لاہور؛ 14 سالہ طالبہ کو اغوا کرکے زیادتی کرنے والا مرکزی ملزم گرفتار
اشاعت کی تاریخ: 16th, January 2026 GMT
لاہور:
گلشنِ راوی میں 14 سالہ طالبہ کے اغوا اور زیادتی کے افسوسناک واقعے میں پولیس نے بروقت کارروائی کرتے ہوئے مرکزی ملزم کو گرفتار کر لیا۔
وزیراعلیٰ کی ہدایات پر چیئرپرسن پنجاب ویمن پروٹیکشن اتھارٹی حنا پرویز بٹ متاثرہ طالبہ کے گھر پہنچیں۔ حنا پرویز بٹ نے متاثرہ طالبہ کے گھر جا کر اہلِ خانہ سے ملاقات کی اور انصاف کی یقین دہانی کروائی۔
حنا پرویز بٹ کا کہنا تھا کہ 14 سالہ طالبہ کے ساتھ پیش آنے والا ظلم ناقابلِ برداشت ہے، مجرم کو مثال بنایا جائے گا۔ ایسے سفاک مجرموں کو قانون کے مطابق سخت ترین سزا دلائی جائے گی۔
انہوں نے کہا کہ بچیوں کے خلاف جرائم پر کوئی نرمی نہیں، ملزم کو قرار واقعی سزا دلانا حکومت پنجاب کی ذمہ داری ہے۔ اغواء اور جنسی تشدد کرنے والا مجرم کسی رعایت کے مستحق نہیں۔
حنا پرویز بٹ کا کہنا تھا کہ متاثرہ طالبہ اور اس کے خاندان کو مکمل قانونی اور تحفظاتی معاونت فراہم کی جائے گی۔ کسی طالبہ کی عزت اور زندگی سے کھیلنے والا قانون کی گرفت سے نہیں بچ سکتا۔ خواتین کے لیے محفوظ پنجاب وزیراعلیٰ مریم نواز شریف کا وژن ہے۔
Tagsپاکستان.
ذریعہ
ذریعہ: Al Qamar Online
کلیدی لفظ: پاکستان پاکستان کھیل حنا پرویز بٹ طالبہ کے
پڑھیں:
گورنر خیبر پختونخوا کی وزیراعظم سے ضم شدہ اضلاع کیلئے ٹیکس استثنیٰ بحال کرنے کی درخواست
فیصل کریم کنڈی نے خط میں کہا کہ صوبائی حکومت ضم شدہ اضلاع اور پاٹا کے تمام صوبائی ٹیکس ختم کر چکی ہے، تاہم وفاقی ٹیکسز کے خاتمے کے بغیر قبائلی عوام کو مکمل ٹیکس ریلیف نہیں مل سکتا۔ اسلام تائمز۔ گورنر خیبر پختونخوا فیصل کریم کنڈی نے وزیراعظم پاکستان کے نام خط لکھ کر ضم شدہ قبائلی اضلاع اور پاٹا کے لیے وفاقی ٹیکس استثنیٰ بحال کرنے اور اس میں توسیع کی درخواست کی ہے۔ انہوں نے کہا کہ وفاقی ٹیکس استثنیٰ بحال کر کے انضمام کے وقت کیے گئے وعدوں کی پاسداری کی جائے۔ گورنر فیصل کریم کنڈی نے خط میں مطالبہ کیا کہ قبائلی اضلاع اور پاٹا میں انکم ٹیکس، سیلز ٹیکس اور دیگر وفاقی محصولات کے نفاذ پر نظرثانی کی جائے۔ انہوں نے کہا کہ صوبائی حکومت ضم شدہ اضلاع اور پاٹا کے تمام صوبائی ٹیکس ختم کر چکی ہے، تاہم وفاقی ٹیکسز کے خاتمے کے بغیر قبائلی عوام کو مکمل ٹیکس ریلیف نہیں مل سکتا۔
انہوں نے تجویز دی کہ وفاقی اور صوبائی حکومتوں پر مشتمل مشترکہ کمیٹی قائم کر کے قبائلی اضلاع کی معاشی صورتحال کا جائزہ لیا جائے۔ ان کا کہنا تھا کہ نئے ٹیکسوں کے نفاذ سے قبل ضم شدہ اضلاع اور پاٹا کی معاشی و مالی صورتحال کا جائزہ لینا ضروری ہے، جبکہ ٹیکسوں کا معاملہ مشترکہ مفادات کونسل یا کسی مناسب آئینی فورم پر فوری طور پر پیش کیا جائے۔
گورنر خیبر پختونخوا نے کہا کہ قبائلی عوام نے پاکستان کے امن، استحکام اور سلامتی کے لیے بے مثال قربانیاں دی ہیں۔ وفاق اور صوبے کی یکساں ٹیکس پالیسی قبائلی عوام کا ریاست پر اعتماد بحال کرنے میں مددگار ثابت ہوگی، جبکہ ٹیکس ریلیف سے ضم شدہ اضلاع کی سماجی و معاشی ترقی اور قومی دھارے میں انضمام کا عمل مزید تیز ہوگا۔