پی ٹی آئی نے انتشار پھیلایا تو 26 نومبر سے زیادہ سخت ایکشن ہوگا: طلال چودھری
اشاعت کی تاریخ: 16th, January 2026 GMT
وزیر مملکت برائے داخلہ طلال چودھری نے کہا ہے کہ پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) نے انتشار پھیلایا تو 26 نومبر سے بھی زیادہ سخت کارروائی ہو گی۔طلال چودھری نےکہا کہ صوبہ خیبرپختونخوا میں دہشت گردی، صحت اور تعلیم جیسے سنگین مسائل موجود ہیں، مگر صوبائی قیادت اپنی ذمہ داریوں سے غفلت برت رہی ہے، 26 نومبر، 9 مئی، اس کے بعد آئی ایم ایف کو خط لکھنا، پھر مسلسل پاکستان کو غیر مستحکم کرنے والا بیانیہ، چاہے وہ انڈیا کا ہو یا اسرائیل کا، یا الفاظ کے فرق کے ساتھ بانی پی ٹی آئی کے ٹوئٹر (ایکس) اکاؤنٹ سے ہو، یہ سب انتہائی نامناسب اور دل دکھانے والی باتیں ہیں۔انہوں نے کہا کہ ایک سیاسی جماعت کو یہ زیب نہیں دیتا، اس سب کے باوجود ہم تحمل سے کام لے رہے ہیں، سابق وزیراعظم مسلسل اپنے ٹوئٹر (ایکس) سے ایسے مؤقف کا اظہار کرتے ہیں جو الفاظ کے ہیر پھیر کے ساتھ پاکستان مخالف بیانیے جیسا ہوتا ہے، جو انڈیا اور اسرائیل سے ملتا جلتا ہے۔وزیر مملکت برائے داخلہ نے کہا کہ جتنی سہولتیں عمران خان کو دی گئی ہیں، پاکستان کی تاریخ میں شاید ہی کسی قیدی کو ملی ہوں، ان سے جو بھی ملتا ہے، وہ کہتا ہے کہ وہ ہٹے کٹے ہیں، ورزش کر رہے ہیں، اچھا کھانا کھا رہے ہیں، ڈاکٹر 24 گھنٹے موجود ہے، خدمت گار دن رات ساتھ ہے۔ان کا کہنا تھا کہ یہ واحد لوگ ہیں جو اپنے لیڈر کے لیے افواہیں پھیلاتے ہیں، کبھی کہتے ہیں وہ فوت ہو گئے، کبھی کہتے ہیں جیل میں ہیں ہی نہیں، ہر چند ماہ بعد یہ افواہیں اڑاتے ہیں اور پھر غلط ثابت ہوتی ہیں۔اس سوال پر کہ کیا کیا کسی صوبے کے وزیراعلیٰ کو اعتماد میں لیے بغیر فوجی آپریشن شروع کیا جا سکتا ہے؟ کے جواب میں وزیر مملکت کا کہنا تھا کہ جو کارروائی جاری ہے وہ نیشنل ایکشن پلان کے تحت ہے، نیشنل ایکشن پلان پہلی بار نواز شریف کے دور میں اور دوسری مرتبہ عمران خان کے دور میں بنا اور تمام صوبے اور سیاسی جماعتیں اس پر متفق تھیں، آج بھی اسی کو آگے بڑھایا جا رہا ہے۔انہوں نے کہا کہ ایران ہمارا برادر اسلامی ملک ہے، ہم چاہتے ہیں کہ خطے میں امن رہے اور مسائل بات چیت سے حل ہوں، تقریباً 14 لاکھ افغان باشندے مختلف مراحل میں واپس افغانستان بھیجے جا چکے ہیں جبکہ 15 لاکھ اب بھی پاکستان میں موجود ہیں۔پاکستان میں زیر تعلیم افغان طلبہ کو ان کے ملک واپس بھیجے جانے سے متعلق سوال پر طلال چوہدری کا کہنا تھا کہ جن طلبہ کے میڈیکل یا آخری سمسٹر کے مسائل تھے، ان کے ویزے میں توسیع کی گئی ہے۔ ویزا ایکسٹینشن قانونی طریقے سے ممکن ہے، لیکن طلبہ کو بھی قانونی طور پر پاکستان میں رہنا چاہئے۔
روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں
ذریعہ
ذریعہ: Nawaiwaqt
پڑھیں:
بجٹ میں کرپٹو کرنسی کے لین دین پر ٹیکس عائد کیے جانے کا امکان
اسلام آباد:نئے بجٹ میں کرپٹو ٹرانزیکشنز کو ٹیکس نیٹ میں لانے کے لیے کرپٹو ٹریڈنگ سے حاصل ہونے والے منافع پر کیپیٹل گین ٹیکس عائد کیے جانے کا امکان ہے۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ کرپٹو ٹریڈنگ پر 10 سے 30 فی صد تک کیپیٹل گین ٹیکس نافذ کیا جا سکتا ہے اس بارے میں بین الاقوامی مالیاتی فنڈ (آئی ایم ایف) کی مشاورت کے بعد کرپٹو سیکٹر کو ٹیکس نیٹ میں شامل کرنے پر غور کیا جا رہا ہے۔
ذرائع کے مطابق آئی ایم ایف نے تمام ڈیجیٹل کاروبار سے حاصل ہونے والے گین پر ٹیکس عائد کرنے کا مطالبہ کیا ہے جبکہ کرپٹو لین دین میں کیپیٹل گین ٹیکس کی وصولی کی بھی تجویز دی گئی ہے۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ انکم ٹیکس ایکٹ 2001ء کے سیکشن 37 میں کرپٹو ٹرانزیکشنز سے متعلق کیپیٹل گین کی شق شامل کیے جانے کا امکان ہے۔ اس سلسلے میں سیکشن 37 میں شق 37 سی کا اضافہ کر کے کرپٹو لین دین سے کیپیٹل گین وصول کیا جا سکتا ہے۔
ذرائع کے مطابق پاکستان میں تقریباً 90 لاکھ افراد کرپٹو کرنسی استعمال کرتے ہیں اور حکومت کو کرپٹو ٹرانزیکشنز سے اربوں روپے اضافی ریونیو حاصل ہونے کی توقع ہے اور کرپٹو ٹریڈنگ سے حاصل ہونے والا منافع جلد ٹیکس کے دائرے میں آ سکتا ہے۔
ذرائع کا مزید کہنا ہے کہ پاکستان ورچوئل ایسیٹ ریگولیٹری اتھارٹی کو کرپٹو صارفین کے لیے ٹیکس اقدامات تجویز کرنے کی ہدایات دی گئی تھیں، جب کہ کرپٹو صارفین کی تعداد، ٹرانزیکشنز اور ٹیکس میکنزم کا جائزہ لینے کے لیے ایک کمیٹی بھی قائم کی گئی تھی۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ چند ماہ قبل مرکزی بینک نے ورچوئل اثاثوں کو قانونی حیثیت دینے اور ڈیجیٹل کرنسی متعارف کرانے کا فیصلہ کیا تھا۔ اس اقدام کے تحت پاکستانی روپے کو ڈیجیٹل کرنسی میں تبدیل کر کے ورچوئل اثاثوں کی خریداری ممکن بنائی جا سکے گی، جب کہ پاکستانی روپے کی شکل میں موجود رقم کو کرپٹو کرنسی میں ایکسچینج بھی کیا جا سکے گا۔
ذرائع کے مطابق ورچوئل اثاثوں کو اشیا، خدمات اور ایکو سسٹم سے باہر خریداری کے لیے استعمال نہیں کیا جا سکے گا، جب کہ ڈیجیٹل کرنسی صرف ورچوئل اثاثوں کے لیے پاکستان میں قائم دفاتر کو جاری کی جائے گی۔
ذرائع کا مزید کہنا ہے کہ کرپٹو کرنسی کے لیے قانونی فریم ورک بھی تیار کیا جا چکا ہے۔