اقوام متحدہ سلامتی کونسل کا ہنگامی اجلاس: امریکا اور برطانیہ کا ایران کو سخت پیغام
اشاعت کی تاریخ: 16th, January 2026 GMT
اقوام متحدہ سلامتی کونسل کا ہنگامی اجلاس: امریکا اور برطانیہ کا ایران کو سخت پیغام WhatsAppFacebookTwitter 0 16 January, 2026 سب نیوز
نیویارک: (آئی پی ایس) ایران کی صورتحال پر اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کے ہنگامی اجلاس میں امریکی مندوب مائیک والٹز نے خبردار کیا ہے کہ ایران میں جاری قتل و غارت کو روکنے کیلئے تمام آپشنز زیرِ غور ہیں۔
اقوامِ متحدہ کی سلامتی کونسل کے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے امریکی مندوب نے کہا کہ امریکا ایران کے بہادر عوام کے ساتھ کھڑا ہے، ایران میں تشدد اور جبر سے عالمی امن پر اثرات مرتب ہوتے ہیں، ایران نے حزب اللہ اور حماس جیسی تنظیموں کی فنڈنگ کی، ایران نے مشرق وسطیٰ کو غیر مستحکم کرنے کی کوشش کی، صدر ٹرمپ عمل پر یقین رکھتے ہیں۔
امریکی مندوب کا کہنا تھا کہ ایران میں سر نہ ڈھانپنے پر خاتون کو قتل کر دیا گیا تھا، ہم ایرانی عوام کی حمایت جاری رکھیں گے، ایرانی حکومت کمزور ہو گئی ہے، ایران بات چیت کا کہتا ہے مگر عمل کچھ اور کرتا ہے، ایران کا طرز عمل مذاکرات کے برعکس ہے، صدر ٹرمپ نے ایران کیخلاف تمام آپشن کھلے رکھے ہیں۔
برطانوی مندوب نے بھی قدرے سخت مؤقف اختیار کرتے ہوئے کہا کہ ایران میں ہزاروں افراد ہلاک اور متعدد گرفتار ہونے کی رپورٹس تشویشناک ہیں، حکومت نے انٹرنیٹ بند کیا، لیکن ویڈیوز خوفناک حقیقت ظاہر کر رہی ہیں، مظاہروں کو غیر ملکی حمایت یافتہ کہنا جھوٹ ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ ایرانی عوام، خواتین بہادری سے اور وقار کے ساتھ آزادی کے حق میں آواز بلند کر رہی ہیں، ایران عوام کے بنیادی حقوق اور احتجاج کے حق کا احترام کرے، ایرانی حکام کو عوام کا تحفظ کرنا چاہیے نہ کہ ظلم و جبر ڈھانا چاہیے۔
روسی مندوب نے اپنے خطاب میں کہا کہ ایران کیخلاف امریکا کے طاقت کے استعمال اور دھمکیوں کی مذمت کرتے ہیں، روس ایران کے داخلی معاملات میں مداخلت کی ہر کوشش کی مذمت کرتا ہے، ایران میں بیرونی مداخلت عالمی امن کیلئے خطرہ ہے۔
روسی مندوب کا مزید کہنا تھا کہ کشیدگی کم کرنے کیلئے تمام فریق بات چیت سے حل نکالیں، اقتصادی پابندیاں اور دھمکیوں کی پالیسی غیر منصفانہ اور نقصان دہ ہے، عالمی قوانین اور خودمختاری کا احترام ضروری ہے، تشدد اور فوجی دباؤ کی بجائے سفارت کاری اور مکالمہ ہی حل ہے۔
چینی مندوب نے کہا کہ ایران اور دیگر فریقین کو غیر ضروری اقدامات سے گریز کرنا چاہیے، تمام مسائل کو بین الاقوامی قانون اور اصولوں کے مطابق حل کیا جانا چاہیے، چین خطے میں مسائل کے پرامن حل کیلئے ہر ممکن سفارتی مدد فراہم کرے گا، فریقین کشیدگی کم کرنے اور اعتماد کی بحالی کیلئے بات چیت کریں۔
چینی مندوب نے مزید کہا کہ انسانی جانوں اور بنیادی حقوق کی حفاظت اولین ترجیح ہونی چاہیے، عالمی برادری کو مل کر بحران کے سیاسی اور سفارتی حل کی کوششیں تیز کرنی چاہئیں، چین فریقین سے صبر و تحمل کے ساتھ کشیدگی کم کرنے کی اپیل کرتا ہے۔
یونانی مندوب نے کہا کہ خطے میں کشیدگی انسانی جانوں کیلئے خطرہ ہے، تمام فریق صبر و تحمل سے کام لیں اور بات چیت کو ترجیح دیں، انسانی حقوق کے تحفظ کو نظر انداز نہیں کیا جانا چاہیے۔
انہوں نے مزید کہا کہ سفارتی حل اور بین الاقوامی تعاون ہی پائیدار امن کی ضمانت ہے، عالمی برادری کو یکجا ہو کر کشیدگی کم کرنے میں کردار ادا کرنا چاہیے۔
غیر ضروری فوجی دباؤ اور دھمکیوں سے حالات مزید خراب ہوتے ہیں، ڈینش مندوب
ڈنمارک کے مندوب نے کہا کہ ایران میں جاری کشیدگی خطے کے امن کیلئے سنگین خطرہ ہے، تمام فریق صبر و تحمل سے کام لیں، انسانی حقوق اور شہریوں کی حفاظت اولین ترجیح ہونی چاہیے۔
ڈنمارک مندوب کا کہنا تھا کہ اختلافات کو بات چیت اور سفارتی ذرائع سے حل کیا جانا چاہیے، غیر ضروری فوجی دباؤ اور دھمکیوں سے حالات مزید خراب ہوتے ہیں، عالمی برادری خطے میں استحکام کیلئے متحد کردار ادا کرے۔
روزانہ مستند اور خصوصی خبریں حاصل کرنے کے لیے ڈیلی سب نیوز "آفیشل واٹس ایپ چینل" کو فالو کریں۔
WhatsAppFacebookTwitter پچھلی خبرپاکستان، سعودیہ اور ترکیے نے دفاعی معاہدے کا مسودہ تیار کرلیا: رضا ہراج پاکستان، سعودیہ اور ترکیے نے دفاعی معاہدے کا مسودہ تیار کرلیا: رضا ہراج اقوام متحدہ کا چارٹر طاقت کے استعمال کی مخالفت کرتا ہے، پاکستانی مندوب تصادم کا کوئی ارادہ نہیں، جارحیت ہوئی تو بھرپور جواب دیں گے: ایرانی مندوب یمن میں سیاسی ہلچل، وزیر اعظم سالم صالح بن بریک مستعفی ٹرمپ نے ایران کے خلاف تمام آپشن کھلے رکھ دیے، وائٹ ہاؤس کا بڑا بیان ایمان مزاری اور انکے شوہر سمندر پر ہیں یا آسمان پر، گرفتار کرکے پیش کریں، عدالت کا حکمCopyright © 2025, All Rights Reserved
رابطہ کریں ہماری ٹیم.
ذریعہ
ذریعہ: Daily Sub News
کلیدی لفظ: سلامتی کونسل اقوام متحدہ
پڑھیں:
امریکا ایران جنگ سے معاشی بحران پیدا ہوا ہے اور مہنگائی بھی بےتحاشہ بڑھ گئی ہے
اسکردو (اردوپوائنٹ اخبار تازہ ترین۔ انٹرنیشنل پریس ایجنسی ۔ 02 جون 2026ء ) چیئرمین پاکستان پیپلز پارٹی بلاول بھٹو زرداری نے اسکردو کے مین بازار میں انتخابی جلسہ سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ گزشتہ انتخابی مہم میں آپ کے پاس آیا تھا اور جی بی کی ہر تحصیل میں گیا اور پورے جی بی کا دورہ کیا اور اسی وقت سے کہہ سکتا ہوں کہ جتنا جی بی میں نے دیکھا ہے وہ کسی سیاستدان نے نہیں دیکھا۔ ساری جماعتوں کے دورے ملا کر بھی ہمارے دوروں کے مقابلے میں کم ہیں۔ ہمارا صرف سیاسی رشتہ نہیں بلکہ نسلوں کا ساتھ ہے۔ میں یہ مہم بھی گزشتہ انتخابی مہم کی طرح کرنا چاہتا تھا۔ گزشتہ انتخابات میں خوشی کو ماحول تھا لیکن اب ہم سب کے لئے غم کا ماحول ہے۔ ایران میں جو شہادتیں ہوئیں ہیں، بچیوں کو شہید کیا ہے یہ غم کا ماحول ہے۔(جاری ہے)
جس طرح رمضان میں آیتہ اللہ خامنئی کو ان کی نواسی کے شہید کیا گیا وہ انتہائی قابل مذمت ہے۔
پاکستان پیپلزپارٹی امن پسند اور جنگ کے خلاف ہے۔ یہ کہانی ایران تک نہیں فلسطین اور لبنا ن میں بھی بے گنا ہ لوگوں شہید کیا گیا۔ فیلڈ مارشل امن کی جو کوشش کر رہے ہیں ہیں ہم سب دعاگو ہیں کہ یہ کوشش کامیاب ہو ۔ پوری مسلم دنیا اور دنیا بھر کے نوجوان اس جنگ کا بوجھ اٹھا رہے ہیں۔ اس جنگ سے معاشی بحران پیدا ہوا ہے اور مہنگائی بھی بے تحاشہ بڑھ گئی ہے اس لئے ہم اس جنگ کو ختم ہوتا دیکھنا چاہتے ہیں۔انہوں نے کہا کہ پی پی پی کی سیاست باقی جماعتوں سے مختلف ہے۔ ہم پسماندہ طبقہ کی نمائندگی کرتے ہیں۔ ان کو حقوق دیتے ہیں اور غریب کا سوچتے ہیں۔ ہم سمجھتے ہیں کہ ملک کی ترقی پسماندہ طبقے کی ترقی سے ہے۔ باقی جماعتیں امیروں کو مزید امیر بنانے کی پالیسی اختیار کرتے ہیں اور اسے نام ترقی کا دیا جاتا ہے۔ کسانوں، مزدوروں، نوجوانوں کی ترقی اصل ترقی ہے۔ قائد عوام شہید ذوالفقار بھٹو نے کسانوں کو زمین مہیا کی۔ شہید محترمہ بینظیر بھٹو کے لئے عوام کا نعرہ تھا “بینظیر آئے گی، روزگار لائے گی”۔ صدر زرداری نے اپنے پہلے دورِ حکومت میں بی آئی ایس پی بنا کر روٹی، کپڑا اور مکان کو عملی شکل دی۔ بطور وزیرخارجہ مجھ سے دوسرے ممالک پوچھتے تھے کہ ہم بی آئی ایس پی کے ذریعے اپنے غریبوں کی بھی مدد کرنا چاہتے ہیں۔ بدقسمتی اس ملک کی یہ ہے کہ ہمارے سیاستدان اور سیاسی جماعتیں ایسی ہیں کہ وہ سوچتی ہیں کہ اپنے امیر دوستوں کے لئے مراعات کیسے دیں اور وہ بی آئی ایس پی کی غریبوں کی مدد ختم کرنا چاہتے ہیں۔ یہ بی آئی ایس پی کی مدد پورے ملک کے غریب عوام کو ملتی ہے۔ ماﺅوں کی دعاﺅں کی وجہ سے ان کی بی آئی ایس پی کوختم کرنے کی سازش ناکام ہوگی۔ وزیراعظم آنے والے بجٹ میں بی آئی ایس پی میں اضافے کا اعلان کریں گے۔چیئرمین بلاول بھٹو زرداری نے کہا کہ پی پی پی نے ملک کی دفاعی صلاحیت مضبوط کی ہے۔ اس وقت پاکستان واحد مسلم ایٹمی طاقت ہے اور کوئی پاکستان کی طرف میلی آنکھ سے دیکھ نہیں سکتا۔ یہ شہید ذوالفقار علی بھٹو نے تحفہ دیا ہے۔ وہ گڑھی خدا بخش سے پاکستان کا دفاع کر رہے ہیں۔ شہید بی بی نے میزائل ٹیکنالوجی دی کہ وہ اس بم کو لے کر دشمن تک پہنچ سکتے ہیں۔ آج پاکستان کا دفاع اسی وجہ سے ناقابل تسخیر ہے۔ اس کے بعد مشرف کا دور گزرا کہ جب دوسرے ممالک کو Bases بنانے کی اجازت دی گئی۔ صدر زرداری نے سلالہ واقعے کے بعد سارے Bases کو بند کیا۔ جب حال ہی میں مختلف ممالک میں بم دھماکے ہو رہے تھے تو میں نے کہا کہ شہید ذوالفقار علی بھٹو کے بم اور شہید بی بی کا ذکر کروں گا تو صدر زرداری کو بھی خراج تحسین پیش کروں گا۔ہم چاہتے ہیں کہ پاکستان ہر لحاظ سے مضبوط ہو صرف پی پی پی ہی معاشی طور پر یہ کام کر سکتی ہے۔ یہ تین نسلوں کی جدوجہد ہے۔ شہید ذوالفقارعلی بھٹو نے سرداری نظام ختم کیا۔ FCR کا خاتمہ کیا۔ قائدعوام نے بلتستان کی سرزمین پر کھڑے ہو کر اعلان کیا تھا کہ گھاس کھائیں گے لیکن ایٹم بم بنائیں گے۔ گندم اور پٹرول پر سبسیڈی قائدعوام نے دی۔انہوں نے کہا کہ ہم نے یہ سب کچھ جدوجہد سے حاصل کیا۔ جی بی کو پہلے ناردرن ایریا کہتے تھے صدر زرداری نے جی بی کا نام دیا۔ اب ہم نے مل کر جدوجہد کرکے شہید ذوالفقار علی بھٹو اور شہید بی بی کے مشن کو مکمل کرنا ہے۔ ہمیں تین اصولوں حق حاکمیت ، حق ملکیت اور حق روزگار پر عمل کرنا ہوگا۔ یہ تب ہوگا جب اٹھارہویں ترمیم کے مطابق دیگر صوبوں کی طرح حقوق جی بی کو بھی ملیں۔آپ کے پہاڑوں کے نیچے جو وسائل ہیں ان پر حق جی بی کے عوام کا ہے۔ وسائل پر پہلا حق جی بی کے عوام ہے اور اگر یہ حق ملکیت مل جائے تو پاکستان کی ترقی ہوگی جس طرح تھر کے کوئلے سے پورا پاکستان مستفید ہو رہا ہے۔ شہید بی بی نوے کی دہائی میں یہ منصوبہ شروع کرنا چاہتی تھیں لیکن اس کے راستے میں رکاوٹیں ڈالی گئیں۔ ہم نے یہ منصوبہ 2015 میں شروع کیا اور اس منصوبے کے سربراہ سندھ کے وزیراعلیٰ کو بنایا۔ اس منصوبے میں روزگار کا 80 فیصد تھر کے عوام کو دیا گیا۔ تھر کے منصوبے سے تھرکے عوام کو مفت بجلی دیتے ہیں۔ ہم نے تھر کے عوام کو تھر کول منصوبے میں ان کا شئیر دینا چاہا لیکن ان لوگوں نے پیسے لے لئے لیکن آپ کو اپنے وسائل میں شیئر لینا چاہیے۔ CPEC کا سب سے بڑا منصوبہ تھرکو ل کا ہے۔ جب آپ کو حق ملکیت ملے گا تو آپ وسائل کے حصہ دار ہوں گے۔چیئرمین بلاول بھٹو زرداری نے کہا کہ ہماری کوشش ہوتی ہے کہ ہم ملازمتوں کے مواقع پیدا کریں لیکن دوسرے لوگ غریبوں کا روزگار چھینتے ہیں۔ یہ سمجھتے ہیں کہ امیر کو اور امیر بنائیں گے تو وہ نوکریاں دیں گے لیکن ایسا نہیں ہوتا۔ ہماری سیاست عوام دوست اور غریب دوست ہے جبکہ دیگر لوگوں کی سیاست غریب دشمن اور امیردوست ہوتی ہے۔ اس لئے تیر پر مہر لگا کر غریب دوست حکومت بنائیں۔چیئرمین بلاول بھٹو زرداری نے کہا میں جانتا ہوں کہ آپ کے ہاں بارشوں اور سیلاب سے بہت نقصان ہوتا ہے۔ سندھ میں بھی 2022 میں سیلاب آیا اور دو تہائی سندھ پانی کے نیچے چلا گیا۔ اس وقت سارے غریب لوگ مطالبہ کر رہے تھے کہ انہیں گھر بنا کر دئیے جائیں۔ یہ پاکستان کی پہلی حکومت جس نے غریب لوگوں کو گھر بنا کر دئیے۔ میں کسی صوبے سے نہیں عالمی سطح پر مقابلہ کرتا ہوں اور 20 لاکھ گھر بنانے بنانے کا منصوبہ دنیا میں سب سے بڑا منصوبہ ہے اور یہ گھر موسمیاتی تبدیلیوں کا سامنا کر سکتے ہیں۔ خواتین کو ان گھروں کا مالک بنایا اور زمین کی یہ منتقلی قائد عوام کے بعد سب سے بڑا منصوبہ ہے کیونکہ یہ زمین بھی خواتین کے نام کر رہے ہیں۔ 7 جون کو تیر پر مہر لگائی تو اسی طرح جی بی کی خواتین کو بھی گھر بنا کر دیں گے۔ ہم غریب اور عوام دوست ہیں اسی لئے بی آئی ایس پی اور گھروں کا منصوبہ دیتے ہیں ۔ سندھ میں ہسپتال بنائے، سندھ کا این آئی سی وی ڈی، این آئی سی ایچ، ایس آئی یوٹی اور ڈاﺅ میڈیکل کالج سے لے کر گمبٹ تک دل ، گردے، کینسر اور جگر کا علاج پورے پاکستان کے عوام کو مفت مہیا کرتے ہیں۔ دیگر صوبے ہسپتالوں کی نجکاری کرتے ہیں تاکہ ان کے امیر دوستوں کو فائدہ ہو۔ وسائل نہ ہونے کی وجہ سے کسی کو علاج سے محروم نہیں کیا جا سکتا۔ چیئرمین بلاول بھٹو زرداری نے کہا کہ 7جون کو انشااللہ جی بی کے عوام باہر نکلیں گے اور تیر پر مہر لگاکر پیپلزپارٹی کی حکومت بنائیں گے تاکہ حق حاکمیت، حق ملکیت اور حق روزگار، مفت علاج کے ادارے اور گھر بنانے کا منصوبہ شروع ہو سکے۔ ہم پبلک پرائیویٹ پارٹنرشپ سے جی بی کے عوام کی خدمت کریں گے اور آپ کو معاشی طور پر مضبوط کریں گے۔ شہید ذوالفقار علی بھٹو کے دور میں انہوں نے ڈاکٹر مبشر حسن کو ایک تحقیق کرنے کو کہا تھا جس سے 70 کی دہائی میں یہ بات سامنے آئی کہ جی بی میں ہم 50ہزار میگا واٹ بجلی بنا سکتے ہیں جو ہم بنا کر دکھائیں گے۔ یہ منصوبہ اسلام آباد میں کوئی بیوروکریٹ نہیں ہم اور آپ مل کر بنائیں گے اور اسلام آباد کو بجلی بیچیں گے۔ 7تاریخ کو اس صوبے کے عوام کو سوچنا ہے کہ آپس میں لڑ کر کسی اور کو فائدہ نہ پہنچائیں۔ پی پی پی کو بھاری اکثریت ملتی ہے تو ہم مسائل حل کر سکتے ہیں۔ ہم نے سکردو کو وزیراعلی اور گورنر دیا۔ یہ صرف مہدی شاہ کی عزت نہیں بلکہ سکردو کے عوام کی عزت ہے۔ اب میدان میں نئی نسل آگئی ہے اور آپ کے ووٹ اور ساتھ کی وجہ سے توقیر شاہ کو سکردو 1 سے جتوائیں گے۔ آپ سکردو 2 میں محمد علی شاہ کو ووٹ دیںسکردو 3 سے فدا محمد ناشاد کو جتوانا ہے۔ اسکردو4 میں راجہ ناصر علی خان کو منتخب کرنا ہے۔ خرمنگ کے اقبال حسین کو جتوانا ہے۔ گزشتہ انتخابات میں شگر سے عمران ندیم کو نہیں جیتنے دیا گیا تھا لیکن اس مرتبہ انہیں جتوانا ہے اور گھانچے1 سے ڈاکٹر عاشق حسین کو منتخب کرنا ہے۔ گھانچے 2 میں میری امیدوار آمنہ انصاری ہیں اور گھانچے 3 میں انجینئر محمد اسماعیل ہیں۔ میں چاہتا ہوں کہ انجینئر محمد اسماعیل کے حلقے سے جی بی ہاﺅسنگ اینی شئیٹو شروع کروں۔ چیئرمین بلاول بھٹو زرداری نے تمام امیدواروں سے ہاتھ کھڑے کروا کر وعدہ لیا کہ وہ منتخب ہوکر عوام کی خدمت کریں گے۔ انہوں نے عوام سے بھی وعدہ لیا کہ 7جون کو تیرپر مہر لگائیں تاکہ شہید قائد عوام اور شہید بی بی کے مشن کو مکمل کیا جا سکے۔ چیئرمین بلاول بھٹو زرداری نے کہا کہ وہ پہلی مرتبہ آصفہ بی بی کو لے کر سکردو آئے ہیں اور اس امید کا اظہار کیا کہ جس طرح بلتستان کے عوام نے انہیں کبھی مایو س نہیں کیا اسی طرح بی بی آصفہ کو بھی مایوس نہیں کریں گے۔ خطاب کے آخر میں چیئرمین بلاول بھٹو زرداری نے عوام کے ساتھ مل کر پارٹی کے لئے نعرے لگوائے۔