کراچی کے علاقے حیدری مارکیٹ فتح پارک میں 11 جنوری کو ایک شخص بادشاہ خان 13 بچوں کو پارک لے کر آیا۔ کچھ وقت پارک میں گزارنے کے بعد بچوں کو لے کر واپس چلے جانا تھا، لیکن ان پر قیامت تب ٹوٹی جب بچوں میں 3 سال کا انس موجود نہیں تھا۔ انہوں نے اہلِ علاقہ کے ہمراہ انس کی تلاش شروع کی لیکن ناکامی کا سامنا کرنا پڑا۔

انس کی لاپتہ ہونے والی ویڈیو

سی سی ٹی وی فوٹیج میں ایک فیملی مبینہ طور پر بچے کو اپنے ہمراہ لے کر جاتے ہوئے دیکھی گئی۔ بچے کے ساتھ ایک خاتون اور ایک مرد موجود ہیں۔ خاتون بچے کو اپنی گود میں اٹھائے ہوئے نظر آ رہی ہے۔ یہ فوٹیج اہلِ خانہ کو دکھائی گئی اور انہوں نے اپنے بچے کو شناخت بھی کیا۔

مقدمے کا اندراج

جب اہلِ خانہ کو تصدیق ہوئی کہ بچہ اغوا ہو چکا ہے تو بچے کے مبینہ اغوا کا مقدمہ تھانہ حیدری میں درج کیا گیا۔ پولیس کے مطابق 3 سالہ انس 11 جنوری اتوار کے روز فیملی پارک میں آیا تھا۔ بچہ اتحاد ٹاؤن کا رہائشی ہے۔ خاندان کا ایک ہی شخص 12 سے 13 بچوں کو سیر کرانے پارک لایا تھا۔

یہ بھی پڑھیں: پنوعاقل میں ڈکیتی کے بعد 7 سالہ بچہ بھی اغوا کرلیا گیا

ایس ایس پی ڈسٹرکٹ سینٹرل ذیشان شفیق صدیقی کے مطابق حیدری مارکیٹ تھانہ کی حدود فتح پارک بلاک ایف نارتھ ناظم آباد سے اغوا ہونے والا 3 سالہ بچہ محمد انس بحفاظت بازیاب کر لیا گیا۔ اغوا کا واقعہ 11 جنوری 2026 کو شام 07:40 بجے فتح پارک نزد ضیا الدین چورنگی نارتھ ناظم آباد میں پیش آیا تھا۔

مغوی بچے کی شناخت محمد انس ولد محمد نسیم، عمر تقریباً 03 سال کے طور پر ہوئی تھی۔ واقعے کا مقدمہ تھانہ حیدری میں بجرم دفعہ 363 تعزیراتِ پاکستان اور گمشدہ افراد ایکٹ 2018 کے تحت درج کیا گیا تھا۔ بچے کے اغوا کی رپورٹ بچے کے والد کے کزن بادشاہ خان کی مدعیت میں درج کی گئی تھی۔

بچے کے والد کو کال موصول ہونے پر پولیس اور بچے کے اہلِ خانہ نے مشترکہ طور پر بچے کو بحفاظت بازیاب کر لیا۔ بچے کی بازیابی کے بعد قانونی کارروائی مکمل کر کے اسے والدین کے حوالے کر دیا گیا۔

بچے کے اہلِ خانہ کے مطابق ان کا بچہ بھٹک گیا تھا، نہ ملنے پر پارک میں موجود ایک فیملی اسے اپنے ساتھ لے گئی۔ سی سی ٹی وی سامنے آنے کے بعد اس فیملی کی تلاش جاری تھی کہ گزشتہ روز ایک کال موصول ہوئی کہ آپ کا بچہ ہمارے پاس ہے۔

یہ بھی پڑھیں: کراچی: ڈیفنس فیز 5 میں فلیٹ سے زنجیروں میں جکڑی خاتون بازیاب، سابق شوہر فرار

کال کرنے والے لیاقت آباد کے رہائشی ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ یہ بچہ پارک میں تنہا تھا اور اپنے اہلِ خانہ کو تلاش کر رہا تھا۔ ہم نے پارک میں لوگوں سے پوچھا، پھر گارڈ کو ہم نے اپنا نمبر دیا۔ ہم نے بچے کو کسی حادثے سے محفوظ رکھنے کے لیے ساتھ لیا۔ جب ہم نے بچے کے والدین کو تلاش کرنا چاہا تو ناکام ہو گئے، لیکن جب ٹی وی پر خبریں دیکھیں تو رابطہ کرنے میں آسانی ہوئی۔

بچے کے والد محمد نسیم کے مطابق انہیں جب کال آئی تو سب سے پہلے پولیس کو اس بارے میں بتایا، اس کے بعد بچہ پولیس کے ہی حوالے کیا گیا اور بالآخر 5 روز بعد انس اپنے والدین سے مل گیا۔

پولیس کے مطابق کیس کو مزید آگے بڑھانے کے لیے انس کے والد کی منشا دیکھی جائے گی، کیونکہ بظاہر کیس میں اب کچھ بچا نہیں۔ اغوا کا کیس درج تھا جس میں بچہ بازیاب ہو چکا ہے۔ ہم عدالت میں رپورٹ جمع کرائیں گے کہ یہ مقدمہ حل ہو چکا ہے۔

یہ بھی پڑھیں: کراچی: 11 روز سے لاپتا 8 سالہ بچے کی لاش کہاں سے ملی؟

جہاں تک رہی بات اس فیملی کی جس کے پاس بچہ تھا، ان کے خلاف کارروائی کرنا یا نہ کرنا انس کی فیملی کا فیصلہ ہوگا، کیونکہ بچے کو گھر لے جانے کی بجائے پولیس کے حوالے کیا جاتا تو شاید اسی دن بچہ اپنے ماں باپ کے پاس ہوتا۔ اگر چوکیدار کے پاس نمبر تھا تو اس نے وہ نمبر پولیس یا اہلِ خانہ کو کیوں نہیں دیا؟

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

we news بچہ اغوا کراچی ناظم آباد.

ذریعہ

ذریعہ: WE News

کلیدی لفظ: بچہ اغوا کراچی بچے کے والد فتح پارک پارک میں پولیس کے کے مطابق خانہ کو کے بعد انس کی بچے کو

پڑھیں:

کراچی میں گیس سلینڈر دھماکے سے تباہی، 1 جاں بحق

شہر قائد کے علاقے صفورا چورنگی سندھ گرین ہوٹل واٹر ہائیڈرنٹ کے قریب واقع ٹائر پنکچر اورگیس ویلڈنگ کی مشترکہ دکان میں دھماکے کے نتیجے میں ایک شخص جاں بحق اور5 افراد زخمی ہو گئے۔

تفصیلات کے مطابق ملیر کینٹ تھانے کے علاقے صفورا چورنگی سندھ گرین ہوٹل واٹرہائیڈرنٹ کے قریب واقع ٹائر پنکچر اورگیس ویلڈنگ کی مشترکہ دکان میں دھماکےمیں 6 افراد جھلس کر زخمی ہو گئے جنہیں فوری طور پرجناح اسپتال منتقل کیا گیا۔

اسپتال منتقلی کے بعد جھلس کر زخمی ہونے والا ایک شخص دوران علاج دم توڑ گیا، جس کی شناخت 35 سالہ وقاص کے نام سے ہوئی۔ 

حادثے میں زخمی ہونے والے دیگر افراد میں 10 سالہ سکندر، 40 سالہ اویس اور 30 سالہ عبدالحنان اورعابد شامل ہیں جبکہ ایک زخمی کی شناخت تاحال نہیں ہوسکی۔

ایس ایچ او ملیر کینٹ آغا عبدالرشید کے مطابق دھماکے میں جاں بحق ہونے والا وقاص پنکچرکی دکان کا مالک تھا۔ انہوں نے مزید بتایا کہ پنکچر کی دکان سے متصل گاڑیوں کے سینسر گیس ویلڈنگ کے ذریعے مرمت کاکام بھی ہوتا تھا جہاں ایک چھوٹا سلنڈر موجود تھا جوروز داردھماکے سے پھٹ گیا جس کے نتیجے میں ایک شخص جاں بحق اور 5 افراد زخمی ہوئے جنہیں فوری طورپراسپتال منتقل کردیا گیا۔

عینی شاہدین کے مطابق دھماکہ اتنا شدید تھا کہ دکان مکمل طور پرتباہ ہوگئی۔

متعلقہ مضامین

  • بجٹ سے پہلے قانون سازی، پیپلزپارٹی کے تحفظات، 5 جون کو ہونے والا اجلاس مؤخر
  • کراچی، ہل پارک کے اطراف میں غیر قانونی تعمیرات کے خلاف آپریشن، پلاٹس مسمار
  • فراری کی پہلی الیکٹرک کار متعارف، رونمائی کے فوراً بعد تنقید کا طوفان
  • ایکس نے ’ری ایکٹ ود ویڈیو‘ فیچر متعارف کرا دیا، یہ کام کیسے کرتا ہے؟
  • کراچی میں گیس سلینڈر دھماکے سے تباہی، 1 جاں بحق
  • صومالی بحری قزاقوں کے ہاتھوں پاکستانیوں کے اغوا کا معاملہ، متاثرہ خاندان کا موقف سامنے آگیا
  • بٹ کوائن کی تاریخی گراوٹ، سرمایہ کاروں کے کروڑوں ڈالر ڈوب گئے
  • ایران-امریکا مجوزہ معاہدہ، عالمی مارکیٹ میں تیل کی قیمت میں کمی
  • رکشہ ڈرائیور نے چالان ہونے پر رکشے کو آگ لگا دی
  • کراچی: ہل پارک سے متصل متنازع پلاٹ پر تعمیرات کے معاملے پر میئر کراچی نے وفاقی حکومت کو خط لکھ دیا