امید ہے جلد امریکی ویزے بحال ہوجائینگے،25 فیصد ٹیرف پر بھی رابطہ کرینگے:پاکستان
اشاعت کی تاریخ: 16th, January 2026 GMT
اسلام آباد (نوائے وقت رپورٹ+ آئی این پی) دفتر خارجہ نے کہا ہے کہ پاکستان ایران کے خلاف اپنی سرزمین و فضا استعمال نہ ہونے دینے کے موقف پر کاربند ہے۔ پاکستان نے بھارتی آرمی چیف کے الزامات کو مسترد کرتے ہوئے کہا ہے کہ دہشت گردی کے الزامات سیاسی مقاصد کے لیے گھڑی گئی من گھڑت کہانی ہیں، پاکستان کی دہشت گردی کے خلاف قربانیاں عالمی سطح پر تسلیم شدہ ہیں، بھارتی بیان بازی پرانی، روایتی اور گمراہ کن ہے، پاکستان کے خلاف بھارتی الزامات خود بھارت کی ساکھ کو نقصان پہنچا رہے ہیں۔ غیرذمہ دارانہ الزامات خطے میں کشیدگی کو مزید بڑھا سکتے ہیں۔ پاکستان ایران کی صورتحال سے متعلق پیشرفت پر گہری نظر رکھے ہوئے ہے۔ پرامن اور مستحکم ایران پاکستان کے مفاد میں ہے۔ اسرائیلی اقدامات دہشتگردی کیخلاف عالمی کوششوں کو نقصان پہنچاتے ہیں، امریکی ویزوں پر پابندیوں سے متعلق رپورٹس دیکھی ہیں، اس معاملے پر امریکی حکام کے ساتھ رابطے میں ہیں، امریکا اپنی ویزا پالیسی پر نظر ثانی کر رہا ہے، امید ہے امریکہ جلد پاکستان کے لیے امیگرنٹس ویزے بحال کرے گا۔ جمعرات کو ہفتہ وار پریس بریفنگ کے دوران طاہر حسین اندرابی نے کہا کہ پاکستان امید کرتا ہے کہ ایران میں امن و استحکام قائم رہے گا، پاکستان ایران کو ایک دوست اور برادر ملک کے طور پر پرامن اور خوشحال دیکھنا چاہتا ہے، پاکستان اور ایران کے عوام کے درمیان گہرے تاریخی، ثقافتی اور مذہبی روابط ہیں۔ ترجمان دفتر خارجہ نے کہا کہ ایران ایک مضبوط اور باحوصلہ قوم ہے جس نے ماضی میں متعدد چیلنجز کا سامنا کیا، امید ہے ایرانی حکومت کے اعلان کردہ معاشی امدادی اقدامات عوامی مشکلات کم کریں گے۔ پرامن اور مستحکم ایران پاکستان کے مفاد میں ہے۔ ترجمان نے بھارت میں آسیہ اندرابی، ناہیدہ نسرین اور فہمیدہ صوفی کو سزا کی سخت مذمت کی ، پاکستان نے کہا کہ سزا ایک اور من گھڑت مقدمے اور غیر منصفانہ ٹرائل کا نتیجہ ہے۔ خواتین کشمیری رہنماﺅں کو نشانہ بنانا قابل مذمت اور انسانی حقوق کی سنگین خلاف ورزی ہے۔ یہ سزائیں مقبوضہ کشمیر میں جاری منظم جبر و تشدد کی عکاس ہیں۔ پاکستان نے کشمیری عوام کی حق خود ارادیت کی جد وجہد کی بھرپور حمایت کا اعادہ کیا، حق خود ارادیت اقوام متحدہ کی قراردادوں میں تسلیم شدہ ہے، پاکستان کشمیری عوام کی سفارتی، سیاسی اور اخلاقی حمایت جاری رکھے گا۔ بھارتی نیوی کے حاضر سروس افسر کلبھوشن یادیو کی گرفتاری ہمارے سامنے ہے۔ افغانستان سمیت خطے میں بھارت کے حمایت یافتہ دہشت گرد نیٹ ورکس کی نشاندہی کی گئی۔ ترجمان نے کہا کہ بھارت کی جانب سے ماورائے عدالت قتل اور ریاستی سرپرستی میں دہشت گردی کی مثالیں ریکارڈ پر ہیں، پاکستان نے بھارت کو اشتعال انگیز بیانات سے باز رہنے کا مشورہ دیا، بھارت میں بڑھتا ہوا انتہاپسندانہ اور مذہبی بنیادوں پر تشدد خطے کے لیے خطرہ قرار دیا گیا۔ امریکہ کی طرف سے ایران پر 25 فیصد ٹیرف کے اعلان پر کہا ہے کہ پاکستان اس معاملے پر امریکہ کے ساھ باضابطہ رابطہ کرے گا، پاکستان اور ایران کے درمیان تجارتی حجم 3 ارب ڈالر سے زائد ہے۔ دونوں ممالک کے درمیان گزشتہ سالوں میں تجارتی حجم میں اضافہ ہوا ہے یہ سال 2023-24ء میں پاکستان ایران تجارتی حجم 2.
ذریعہ
ذریعہ: Nawaiwaqt
پڑھیں:
ٹرمپ کو ریلیف مل گیا؛ امریکی سینیٹ نے ایران جنگ ختم کرنے کی قرارداد مسترد کر دی
امریکی سینیٹ نے ایران کے ساتھ جاری فوجی تنازع میں امریکا کی شمولیت ختم کرنے کے لیے پیش کی گئی جنگی اختیارات کی قرارداد مسترد کر دی۔
عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق امریکی سینیٹ نے جمعرات کو صدر ڈونلڈ ٹرمپ کو ایران کے خلاف جاری فوجی کارروائیوں سے امریکی افواج واپس بلانے کی ہدایت دینے والی قرارداد منظور کرنے سے انکار کر دیا۔
میری لینڈ سے تعلق رکھنے والے ڈیموکریٹ سینیٹر کرس وین ہولن کی پیش کردہ وار پاورز ریزولوشن پر ووٹنگ ہوئی تاہم قرارداد 47 کے مقابلے میں 49 ووٹوں سے مسترد ہوگئی اور مطلوبہ حمایت حاصل نہ کرسکی۔
ریپبلکن سینیٹر سوسن کولنز نے اپنی جماعت کی پالیسی کے برعکس قرارداد کے حق میں ووٹ دیا جبکہ ڈیموکریٹ سینیٹر جان فیٹرمین نے اپنی پارٹی سے اختلاف کرتے ہوئے قرارداد کی مخالفت کی۔
تین سینیٹرز نے رائے شماری میں حصہ نہیں لیا جن میں سینیٹر کیٹی برٹ، مچ میک کونل، لیزا مرکووسکی اور رینڈ پال شامل ہیں۔
اس قرارداد میں مطالبہ کیا گیا تھا کہ اگر کانگریس باقاعدہ جنگ کا اعلان نہ کرے یا صدر کو خصوصی اجازت نہ دے، تو صدر ٹرمپ ایران کے اندر یا ایران کے خلاف جاری فوجی کارروائیوں سے امریکی افواج کو واپس بلائیں۔
ڈیموکریٹ ارکان اور بعض ریپبلکن قانون سازوں کا مؤقف ہے کہ ایران کے خلاف موجودہ فوجی کارروائیوں میں صدر ٹرمپ نے کانگریس کے اس آئینی اختیار کو نظر انداز کیا ہے جس کے تحت صرف کانگریس کو جنگ کا اعلان کرنے کا اختیار حاصل ہے۔
اس سے چند گھنٹے قبل امریکی ایوانِ نمائندگان نے ایران جنگ محدود کرنے کی اپنی وار پاورز قرارداد منظور کی تھی تاہم اسے گزشتہ ماہ کے مقابلے میں ایک ووٹ کم ملا جس سے کانگریس میں بھی اس معاملے پر اختلافات نمایاں ہیں۔
گزشتہ ماہ بھی سینیٹ نے اسی نوعیت کی ایک قرارداد 50 کے مقابلے میں 48 ووٹوں سے منظور کی تھی۔ اس وقت چند ریپبلکن ارکان نے بھی ڈیموکریٹس کا ساتھ دیا تھا لیکن اس وقت ایران اور امریکا کے درمیان جنگ بندی نافذ تھی اور مزید امریکی جانی نقصان نہیں ہوا تھا۔
آئینی ماہرین کے مطابق 1973 کے وار پاورز ایکٹ کا مقصد صدر کے فوجی اختیارات پر کانگریس کی نگرانی کو یقینی بنانا تھا لیکن اب تک کسی بھی امریکی صدر نے اسے مکمل طور پر پابند قانون کے طور پر تسلیم نہیں کیا۔
مزید یہ کہ اس قانون کی آئینی حیثیت پر کبھی امریکی عدالتوں نے حتمی فیصلہ نہیں دیا اسی لیے اگر قرارداد منظور بھی ہو جاتی تو اس کے نتیجے میں صدر کو فوری طور پر فوج واپس بلانے کا قانونی پابند بنانا مشکل ہوتا۔