انڈر 19 ورلڈ کپ 2026: پاکستان آج انگلینڈ کے خلاف مہم کا آغاز کرے گا
اشاعت کی تاریخ: 16th, January 2026 GMT
پاکستان کی انڈر 19 کرکٹ ٹیم آج آئی سی سی مینز انڈر 19 ورلڈ کپ 2026 میں اپنے سفر کا آغاز انگلینڈ کے خلاف کرے گی۔ یہ میچ زمبابوے کے دارالحکومت ہرارے میں واقع تاکاشنگا اسپورٹس کلب میں کھیلا جائے گا۔
ایشین چیمپئن پاکستان زمبابوے میں شاندار فارم کے ساتھ پہنچا ہے اور حالیہ ٹورنامنٹس میں عمدہ کارکردگی کے باعث ٹیم کا مورال بلند ہے۔
حالیہ کامیابیاں، پاکستان مضبوط امیدوارپاکستان نے حال ہی میں دبئی میں ہونے والے اے سی سی انڈر 19 ایشیا کپ کے فائنل میں بھارت کو 191 رنز سے شکست دے کر ٹائٹل اپنے نام کیا تھا۔ اس کے علاوہ ایک سہ ملکی سیریز میں میزبان زمبابوے کو 9 وکٹوں سے ہرایا، جو ورلڈ کپ سے قبل ٹیم کی مضبوط تیاری کا واضح ثبوت ہے۔
تیسری بار ٹائٹل جیتنے کا ہدفپاکستان اس سے قبل 2004 اور 2006 میں انڈر 19 ورلڈ کپ جیت چکا ہے اور اب تیسری بار ٹرافی اٹھانے کے لیے پُرعزم ہے۔ 16 ٹیموں پر مشتمل یہ میگا ایونٹ 15 جنوری سے 6 فروری تک نمیبیا اور زمبابوے میں کھیلا جا رہا ہے۔ پاکستان کو گروپ سی میں انگلینڈ، اسکاٹ لینڈ اور میزبان زمبابوے کے ساتھ رکھا گیا ہے۔
گروپ میچز کا شیڈولپاکستان آج کے میچ کے بعد 19 جنوری کو اسکاٹ لینڈ 22 جنوری کو زمبابوے کے خلاف، میدان میں اترے گا۔ پاکستان کے تمام گروپ میچز تاکاشنگا اسپورٹس کلب، ہرارے میں ہوں گے۔
سپر سکس، سیمی فائنلز اور فائنلگروپ مرحلے کے بعد
سپر سکس مرحلہ: 24 جنوری سے 1 فروری (بلاوایو اور ہرارے)
سیمی فائنلز: 3 اور 4 فروری
فائنل: 6 فروری، ہرارے اسپورٹس کلب
میں کھیلا جائے گا۔
کپتان کا اعتماد، تیاریوں پر اطمینانقومی انڈر 19 ٹیم کے کپتان فرحان یوسف نے ملتان میں ہونے والے 6 ماہ طویل تربیتی کیمپ کو ٹیم کے لیے نہایت مفید قرار دیا۔ ان کا کہنا تھا کہ اس کیمپ سے کھلاڑیوں کے درمیان ہم آہنگی پیدا ہوئی۔
انہوں نے زمبابوے میں وارم اپ میچز کو بھی اہم تجربہ قرار دیا، جن میں امریکا کے خلاف 69 رنز کی فتح شامل ہے، جبکہ بنگلہ دیش کے خلاف میچ بارش کی نذر ہوا۔
پاکستان کا انڈر 19 ورلڈ کپ اسکواڈپاکستان کے 15 رکنی اسکواڈ میں شامل کھلاڑی یہ ہیں:
فرحان یوسف (کپتان)،
عثمان خان (نائب کپتان)،
عبدال سبحان، احمد حسین،
علی حسن بلوچ، علی رضا،
دانیال علی خان، حمزہ ظہور (وکٹ کیپر)،
حذیفہ احسن، مومن قمر،
محمد سیام، محمد شایان (وکٹ کیپر)،
نقیب شفیق، سمیر منہاس، عمر زیب
علی رضا واحد کھلاڑی ہیں جنہیں ورلڈ کپ کھیلنے کا سابقہ تجربہ حاصل ہے۔ انہوں نے 2024 کے ایڈیشن میں 9 وکٹیں حاصل کی تھیں، جہاں پاکستان سیمی فائنل میں آسٹریلیا سے معمولی فرق سے ہار گیا تھا۔
حالیہ شاندار فتوحات اور بھرپور تیاری کے ساتھ پاکستان کی نظریں انگلینڈ کے خلاف فتح کے ساتھ انڈر 19 ورلڈ کپ 2026 کا آغاز کرنے پر مرکوز ہیں۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
انڈر 19 ورلڈ کپ 2026 پاکستان کرکٹ ٹیم.
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: انڈر 19 ورلڈ کپ 2026 پاکستان کرکٹ ٹیم انڈر 19 ورلڈ کپ 2026 کے ساتھ کے خلاف
پڑھیں:
واپڈا صارفین کے لیے خوشخبری، جون میں 20 پیسے فی یونٹ ریلیف برقرار
اسلام آباد،بجلی صارفین(awais laghari) کے لیے اچھی خبر سامنے آئی ہے کیونکہ جون 2026 کے دوران صارفین کو فی یونٹ 20 پیسے کا خالص ریلیف ملے گا جبکہ بجلی کی مجموعی قیمتوں میں کوئی اضافہ نہیں ہوگا۔
حکومتی ذرائع کے مطابق اس ریلیف کے نتیجے میں جون 2026 کے بجلی نرخ جنوری سے مئی 2026 کے مقابلے میں برقرار رہیں گے اور صارفین پر کوئی اضافی مالی بوجھ نہیں پڑے گا۔
پس منظر میں اپریل 2026 کے دوران عالمی توانائی منڈی کو شدید دباؤ کا سامنا رہا۔ ایران اور امریکا کے درمیان کشیدگی کے باعث آر ایل این جی کی قلت پیدا ہوئی جبکہ برینٹ خام تیل کی قیمت 70 ڈالر فی بیرل سے بڑھ کر 120 ڈالر فی بیرل تک پہنچ گئی۔
ماہرین کے مطابق اگر بروقت اقدامات نہ کیے جاتے تو صارفین پر 5 سے 6 روپے فی یونٹ تک اضافی بوجھ پڑ سکتا تھا۔حکومت نے صورتحال سے نمٹنے کے لیے محدود لوڈ مینجمنٹ، مارکیٹوں کی جلد بندش، مقامی گیس کی اضافی فراہمی اور فرنس آئل کے محدود استعمال سمیت متعدد اقدامات کیے۔
، جس کے نتیجے میں فیول ایڈجسٹمنٹ کا اثر صرف 1.73 روپے فی یونٹ تک محدود رہا۔ حکام کا کہنا ہے کہ ان اقدامات سے تقریباً 38 ارب روپے کا ممکنہ اضافی بوجھ صارفین پر منتقل ہونے سے بچ گیا۔
دوسری جانب بہتر انتظامی اصلاحات، لائن لاسز میں کمی، بجلی کی طلب میں اضافے اور مختلف ٹیرف پیکیجز کے مثبت اثرات کے باعث سہ ماہی ایڈجسٹمنٹ میں 1.93 روپے فی یونٹ کمی ہوئی۔
مزید پڑھیں:وفاقی کابینہ، ادویات ٹریک اینڈ ٹریس سسٹم نفاذ کی باقاعدہ منظوری دے دی
جس سے صارفین کو مجموعی طور پر 65 ارب روپے کا فائدہ پہنچا۔حکومت کا مؤقف ہے کہ توانائی کے شعبے میں بروقت فیصلوں اور مؤثر انتظامی حکمت عملی کے باعث عالمی اور علاقائی چیلنجز کے باوجود بجلی صارفین کو بڑے مالی بوجھ سے محفوظ رکھا گیا۔