Daily Mumtaz:
2026-07-24@05:06:17 GMT

اپوزیشن لیڈر تعیناتی، سپیکر نے مشاورت مکمل کر لی

اشاعت کی تاریخ: 15th, January 2026 GMT

اپوزیشن لیڈر تعیناتی، سپیکر نے مشاورت مکمل کر لی

 

اسلام آباد(نیوزڈیسک) قومی اسمبلی میں اپوزیشن لیڈر کی تعیناتی کےمعاملے پر اہم پیش رفت سامنے آئی ہے ، اسپیکر ایازصادق نے اسمبلی حکام اور آئینی ماہرین سے مشاورت مکمل کرلی۔ قانونی ماہرین نےاسپیکر کو محمود اچکزئی کا نام ایوان میں ہی اعلان کرنے کی رائے دیدی۔

ذرائع کے مطابق آئینی ماہرین نے یہ تجویز دی ہے کہ اپوزیشن لیڈر کی تقرری کا معاملہ جہاں سے شروع ہوا تھا،اس کا اختتام بھی اسی ایوان کے اندر ہونا چاہیے۔آئینی ماہرین کی متفقہ رائے ہے کہ اپوزیشن لیڈر کی تقرری کا باضابطہ اعلان قومی اسمبلی کے فلور پر ہی کیا جائے،تاکہ کسی بھی آئینی یا سیاسی ابہام کی گنجائش باقی نہ رہے۔ذرائع کا کہنا ہے کہ اگر آج اپوزیشن لیڈر کی تقرری کا نوٹیفکیشن جاری نہ ہوا، تو اسپیکر قومی اسمبلی سردار ایاز صادق اسمبلی اجلاس کے دوران اپنی رائے ایوان کے سامنے رکھیں گے۔اسمبلی ذرائع کے مطابق اپوزیشن لیڈر کی تقرری کے اعلان کے بعد محمود خان اچکزئی کو ایوان میں خطاب کی دعوت دی جائے گی۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Daily Mumtaz

پڑھیں:

ٹرمپ کے وار پاورز محدود؛ امریکی پارلیمان نے ایران جنگ روکنے کی قرارداد منظور کرلی

امریکی ایوانِ نمائندگان نے صدر ڈونلڈ ٹرمپ کو ایران کے ساتھ جاری فوجی تنازع سے امریکی افواج واپس بلانے کی ہدایت دینے والی وار پاورز قرارداد دوبارہ منظور کرلی۔

عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق یہ قرارداد اپوزیشن جماعت ڈیموکریٹ کی رکنِ کانگریس پرامیلا جے پال کی جانب سے پیش کی گئی جس کے حق میں 214 جب کہ مخالفت میں 208 ووٹ پڑے۔

رائے شماری میں اپوزیشن جماعت ڈیموکریٹ کے تمام اراکین نے قرارداد کی حمایت کی جب کہ حکمراں جماعت ریپبلکن کے 5 ارکان نے بھی پارٹی پالیسی کے برعکس ووٹ دیتے ہوئے قرارداد کے حق میں رائے دی۔

خیال رہے کہ یہ دوسری بار ہے کہ ایوانِ نمائندگان نے اسی نوعیت کی قرارداد منظور کی ہے۔ گزشتہ ماہ بھی ایوان نے ایسی ہی ایک قرارداد منظور کی تھی جسے بعد میں سینیٹ نے بھی منظور کر لیا تھا۔

اگرچہ قرارداد کی منظوری سیاسی لحاظ سے اہم سمجھی جا رہی ہے تاہم اس کی قانونی حیثیت محدود ہے۔ ٹرمپ انتظامیہ کا مؤقف ہے کہ اس قسم کی وار پاورز قراردادیں آئین سے مطابقت نہیں رکھتیں اور صدر بطور کمانڈر اِن چیف قومی سلامتی کے معاملات میں فوجی فیصلے کرنے کا اختیار رکھتے ہیں۔

ووٹنگ سے قبل ہونے والی بحث میں ایوانِ خارجہ امور کمیٹی کے سرکردہ ڈیموکریٹ رکن گریگ میکس نے کہا کہ صدر ٹرمپ نے کانگریس کی پیشگی منظوری کے بغیر ایران کے خلاف فوجی کارروائی کر کے امریکی قانون اور آئینی تقاضوں کی خلاف ورزی کی ہے۔

یہ قرارداد ایسے وقت منظور ہوئی جب یمن کے حوثیوں کے بحیرہ احمر میں سعودی آئل ٹینکرز پر حملوں کے بعد عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمتیں 100 ڈالر فی بیرل سے تجاوز کرچکی ہیں۔

 

متعلقہ مضامین

  • سپریم کورٹ  نے نیب ترمیم کے بعد عدالتی دائرہ اختیار سے متعلق کیس کا فیصلہ سنا دیا
  • تحریک انصاف5 اگست کو کیا کرنے جا رہی ہے؟
  • ایران پر 13 ویں رات فضائی حملوں کے اہداف مکمل کر لیے گئے، سینٹکام
  • 5 اگست کو پاکستان تحریک انصاف کیا کرنے جا رہی ہے؟
  • پاکستان انسٹی ٹیوٹ آف فیشن ڈیزائن میں قائممقام وائس چانسلر کی تعیناتی کیلیے سینیٹ کا اجلاس طلب
  • امریکی ایوان نمائندگان کی ٹرمپ کو ایران جنگ روکنے کی ہدایت، قرارداد منظور
  • عالمی مارکیٹ میں تیل کی قیمت 100 ڈالر سے تجاوز، مزید اضافے کا خدشہ
  • ویپنگ کے نقصانات: نئی تحقیق میں صحت کے سنگین خطرات سے خبردار
  • ٹرمپ کے وار پاورز محدود؛ امریکی پارلیمان نے ایران جنگ روکنے کی قرارداد منظور کرلی
  • کے پی اسمبلی کا منظور شدہ بلدیاتی حکومت کا نیا ترمیمی بل آئین و قانون سے متصادم ہے، الیکشن کمیشن