انڈر 19 ورلڈ کپ: بارش نے ایک میچ ختم کردیا، 2 میچز میں بھارت اور ویسٹ انڈیز کامیاب
اشاعت کی تاریخ: 16th, January 2026 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
انڈر 19 کرکٹ ورلڈ کپ میں گروپ میچز کا آغاز جوش و خروش کے ساتھ ہوگیا، جہاں بھارت اور ویسٹ انڈیز کی ٹیموں نے اپنے اپنے میچز جیت کر ایونٹ کا فاتحانہ آغاز کر لیا جب کہ زمبابوے اور اسکاٹ لینڈ کے درمیان میچ بارش کی نذر ہوگیا۔
زمبابوے کے شہر بلاوایو میں کھیلے گئے پہلے میچ میں امریکا نے پہلے بیٹنگ کرتے ہوئے بھارت کو جیت کے لیے 108 رنز کا ہدف دیا، تاہم بارش کے باعث ڈک ورتھ لوئس میتھڈ کا اطلاق کیا گیا، جس کے بعد ہدف کو کم کر کے 96 رنز مقرر کر دیا گیا۔ بھارتی ٹیم نے محتاط اور مؤثر بیٹنگ کا مظاہرہ کرتے ہوئے 18ویں اوور میں 4 وکٹوں کے نقصان پر ہدف حاصل کر لیا۔
دوسری جانب ہرارے میں شیڈول زمبابوے اور اسکاٹ لینڈ کے درمیان دوسرا میچ بارش کے باعث بغیر کسی گیند کے اختتام پذیر ہو گیا، جس کے نتیجے میں دونوں ٹیموں کو ایک ایک پوائنٹ دے دیا گیا۔
تیسرا میچ نامیبیا کے شہر ونڈہوک میں کھیلا گیا، جہاں ویسٹ انڈیز نے تنزانیہ کو 5 وکٹوں سے شکست دے دی۔ تنزانیہ نے پہلے بیٹنگ کرتے ہوئے 122 رنز اسکور کیے، جس کے جواب میں ویسٹ انڈیز نے ہدف 21 اوورز میں حاصل کر لیا۔ ویسٹ انڈیز کے بلے بازوں نے ذمہ دارانہ بیٹنگ کا مظاہرہ کرتے ہوئے اپنی ٹیم کو فتح سے ہمکنار کیا۔
ایونٹ کے دوسرے روز مزید سنسنی خیز مقابلے متوقع ہیں، جن میں انگلینڈ اور پاکستان، آسٹریلیا اور آئرلینڈ جب کہ افغانستان اور جنوبی افریقا کی ٹیمیں ایک دوسرے کے مدمقابل آئیں گی۔ شائقین کرکٹ کی نظریں خاص طور پر پاکستان کے میچ پر مرکوز ہیں، جہاں قومی جونیئر ٹیم ایونٹ میں اپنی مہم کا آغاز کرے گی۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
کلیدی لفظ: ویسٹ انڈیز کرتے ہوئے
پڑھیں:
امتحانی تنازعات پر کاکروچ جنتا پارٹی کے بانی نے بڑا اعلان کردیا
کاکروچ جنتا پارٹی کے بانی ابھیجیت دپکے نے بھارت کے دارالحکومت نئی دہلی میں 6 جون کو احتجاجی تحریک شروع کرنے کا اعلان کر دیا ہے۔
بھارتی میڈیا رپورٹس کے مطابق ابھیجیت دپکے نے کہا ہے کہ وہ 6 جون کو بھارت واپس آ کر دہلی کے جنتر منتر پر پرامن احتجاج کا آغاز کریں گے۔ ان کا مؤقف ہے کہ ملک میں مختلف امتحانی تنازعات کے باعث طلبہ کا مستقبل متاثر ہو رہا ہے، جس پر فوری طور پر ذمے داری طے کی جانی چاہیے۔
دپکے نے مطالبہ کیا ہے کہ نیٹ یو جی پیپر لیک، سی بی ایس ای، سی یو ای ٹی اور ایس ایس سی جی ڈی سمیت مختلف امتحانی بے ضابطگیوں کی ذمے داری قبول کرتے ہوئے مرکزی وزیر تعلیم دھرمیندر پردھان اپنے عہدے سے استعفیٰ دیں۔
ان کا دعویٰ ہے کہ امتحانی نظام میں ہونے والی مبینہ بے ضابطگیوں سے ایک کروڑ سے زائد طلبا متاثر ہوئے ہیں۔ انہوں نے ایک ویڈیو پیغام میں طلبا، نوجوانوں اور اپنے حامیوں سے اپیل کی ہے کہ وہ 6 جون کو دہلی میں ان کے احتجاج میں شریک ہوں۔
دپکے کے مطابق پیپر لیک اور دیگر تنازعات کے باعث طلبا شدید ذہنی دباؤ کا شکار ہوئے، کئی نوجوانوں کی محنت ضائع ہوئی اور بعض افسوسناک واقعات میں خودکشی جیسے سنگین نتائج بھی سامنے آئے۔ ان کا کہنا تھا کہ ایسے حالات میں ذمے داروں کا تعین ناگزیر ہو چکا ہے۔
انہوں نے یہ بھی دعویٰ کیا کہ وزیر تعلیم کے استعفے کے مطالبے پر اب تک 8 لاکھ سے زائد افراد دستخط کر چکے ہیں جبکہ لکھنؤ، جے پور، دہلی اور مہاراشٹر سمیت مختلف شہروں میں پہلے ہی احتجاجی مظاہرے کیے جا چکے ہیں۔
ان کا کہنا ہے کہ مسلسل ناکامیوں کے باوجود اگر احتساب نہ کیا گیا تو عوامی اعتماد مزید متاثر ہوگا اور طلبا بار بار نقصان اٹھاتے رہیں گے، جبکہ متعلقہ ادارے کسی مؤثر کارروائی سے گریز کر رہے ہیں۔
انہوں نے اعلان کیا کہ وہ دہلی پہنچ کر جنتر منتر پر احتجاج کی اجازت کے لیے حکام سے رابطہ کریں گے اور یہ احتجاج مکمل طور پر پرامن اور آئینی دائرے میں ہوگا۔
دپکے نے یہ بھی کہا کہ انہیں امریکا میں ملازمت کی پیشکش ہوئی تھی، تاہم انہوں نے بیرون ملک جانے کے بجائے بھارت واپس آ کر احتجاج کا فیصلہ کیا ہے۔