جاوید شیخ دوست اداکارہ بشریٰ انصاری پر شدید برہم، وجہ کیا بنی؟
اشاعت کی تاریخ: 16th, January 2026 GMT
سینئر اداکار جاوید شیخ نے معروف اداکارہ بشریٰ انصاری کی جانب سے اپنی طلاق پر کی گئی طنزیہ بات پر سخت ردعمل کا اظہار کیا ہے۔
حالیہ ایونٹ کے دوران بشریٰ انصاری نے کہا کہ وہ جاوید شیخ کے پاس گئیں، لیکن انہیں کھانا پیش نہیں کیا گیا کیونکہ ان کے پاس گھر نہیں تھا۔ اداکارہ نے مزید کہا کہ جاوید شیخ کا گھر میری آنکھوں کے سامنے بنا اور اجڑ بھی گیا ساتھ ہی انہوں نے وضاحت کی کہ میری وجہ سے نہیں اجڑا۔
View this post on Instagram
A post shared by raheel baig official (@raheelbaig100)
اس پر جاوید شیخ نے برہمی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ بشریٰ نے میری ٹوٹی ہوئی شادی پر مذاق کیا لیکن ٹوٹا ہوا گھر مذاق نہیں ہے۔ میں نے کبھی ان کے ٹوٹے ہوئے گھر یا شادی کی ناکامی پر تبصرہ نہیں کیا۔ اگلی بار جب آپ میری کہانی سنائیں تو اپنی بھی شامل کریں کیونکہ آپ کی شادی بھی کامیاب نہیں ہوئی۔
سوشل میڈیا پر اس واقعے کے بعد صارفین نے جاوید شیخ کی حمایت کرتے ہوئے بشریٰ انصاری کے طنز پر افسوس کا اظہار کیا۔ صارفین نے جاوید شیخ کو لیجنڈ قرار دیا اور ان پر کیے گئے طنز کی مذمت کی جبکہ کئی صارفین نے کہا کہ شاید دونوں کی دوستی کو نظر لگ گئی ہے۔
اس ایونٹ میں جاوید شیخ اور بشریٰ انصاری کے علاوہ سینئر اداکار بہروز سبزوری، روبینہ اشرف، اور شبیر جان بھی موجود تھے۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
بشریٰ انصاری.
ذریعہ
ذریعہ: WE News
پڑھیں:
طوفانی سیلاب سے عوام شدید مشکلات کا شکار ہیں، حکومت فوری اقدامات اٹھائے، کاظم میثم
ممبر گلگت بلتستان اسمبلی نے ایک بیان میں کہا کہ صوبائی اور وفاقی حکومت سے مطالبہ کرتے ہیں مشکل کی اس گھڑی میں عوام کے شانہ بشانہ کھڑے ہوں اور متاثرین سیلاب کو ریلیف دینے اور بحالی کے لیے جامع منصوبہ بندی کے ساتھ اقدامات اٹھائیں۔ اسلام ٹائمز۔ سابق اپوزیشن لیڈر و ممبر گلگت بلتستان اسمبلی کاظم میثم نے اپنے ایک بیان میں کہا ہے کہ پورے گلگت بلتستان میں طوفانی سیلاب اور دریائی کٹاو سے عوام شدید مشکلات کے شکار ہیں، وفاقی اور صوبائی حکومت کو فوری اقدامات اٹھاتے ہوئے ریلیف اور بحالی کے لیے کام تیز کرنے کی ضرورت ہے۔ سکردو میں دریائی کٹاو کے سبب سترانگلونگما کواردو اور حوطو رنگاہ کے عوام شدید مشکلات کے شکار ہیں۔ زرعی اراضی اور درخت دریا برد ہو رہے ہیں لیکن تاحال کوئی ہنگامی بنیادوں پر بحالی کے لیے کوئی کام نہیں ہوا ہے۔ ضلعی انتظامیہ اور جی بی ڈی ایم اے کو کواردو حوطو رنگاہ اور رزسنا رنگاہ کے دریائی کٹاو روکنے کے لیے فوری اقدامات اٹھانا چاہیے۔ گزشتہ مہینے آنے والے شگریخورد میں سیلاب متاثرین کی بحالی کے بھی تاحال اقدامات نہیں اٹھائے گئے ہیں۔ جس کے سبب عوام میں شدید تشویش پائی جاتی ہے۔ کاظم میثم نے مزید کہا کہ طوفانی سیلاب کے سبب تقریبا تمام اضلاع میں تباہ کاریاں ہوئی ہیں اور شاہراہوں کی بندش کے سبب بھی مشکلات کے شکار ہیں۔ صوبائی اور وفاقی حکومت سے مطالبہ کرتے ہیں مشکل کی اس گھڑی میں عوام کے شانہ بشانہ کھڑے ہوں اور متاثرین سیلاب کو ریلیف دینے اور بحالی کے لیے جامع منصوبہ بندی کے ساتھ اقدامات اٹھائیں۔