ٹیلی کام سیکٹر میں سائبر سیکیورٹی خطرات 2026 تک برقرار رہنے کا امکان
اشاعت کی تاریخ: 16th, January 2026 GMT
کیسپرسکی نے خبردار کیا ہے کہ نئی ٹیکنالوجیز کے بڑھتے ہوئے استعمال کے باعث ٹیلی کام سیکٹر کو درپیش سائبر سیکیورٹی خطرات 2026 تک برقرار رہنے کا امکان ہے۔
روسی ادارے نے خبردار کیا ہے کہ جدید ٹیکنالوجی کے فروغ سے سال 2026 میں بھی ٹیلی کام سیکٹر کو سائبر حملوں کا سامنا رہے گا۔ کیسپرسکی سیکیورٹی بلیٹن کے مطابق 2025 میں ایڈوانسڈ پرسسٹنٹ تھریٹس (سے پی ٹی)، سپلائی چین حملے، ڈی ڈاس (ڈی ڈی او ایس) رکاوٹیں اور سم سے منسلک فراڈ نے ٹیلی کام آپریٹرز پر مسلسل دباؤ ڈالے رکھا ہے جبکہ جدید ٹیکنالوجیز کے فروغ نے نئے آپریشنل خدشات کو بھی بڑھا دیا ہے۔
رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ 2025 کے دوران ٹیلی کام آپریٹرز کو متعدد سنگین خطرات کا سامنا رہا۔ ٹارگٹڈ سائبر حملوں کا مقصد طویل مدت تک خفیہ رسائی حاصل کر کے جاسوسی اور نیٹ ورک میں اثر و رسوخ بڑھانا تھا۔
سپلائی چین کی کمزوریاں بھی ایک بڑا مسئلہ رہیں کیونکہ ٹیلی کام نیٹ ورکس متعدد وینڈرز اور مربوط پلیٹ فارمز پر انحصار کرتے ہیں، جس کے باعث کسی ایک سافٹ ویئر یا سروس میں خامی پورے نیٹ ورک کے لیے خطرہ بن سکتی ہے۔
کیسپرسکی سیکیورٹی نیٹ ورک کے اعداد و شمار کے مطابق نومبر 2024 سے اکتوبر 2025 کے درمیان ٹیلی کام سیکٹر کے 12.
کیسپرسکی نے سفارش کی ہے کہ ٹیلی کام ادارے مسلسل تھریٹ انٹیلی جنس پر توجہ دیں، اے پی ٹی سرگرمیوں اور اہم انفراسٹرکچر کی نگرانی کریں اور ملازمین کے لیے باقاعدہ سیکیورٹی آگاہی تربیت کو یقینی بنائیں۔
رپورٹ میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ اے آئی پر مبنی نیٹ ورک آٹومیشن کو مرحلہ وار نافذ کیا جائے، اہم فیصلوں میں انسانی نگرانی برقرار رکھی جائے۔
ذریعہ
ذریعہ: Express News
کلیدی لفظ: ٹیلی کام سیکٹر نیٹ ورک
پڑھیں:
امریکا ایران غیر یقینی صورتحال: عالمی منڈی میں تیل کی قیمتیں بلند سطح پر برقرار
امریکا اور ایران کے درمیان جنگ بندی اور مذاکرات سے متعلق غیر یقینی صورتحال کے باعث عالمی منڈی میں تیل کی قیمتیں بلند سطح پر برقرار رہیں۔
منگل کے روز برینٹ خام تیل 95.04 ڈالر فی بیرل جبکہ امریکی ویسٹ ٹیکساس انٹرمیڈیٹ (WTI) 91.99 ڈالر فی بیرل پر ٹریڈ ہوا۔ دونوں بینچ مارکس گزشتہ سیشن میں 5 فیصد سے زائد اضافے کے بعد مستحکم رہے۔
سرمایہ کاروں کی توجہ خاص طور پر آبنائے ہرمز کی ممکنہ بحالی اور مشرق وسطیٰ کی کشیدگی پر مرکوز ہے۔ امریکی صدر نے کہا ہے کہ ایران کے ساتھ مذاکرات جاری ہیں اور جلد کسی معاہدے کی امید ہے تاہم ایرانی میڈیا کے مطابق بات چیت میں تعطل بھی سامنے آیا ہے۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ تیل کی قیمتوں میں موجود اتار چڑھاؤ کا دارومدار امریکا-ایران مذاکرات اور خطے کی صورتحال پر ہے۔ دوسری جانب لبنان میں حزب اللہ اور اسرائیل کے درمیان جزوی جنگ بندی کو کشیدگی کم کرنے کی محدود کوشش قرار دیا جا رہا ہے۔
یاد رہے کہ خلیجی علاقے میں کشیدگی کے باعث تیل اور ایل این جی کی عالمی ترسیل متاثر ہوئی جس سے قیمتوں میں نمایاں اضافہ دیکھنے میں آیا ہے۔