اور وزارت خزانہ ایک ہزار روپے معاوضہ لینے والوں سے بھی ڈیڑھ سو روپے ٹیکس لے رہا ہے اور بیس ہزار ماہانہ کمانے والوں سے بھی تین ہزار روپے لیے جا رہے ہیں جو حکومتی مظالم کی انتہا ہے پھر بھی حکومتی رونا ختم ہونے میں نہیں آتا اور عوام پر جھوٹا الزام کہ وہ ٹیکس نہیں دیتے۔
بڑے تاجروں سے انکم ٹیکس وصولی اور ہر سال اپنے اہداف وصولی میں ناکامی سرکار کا قصور ہے سرکاری ادارے اپنے اہداف حاصل کرنے میں ناکام ثابت ہو چکے ہیں۔ حکومت دکھاوے کی حد تک سرمایہ کاری کو اپنی ترجیح قرار تو دیتی ہے مگر عملی طور ایسا نہیں کر رہی اور اس کی ترجیح اب بھی غیر ملکی قرضوں اور امداد کا حصول ہے۔
وزیر توانائی نے کہا ہے کہ قابل تجدید توانائی کے لیے تین سو ارب ڈالر کی سرمایہ کاری کی ہمیں ضرورت ہے۔ ملکی صنعتوں پر پہلے سے ٹیکسوں کی بھرمار ہے ، نئی سرمایہ کاری کہاں سے آئے گی۔ صنعتیں باہر سے کون لائے گا یہاں تو ملکی سرمایہ بیرون ملک منتقل کیا جا رہے ہے تو یہاں بیرونی سرمایہ کار کیوں آنا چاہیں گے۔ نجیبجلی کمپنیوں کو نوازنا جاری ہے ۔ ایک مخصوص طبقے کو ٹیکسوں پر چھوٹ دی جارہی ہے، جب کہ عام لوگوں کو حکومت ریلیف کیا دے گی ،اسے تو طاقتوروں کو ٹیکسوں سے چھوٹ دینے سے ہی فرصت نہیں مل رہی۔