انتشار یا ہنگامہ آرائی کرنے والوں کو 26 نومبر سے بھی سخت کارروائی کا سامنا ہوگا، طلال چوہدری
اشاعت کی تاریخ: 16th, January 2026 GMT
وفاقی وزیر مملکت برائے داخلہ امور سینیٹر طلال چوہدری نے کہا ہے کہ حکومت سیاسی نقطہ نظر سے آئینی اقدامات اٹھانے میں محتاط ہے، اور کوئی بھی فرد یا جماعت اگر ملک میں انتشار یا ہنگامہ آرائی کرے گی تو 26 نومبر سے بھی سخت کارروائی کا سامنا ہوگا۔
یہ بھی پڑھیں:پی ٹی آئی مزید کوئی مزاحمت کرنا چاہتی ہے تو کرلے، پیشگی شرائط پر مذاکرات نہیں ہوں گے، طلال چوہدری
سینیٹر طلال چوہدری نے نجی میڈیا کو دیے گئے ایک انٹرو میں کہا کہ حکومت ایک سیاسی حکومت ہونے کے ناتے آئینی امور کو سیاسی رنگ دینے کے بجائے ذمہ داری کے ساتھ چلانا چاہتی ہے۔
وزیر مملکت نے خبردار کیا کہ اگر کوئی جماعت یا افراد احتجاج، یلغار، دھاوا بولا یا انتظامی نظام کو معطل کرنے کی کوشش کرے گا تو اسے سخت کارروائی کا سامنا کرنا پڑے گا۔ انہوں نے واضح کیا کہ حکومت کسی کو یہ سوچنے بھی نہیں دے گی کہ وہ ملک میں انتشار پیدا کر سکتا ہے۔
طلال چوہدری نے کہا کہ عمران خان کی صحت سے متعلق افواہوں کو مسترد کرتے ہوئے کہا کہ یہ سب افواہیں غلط ثابت ہوئی ہیں اور حکومت نے ہمیشہ ان کو بہترین سہولتیں فراہم کی ہیں۔
یہ بھی پڑھیں:بانی پی ٹی آئی اور بشریٰ بی بی کو توشہ خانہ کیس 2 میں سزا بہت پہلے ہو جانی چاہییے تھی، طلال چوہدری
انہوں نے مزید کہا کہ سیاسی جماعتوں کو انتشار یا جھوٹی خبریں پھیلانے کی اجازت نہیں دی جائے گی، اور یہ رویہ کسی جماعت کو زیب نہیں دیتا۔ وزیر مملکت نے زور دیا کہ حکومت آئینی معاملات کو قانون کے دائرے میں رہ کر حل کرے گی اور عوامی خدمت کو اولین ترجیح دی جائے گی۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
اڈیالہ جیل بانی پی ٹی آئی پی ٹی آئی طلال چوہدری عمران خان.
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: اڈیالہ جیل بانی پی ٹی ا ئی پی ٹی ا ئی طلال چوہدری طلال چوہدری پی ٹی ا ئی کہ حکومت کہا کہ
پڑھیں:
دبئی ایئرپورٹ پر اے آئی امیگریشن سسٹم متعارف، 3.4 سیکنڈ میں کلیئرنس
دبئی: دبئی ایئرپورٹ اے آئی امیگریشن سسٹم کے ذریعے مسافروں کے لیے سفر کو مزید تیز اور آسان بنانے کی جانب ایک اہم قدم اٹھا لیا گیا ہے۔ مصنوعی ذہانت (AI) پر مبنی جدید بارڈر کنٹرول نظام کی آزمائش کامیاب رہی ہے، جس کے تحت مسافر صرف 3.4 سیکنڈ میں امیگریشن کا مرحلہ مکمل کر سکتے ہیں۔
دبئی کی جنرل ڈائریکٹوریٹ آف آئیڈینٹیٹی اینڈ فارنرز افیئرز (GDRFA) کے مطابق اس جدید نظام میں اے آئی سے لیس بایومیٹرک کیمرے بیک وقت 10 مسافروں کی شناخت کرنے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔
بغیر پاسپورٹ دکھائے امیگریشن کلیئر
نئے سسٹم کے تحت “ریڈ کارپٹ لین” استعمال کرنے والے رجسٹرڈ مسافروں کو پاسپورٹ یا بورڈنگ پاس دکھانے کی ضرورت نہیں ہوگی۔ انہیں صرف اپنا چہرہ کھلا رکھ کر بایومیٹرک کیمرے پر موجود سبز اشارے کی طرف دیکھنا ہوگا، جس کے بعد شناخت کا عمل خودکار طور پر مکمل ہو جائے گا۔
ابتدائی مرحلے میں کن مسافروں کے لیے؟
ابتدائی طور پر اس جدید سسٹم کا آغاز دبئی ایئرپورٹ کے ٹرمینل 3 پر فرسٹ کلاس اور بزنس کلاس کے مسافروں کے لیے کیا گیا تھا، تاہم کامیاب آزمائش کے بعد اب اس سہولت کو مزید آنے والے مسافروں تک توسیع دی جا رہی ہے۔
اعداد و شمار کے مطابق 2025 کے دوران 5 لاکھ 28 ہزار سے زائد مسافروں نے دبئی کے “اسمارٹ کوریڈور” سے استفادہ کیا، جبکہ گزشتہ سال 2 کروڑ 60 لاکھ سے زیادہ مسافروں نے اسمارٹ گیٹس کے ذریعے سفر کیا۔
کن افراد کو یہ سہولت حاصل ہوگی؟
حکام کے مطابق متحدہ عرب امارات اور خلیجی ممالک کے شہری، یو اے ای کے رہائشی اور بایومیٹرک پاسپورٹ رکھنے والے ویزا آن ارائیول مسافر اس سہولت سے خودکار طور پر فائدہ اٹھا سکیں گے۔ تاہم 1.2 میٹر سے کم قد رکھنے والے بچوں کے لیے یہ نظام فی الحال دستیاب نہیں ہوگا۔
دبئی ایئرپورٹس کے چیف ایگزیکٹو پال گریفتھس کا کہنا ہے کہ اس جدید ٹیکنالوجی کا مقصد سیکیورٹی کو برقرار رکھتے ہوئے امیگریشن کے عمل کو زیادہ تیز، آسان اور مؤثر بنانا ہے۔ ان کے مطابق مستقبل میں دبئی ایئرپورٹ اے آئی امیگریشن سسٹم تمام مسافروں کے لیے دستیاب ہوگا، جس سے ہوائی سفر کا تجربہ مزید بہتر ہونے کی توقع ہے۔