پاکستان کسٹمز کی کارروائی، 1 کروڑ 37 لاکھ کی اسمگل شدہ اشیاء برآمد
اشاعت کی تاریخ: 16th, January 2026 GMT
چھاپے میں 82 لاکھ مالیت کے 41 غیر ملکی سگریٹس کے کاٹنز، 39 لاکھ مالیت کی 3 ہزار 72 کلوگرام سپاری برآمد کی گئی۔ اسلام ٹائمز۔ پاکستان کسٹمز انفورسمنٹ کراچی کی انسداد اسمگلنگ مہم کے تحت کارروائی کی گئی جس میں 1 کروڑ 37 لاکھ روپے مالیت کی اسمگل شدہ اشیاء برآمد ہوئیں۔ ترجمان کے مطابق خفیہ معلومات پر جوڑیا بازار چھالیہ گلی کے گوداموں پر چھاپہ مار کارروائی کی گئی۔ کارروائی میں 1 کروڑ 37 لاکھ روپے مالیت کی اسمگل شدہ اشیاء برآمد ہوئیں۔ چھاپے میں 82 لاکھ مالیت کے 41 غیر ملکی سگریٹس کے کاٹنز، 39 لاکھ مالیت کی 3 ہزار 72 کلوگرام سپاری برآمد کی گئی۔ علاوہ ازیں 16 لاکھ روپے مالیت کے 16 کاٹنز انڈین گٹکا بھی برآمد کیا گیا۔ حکام نے مقدمہ درج کرکے برآمد ہونے والی اسمگل شدہ اشیاء کسٹمز گودام منتقل کر دیئے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Islam Times
کلیدی لفظ: اسمگل شدہ اشیاء لاکھ مالیت مالیت کی کی گئی
پڑھیں:
پی ایس ڈی پی میں ارکان پارلیمنٹ اور ترقیاتی منصوبوں کیلئے اربوں روپے مختص کرنے کی تجویز
اسلام آباد: پی ایس ڈی پی 2026-27 کے تحت وفاقی حکومت نے ارکان پارلیمنٹ کے ترقیاتی منصوبوں سمیت مختلف شعبوں کے لیے اربوں روپے مختص کرنے کی تجویز پیش کر دی ہے۔ بجٹ دستاویزات کے مطابق آئندہ مالی سال میں ترقیاتی منصوبوں کے ذریعے گورننس، ٹیکنالوجی، توانائی اور خواتین کی فلاح و بہبود کو خصوصی ترجیح دی جائے گی۔
دستاویزات کے مطابق پائیدار ترقیاتی اہداف (SDGs) اچیومنٹ پروگرام کے تحت ارکان پارلیمنٹ کے ترقیاتی منصوبوں کے لیے 70 ارب روپے مختص کرنے کی سفارش کی گئی ہے۔ اس کے علاوہ کابینہ ڈویژن کے مختلف ترقیاتی منصوبوں کے لیے 2 ارب روپے جبکہ اسٹیبلشمنٹ ڈویژن کے منصوبوں کے لیے ایک ارب 70 کروڑ روپے رکھنے کی تجویز دی گئی ہے۔
پی ایس ڈی پی 2026-27 میں پارلیمنٹ لاجز کی اپ گریڈیشن کے لیے 5 کروڑ 60 لاکھ روپے مختص کرنے کی سفارش کی گئی ہے۔ اسی طرح نیشنل آرکائیوز آف پاکستان کی بحالی اور جدید خطوط پر استوار کرنے کے منصوبے کے لیے 5 ارب 50 کروڑ روپے تجویز کیے گئے ہیں۔
توانائی کے شعبے میں سرکاری عمارتوں میں شمسی توانائی کے نظام کی بہتری اور توانائی بچت اقدامات کے لیے 19 کروڑ 40 لاکھ روپے رکھنے کی سفارش کی گئی ہے۔
وفاقی دارالحکومت میں جدید ٹیکنالوجی حب کے قیام کے لیے اسلام آباد ٹیکنوپولس منصوبے پر ایک ارب 58 کروڑ روپے سے زائد خرچ کیے جانے کا امکان ہے، جبکہ فیڈرل پبلک سروس کمیشن (FPSC) کے امتحانی نظام کو ڈیجیٹل بنانے کے لیے 70 کروڑ روپے سے زائد فنڈز مختص کرنے کی تجویز دی گئی ہے۔
خواتین کی فلاح و بہبود کے منصوبوں کے تحت اسلام آباد میں ورکنگ ویمن ہاسٹل کے قیام کے لیے 16 کروڑ 70 لاکھ روپے جبکہ خواتین افسران کے لیے رہائشی سہولیات کی فراہمی کے منصوبے پر 82 کروڑ روپے سے زائد خرچ کیے جانے کا تخمینہ لگایا گیا ہے۔
بجٹ دستاویزات کے مطابق آئندہ مالی سال میں ڈیجیٹل گورننس، سرکاری اداروں کی استعداد کار بڑھانے، توانائی بچت اور جدید ٹیکنالوجی کے فروغ پر خصوصی توجہ دی جائے گی۔