فیفا ورلڈ کپ شروع ہونے سے پہلے ہی نیا ریکارڈ بن گیا
اشاعت کی تاریخ: 16th, January 2026 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
فیفا ورلڈ کپ کے آغاز سے قبل ہی ایک نیا ریکارڈ قائم ہو گیا ہے۔
میڈیا رپورٹس کے مطابق رواں سال ہونے والے فٹبال ورلڈ کپ کے لیے فیفا کو مختلف میچوں کے ٹکٹس کی 50 کروڑ سے زائد درخواستیں موصول ہو چکی ہیں، جو اب تک کی سب سے بڑی تعداد ہے۔
رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ سب سے زیادہ مانگ 17 جون کو امریکی شہر میامی میں کھیلے جانے والے کولمبیا اور پرتگال کے میچ کی ہے۔
واضح رہے کہ فیفا ورلڈ کپ 2026 امریکا، میکسیکو اور کینیڈا میں 11 جون سے 19 جولائی تک منعقد ہوگا، جس میں پہلی بار 48 ٹیمیں حصہ لیں گی۔
فیفا ورلڈ کپ 2026 کی فاتح ٹیم کو 5 کروڑ ڈالر انعامی رقم دی جائے گی، جبکہ گزشتہ ایڈیشن میں جیتنے والی ٹیم کو 4 کروڑ 20 لاکھ ڈالر ملے تھے۔ رنر اپ ٹیم کے لیے 3 کروڑ 30 لاکھ ڈالر کی انعامی رقم مقرر کی گئی ہے۔
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
کلیدی لفظ: فیفا ورلڈ کپ
پڑھیں:
ایران-امریکا مجوزہ معاہدہ، عالمی مارکیٹ میں تیل کی قیمت میں کمی
ایران کی جانب سے امریکا کے ساتھ مجوزہ معاہدے پر نظرثانی کی رپورٹس کے بعد عالمی مارکیٹ میں تیل کی قیمت گر گئی ہے۔
غیرملکی خبرایجنسی نے بتایا کہ ایران کی جانب سے امریکی مجوزہ معاہدے کا جائزہ لینے کی ایرانی میڈیا کی رپورٹس کے بعد عالمی مارکیٹ میں تیل کی قیمتیں کم ہوگئی ہیں جو پہلے سیشن میں بلند ہوگئی تھیں۔
عالمی مارکیٹ میں برینٹ خام تیل کی قیمت 0.69 ڈالر یا 0.7 فیصد کمی کے ساتھ 94.29 ڈالر فی بیرل اور ویسٹ ٹیکساس کی قیمت 0.82 ڈالر یا 0.9 فیصد کمی کے بعد 91.34 ڈالر فی بیرل کی سطح پر آگئی ہے۔
گزشتہ کے اواخر میں امریکا اور ایران کے درمیان امن معاہدے کی امیدوں کی توقعات پر تیل کی قیمت 16 فیصد سے زیادہ کمی آئی تھی لیکن گزشتہ روز برینٹ اور ویسٹ ٹیکساس کی قیمتوں میں بالترتیب 3 اور 5 فیصد اضافہ ہوگیا تھا۔
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے بیان میں کہا تھا کہ ایران کے ساتھ مذاکرات جاری ہیں اور اگلے ہفتے کے بعد جنگ بندی میں توسیع اور آبنائے ہرمز کی بحالی کے لیے معاہدہ ہوسکتا ہے۔
ایرانی میڈیا نے رپورٹ کیا کہ عارضی امریکا تجاویز پر تاحال ایران کی جانب سے کوئی جواب نہیں دیا گیا ہے تاہم جائزہ لیا جا رہا ہے۔
امریکا اور ایران کے درمیان مذاکرات میں پیش رفت کی رپورٹس کے باوجود آبنائے ہرمز سے تیل کی سپلائی بدستور محدود ہے اور ماہرین نے تیل کے سرمایہ کاروں کے لیے یہ خطرناک قرار دیا ہے۔