وفاق نے گزشتہ سال کتنا ٹیکس جمع کیا، تفصیلات جاری
اشاعت کی تاریخ: 16th, January 2026 GMT
اعداد و شمار کے مطابق مالی سال 2025 میں وفاقی حکومت نے ٹیکس اور لیویز کی مد میں 130 کھرب روپے (13 ٹریلین) سے زائد رقم جمع کی۔
وفاق کی جانب سے جمع کیے گئے ٹیکس محصولات ملکی مجموعی پیداوار یعنی جی ڈی پی کے تقریباً 11.3 فیصد کے برابر ہے۔ موجودہ رفتار کو دیکھتے ہوئے وفاقی ٹیکس وصولیاں جون 2028 تک جی ڈی پی کے 15فیصد ہدف کی طرف بڑھ رہی ہیں۔
مشیر وزیر خزانہ خرم شہزاد کے مطابق وفاق کی طرز پر صوبائی حکومتوں کو ٹیکس موصولات کے نظام کو مزید مؤثر بنانے کی ضرورت ہے۔
مشیر وزیر خزانہ خرم شہزاد نے کہا کہ صوبائی حکومتیں وفاق کے مقابلے میں مجموعی طور پر صرف 0.
خرم شہزاد کا کہنا تھا کہ ضرورت اس امر کی ہے کہ وفاق اور صوبے مل کر مزید متوازن اصلاحات کے ذریعےہر سطح پر ٹیکس وصولی کی کوشش کو مضبوط بنائیں۔ وفاقی حکومت کی جانب سے ٹیکس اور لیویز کی مد میں 13 کھرب روپے کی وصولی ایک حوصلہ افزا اقدام ہے۔
ذریعہ
ذریعہ: Express News
پڑھیں:
اٹلی میں چار پاکستانی زرعی مزدوروں کا قتل، دو پاکستانی شہری گرفتار
اسلام آباد (اُردو پوائنٹ ۔ DW اردو۔ 02 جون 2026ء) اخبار کے مطابق جلی ہوئی گاڑی امینڈولارا نامی گاؤں کے قریب ایک پٹرول پمپ پر ملی، جو کالابریا کے وسیع زرعی علاقے میں واقع ہے۔
اخبار کے مطابق پٹرول پمپ کے سی سی ٹی وی کیمروں کی فوٹیج میں دو افراد کو منی وین کے دروازے باہر سے بند کرتے اور اس کے اندر آتش گیر مائع پھینکتے ہوئے دیکھا گیا۔
رپورٹ کے مطابق اس کے بعد گاڑی میں آگ بھڑک اٹھی اور دونوں مشتبہ افراد موقع سے فرار ہو گئے۔
فائر بریگیڈ نے آگ بجھانے کے بعد گاڑی کے اندر سے چار لاشیں برآمد کیں۔
مقامی پولیس چیف نے اس اطالوی اخبار سے گفتگو کرتے ہوئے کہا، ’’یہ یقینی طور پر قتل کا واقعہ ہے، اب ہمیں صرف اس کی تفصیلات معلوم کرنا ہیں۔
(جاری ہے)
‘‘
اخبار نے مزید لکھا کہ گزشتہ چند مہینوں کے دوران اس علاقے میں پاکستانیوں کی گاڑیوں اور منی وینز کے نذر آتش کیے جانے کے 14 واقعات پیش آ چکے ہیں۔
رپورٹ کے مطابق علاقے میں تارکین وطن کے مختلف گروہوں کے درمیان زرعی کام کی تقسیم، رہائشی دستاویزات (ریذیڈنسی پیپرز)، اور رہائش کے مسائل پر کشیدگی پائی جاتی ہے، جسے ممکنہ طور پر اس واقعے کے پس منظر سے جوڑا جا رہا ہے۔
اطالوی حکام اس واقعے کی تحقیقات جاری رکھے ہوئے ہیں تاکہ اکٹھے چار افراد کے اس قتل کے محرکات اور اس کے ذمہ دار افراد کے اس جرم میں کردار کی مکمل طور پر وضاحت ہو سکے۔
ادارت: مقبول ملک