ٹیکس کارکردگی پر بحث، وفاق بمقابلہ صوبے؛ مشیر وزیر خزانہ نے حقائق سامنے رکھ دیے
اشاعت کی تاریخ: 16th, January 2026 GMT
اسلام آباد:وزیر خزانہ کے مشیر خرم شہزاد کا کہنا ہے کہ مالی سال 2025 میں وفاق نے 130 کھرب (13 ٹریلین) روپے سے زائد ٹیکس اور لیویز جمع کیے ہیں، وفاقی ٹیکس وصولی معیشتت کے حجم کے 11.3 فیصد تک پہنچ چکی ہے اور پاکستان جیسے ممالک میں ٹیکس کا معیشت سے تناسب کا عالمی معیار 18 فیصد ہونا ہے۔
وزارت خزانہ کی جانب سے مشیر برائے وزیر خزانہ خرم شہزاد نے ٹیکس کارکردگی سے متعلق تبادلہ خیال کرتے ہوئے کہا ہے کہ وفاقی ٹیکس وصولیاں جون 2028 تک معیشت کے 15 فیصد کی جانب بڑھ رہی ہیں۔ دوسری طرف تمام صوبوں کی مجموعی ٹیکس وصولی مالی سال 2025 میں صرف 979 ارب روپے رہی ہے، صوبائی ٹیکس وصولی معیشت کے محض 0.
مشیر وزیر خزانہ خرم شہزاد نے مزید کہا کہ صوبوں سے متوقع ٹیکس حصہ کم از کم معیشت کا 3 فیصد ہونا چاہیے، صوبوں کو ہدف حاصل کرنے کے لیے 2028 تک وصولیاں تین گنا کرنا ہوں گی اور اصل مسئلہ ٹیکس بیس کا نہیں بلکہ اس سے حاصل ہونے والی آمدن کا ہے۔
انہوں نے کہا کہ سروسز سیکٹر کا ٹیکس بیس 29 کھرب، مگر صوبائی وصولی صرف 2.2 فیصد اور اشیا پر وفاقی ٹیکس وصولی 13 فیصد ہے جبکہ سروسز پر صوبائی وصولی نہایت کم ہے۔ زرعی آمدن کا ٹیکس بیس 37 کھرب، مگر صوبائی وصولی صرف 0.2 فیصد ہے۔
انہوں کہا کہ پراپرٹی کا ٹیکس بیس 217 کھرب مگر صوبائی ٹیکس وصولی صرف 0.3 فیصد ہے۔ پاکستان میں پراپرٹی ٹیکس خطے میں سب سے کم صرف 0.08 فیصد ہے۔ اس کے علاوہ ملائیشیا میں 0.5 فیصد، فلپائنز میں 0.5 فیصد، نیپال میں 0.4 فیصد، انڈونیشیا میں 0.3 فیصد، بھارت میں 0.2 فیصد اور پاکستان میں 0.08 فیصد ہے۔
مشیر وزیر خزانہ نے مزید کہا کہ صوبائی ٹیکس صلاحیت اب تک بڑی حد تک استعمال نہیں ہو سکی، مالی وفاقیت پر فیصلہ حقائق اور اعداد و شمار کی بنیاد پر ہونا چاہیے۔ وفاق اور صوبے شراکت دار ہیں، مضبوط ٹیکس نظام سب کے مفاد میں ہے۔
ذریعہ
ذریعہ: Daily Mumtaz
پڑھیں:
مری میں بیچلرز کے داخلے پر پابندی؟ حقیقت سامنے آگئی
سوشل میڈیا پر یہ دعویٰ وائرل ہورہا تھا کہ پنجاب کے سیاحتی مقام مری میں 31 مئی تک غیر شادی شدہ مردوں (بیچلرز) کے داخلے پر سرکاری پابندی عائد کردی گئی ہے، تاہم فیکٹ چیک کے بعد یہ واضح ہوا ہے کہ یہ دعویٰ گمراہ کن ہے اور مکمل طور پر درست نہیں۔
فیس بک سمیت مختلف پلیٹ فارمز پر شیئر کی جانے والی پوسٹس میں کہا جا رہا تھا کہ عید سے قبل مری میں دفعہ 144 نافذ کرتے ہوئے بیچلرز کے داخلے پر پابندی لگا دی گئی ہے اور صرف فیملیز کو ہی شہر میں جانے کی اجازت ہوگی۔ ان دعوؤں میں یہ تاثر دیا گیا کہ مبینہ پابندی پورے مری شہر پر لاگو ہے۔
حقیقت اس کے برعکس ہے۔ حکام کے مطابق مری میں غیر شادی شدہ مردوں کے داخلے پر کوئی مکمل پابندی عائد نہیں کی گئی۔ صرف مخصوص ہدایت کے تحت مال روڈ پر ایک تبدیلی کی گئی ہے، جہاں اکیلے آنے والے مردوں یا بیچلرز گروپس کو داخلے کی اجازت نہیں ہوگی، جبکہ فیملیز بدستور وہاں جا سکتی ہیں۔
ضلع مری کے ایڈیشنل ڈپٹی کمشنر (جنرل) کامران صغیر کے مطابق 31 مئی تک دفعہ 144 نافذ تھی، جس کا اطلاق صرف مال روڈ تک محدود تھا۔ ان کے مطابق مری شہر میں بیچلرز کے داخلے پر کوئی پابندی نہیں، البتہ مال روڈ پر صرف فیملیز کو جانے کی اجازت دی گئی ہے تاکہ سیاحتی نظم و ضبط بہتر بنایا جا سکے۔
انہوں نے مزید وضاحت کی کہ ’’مال روڈ کے اوپر اکیلے مردوں کو اجازت نہیں، صرف فیملیز جا سکتی ہیں، پورا مری بند نہیں ہے، بیچلرز کی انٹری پر مکمل پابندی نہیں ہے۔‘‘
ڈپٹی کمشنر مری کے سرکاری فیس بک اکاؤنٹ سے بھی 20 مئی کو جاری نوٹیفکیشن شیئر کیا گیا تھا، جس میں کہا گیا تھا کہ پولیس کی سفارش پر مال روڈ پر صرف فیملیز کو داخلے کی اجازت دینے کا فیصلہ کیا گیا ہے تاکہ سیاحوں کو بہتر سہولت فراہم کی جا سکے۔
یہ دعویٰ کہ مری میں بیچلرز کے داخلے پر مکمل پابندی عائد ہے، غلط ثابت ہوا۔ حقیقت یہ ہے کہ پابندی صرف مال روڈ کے مخصوص حصے تک محدود ہے، جبکہ مری شہر بدستور تمام سیاحوں کے لیے کھلا ہے۔