خیبر پی کے نارکوٹکس ایکٹ، سپر ٹیکس کیخلاف آئینی عدالت میں درخواستوں کی سماعت
اشاعت کی تاریخ: 16th, January 2026 GMT
اسلام آباد (خصوصی رپورٹر) وفاقی آئینی عدالت میں خیبر پی کے کنٹرول آف نارکوٹکس سبسٹنس ایکٹ 2019 کے خلاف دائر درخواستوں پر سماعت کے دوران خیبر پی کے حکومت کی جانب سے آئینی عدالت کے دائرہ اختیار پر اعتراض اٹھا دیا۔کیس کی سماعت جسٹس علی باقر نجفی اور جسٹس کریم خان آغا پر مشتمل دو رکنی بینچ نے کی۔ صوبائی حکومت کے وکیل بیرسٹر علی ظفر نے مو قف اختیار کیا کہ صوبائی حکومت کی قانون سازی کے خلاف براہ راست معاملہ آئینی عدالت نہیں سن سکتی اور اس نوعیت کے معاملات کے لیے مجاز فورم ہائی کورٹ بنتا ہے۔ اینٹی نارکوٹکس فورس کے وکیل نے دلائل دیتے ہوئے کہا کہ معاملہ دو اسمبلیوں کا نہیں بلکہ دو حکومتوں کے درمیان تنازع ہے۔عدالت نے کیس کی مزید سماعت 21 جنوری تک ملتوی کر دی۔وفاقی حکومت نے کے پی کے نارکوٹکس ایکٹ 2019 کو کالعدم قرار دینے کی استدعا کر رکھی ہے۔ وفاقی آئینی عدالت میں سپر ٹیکس سے متعلق کیس کی سماعت آج پھر ہوگی۔ چیف جسٹس امین الدین کی سربراہی میں تین رکنی بینچ نے کیس کی سماعت کی۔دورانِ سماعت مختلف کمپنیوں کے وکیل فروغ نسیم نے دلائل دیتے ہوئے مو قف اختیار کیا کہ ایف بی آر اپنے ہی بنائے ہوئے قواعد و ضوابط کا من چاہے انداز میں اطلاق کر رہا ہے اور قوانین کی خود ساختہ تشریح کرتا ہے۔ وفاقی آئینی عدالت میں پی بی 21 میں دوبارہ گنتی سے متعلق صالح بھوتانی کی درخواست پر سماعت ہوئی۔ عدالت نے الیکشن کمیشن کے سپریم کورٹ کے احکامات پر عملدرآمد نہ کرنے پر سوالات اٹھادیے۔ عدالت نے کیس کی مزید سماعت 22 جنوری تک ملتوی کر دی۔وفاقی آئینی عدالت میں پی بی 21 میں دوبارہ گنتی سے متعلق صالح بھوتانی کی درخواست پر سماعت کے دوران وکیل خواجہ حارث نے دلائل دیئے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Nawaiwaqt
کلیدی لفظ: وفاقی آئینی عدالت میں کی سماعت کیس کی
پڑھیں:
اسلام آباد ہائیکورٹ نے اینٹی نارکوٹکس فورس کو نئی بھرتیوں سے روک دیا
اسلام آباد:ہائیکورٹ نے جاری اشتہار کے مطابق اینٹی نارکوٹکس فورس (اے این ایف) میں نئی بھرتیوں پر عملدرآمد سے روک دیا۔
عدالت نے حکم دیا کہ اسامیوں کی بھرتی کے لیے جاری کیے گئے اشتہار پر مرکزی درخواست کے حتمی فیصلے تک عملدرآمد معطل رہے گا۔ جسٹس محمد اعظم خان نے یہ احکامات جاری کرتے ہوئے متفرق درخواست پر رجسٹرار آفس کے اعتراضات بھی دور کر دیے۔
حکمنامے میں کہا گیا ہے کہ عدالت درخواست کے میرٹ پر دیے بغیر متفرق درخواست کو منظور کررہی ہے۔ عدالت نے اشتہار پر عملدرآمد روکنے کی متفرق درخواست منظور کرتے ہوئے اسے نمٹا دیا، جبکہ مرکزی کیس کی سماعت کے لیے 22 اگست کی تاریخ مقرر کر دی گئی۔
واضح رہے کہ اے این ایف کے کانسٹیبل محمد شفیق خان نے اپنے وکیل محمد علی رضا کے ذریعے اسامیوں کے اشتہار کو عدالت میں چیلنج کر رکھا ہے۔ درخواست میں وزارتِ داخلہ، وزارتِ قانون اور ڈائریکٹر جنرل اے این ایف کو فریق بنایا گیا ہے۔
درخواست گزار نے مؤقف اختیار کیا کہ وہ گزشتہ 10 سال سے اے این ایف میں ایک ہی عہدے پر خدمات انجام دے رہا ہے، لیکن اسے کوئی ترقی نہیں دی گئی۔ اس نے بتایا کہ محکمہ کے 665 کانسٹیبلز کی سینیارٹی فہرست میں اس کا نمبر 232 ہے، اس کے باوجود محکمانہ ترقی کا حق نظر انداز کیا گیا۔
درخواست میں کہا گیا کہ ڈیپارٹمنٹل پروموشن کمیٹی کا اجلاس بلائے بغیر نئی براہِ راست بھرتیوں کا اشتہار جاری کرنا غیر قانونی ہے۔ مزید مؤقف اختیار کیا گیا ہے کہ اے این ایف کے سروس رولز کے تحت پہلے سے موجود ملازمین کی ترقی کا حق ختم کرکے براہِ راست بھرتیوں کا اشتہار دیا گیا ہے۔
درخواست گزار نے عدالت سے استدعا کی کہ دیگر اداروں سے ڈیپوٹیشن پر آنے والے افسران کی غیر قانونی انٹری روک کر سویلین ملازمین کا سروس اسٹرکچر بحال کیا جائے۔ عدالت اے این ایف کا جاری کردہ حالیہ بھرتیوں کا اشتہار غیر قانونی قرار دے کر کالعدم کرے اور تمام خالی اسامیوں پر محکمانہ ترقیوں کے لیے ڈیپارٹمنٹل پروموشن کمیٹی فوری تشکیل دینے کا حکم جاری کرے۔