غیرملکی خبررساں ادارے نے دعویٰ کیا ہے کہ اسرائیلی وزیراعظم نیتن یاہو نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ سے ایران پر حملہ موخر کرنے کی درخواست کی ہے۔

نیو یارک ٹائمز کی ایک رپورٹ کے مطابق اسرائیلی وزیراعظم بنیامین نیتن یاہو نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ سے ایران پر ممکنہ فوجی کارروائی کو مؤخر کرنے کی درخواست کی ہے، جس سے خطے میں وسیع جنگ کے خطرے کے بارے میں بڑھتی ہوئی تشویش اجاگر ہوتی ہے۔

یہ بھی پڑھیں: نیتن یاہو کل امریکا کا دورہ کریں گے، صدر ڈونلڈ ٹرمپ سے ملاقات متوقع

رپورٹ کے مطابق نیتن یاہو نے جمعرات کے روز امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ سے رابطہ کیا، اسی دن صدر ٹرمپ نے عوامی طور پر کہا کہ انہیں اہم ذرائع سے معلوم ہوا ہے کہ تہران نے ملک میں کریک ڈاؤن میں نرمی کی ہے اور سزائے موت پر عمل روک دیا ہے۔

واشنگٹن میں اس بیان کو ممکنہ فوجی کارروائی کے فوری امکانات کے بارے میں ہچکچاہٹ کے طور پر دیکھا گیا۔

رپورٹ کے مطابق امریکا کے کئی اہم عرب اتحادی، جن میں قطر، سعودی عرب، عمان اور مصر شامل ہیں، نے بھی ٹرمپ انتظامیہ پر زور دیا کہ وہ ایران پر حملہ سے گریز کرے، کیونکہ ایسا اقدام خطے میں کشیدگی، توانائی کی فراہمی میں خلل اور ایران کی جانب سے غیر متوقع جوابی کارروائی کا سبب بن سکتا ہے۔

یہ بھی پڑھیں: پاکستان اور بھارت کی دوبارہ جنگ، ایران خانہ جنگی میں کون سے طاقتیں ملوث؟ڈونلڈ ٹرمپ کو روکنے والا کون؟

اسی دوران، ان عرب ممالک نے ایران پر بھی زور دیا ہے کہ اگر امریکا نے کارروائی کی تو وہ خطے کے دیگر ممالک پر حملہ نہ کرے، تاکہ کشیدگی کو کم سے کم رکھا جا سکے۔

خطے میں مقیم سفارتکاروں نے بھی تصدیق کی کہ متعدد عرب حکومتوں نے واشنگٹن کو فوجی کارروائی سے خبردار کیا ہے، جو اسرائیلی محتاط رویے اور عرب تشویش کے درمیان نایاب ہم آہنگی کو ظاہر کرتا ہے۔

نیتن یاہو نے بدھ کو امریکی نائب صدر جے ڈی وینس سے بھی گفتگو کی، جس دن ٹرمپ انتظامیہ کے سینیئر اہلکار وائٹ ہاؤس میں ایران کے خلاف فوجی آپشنز پر تبادلہ خیال کررہے تھے، جو یہ ظاہر کرتا ہے کہ سفارتی رابطے اور فوجی منصوبہ بندی بیک وقت جاری ہیں۔

یہ بھی پڑھیں: سلامتی کونسل میں امریکا اور ایران آمنے سامنے، سخت بیانات کا تبادلہ

رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ اسرائیلی اور عرب مطالبات کا مشترکہ زور اس بات کی عکاسی کرتا ہے کہ خطے کے اہم کھلاڑی ایران کی پالیسیوں پر اختلاف کے باوجود، جلدی کی بنیاد پر فوجی کارروائی کے خطرات سے زیادہ واقف ہیں اور عارضی توقف کے ذریعے سفارتی چینلز کھلے رکھنے کو ترجیح دے رہے ہیں۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

we news اسرائیل امریکا ایران حملہ موخر ڈونلڈ ٹرمپ نیتن یاہو.

ذریعہ

ذریعہ: WE News

کلیدی لفظ: اسرائیل امریکا ایران حملہ موخر ڈونلڈ ٹرمپ نیتن یاہو صدر ڈونلڈ ٹرمپ سے فوجی کارروائی نیتن یاہو نے ایران پر پر حملہ

پڑھیں:

امریکی ایوان نمائندگان کی ٹرمپ کو ایران جنگ روکنے کی ہدایت، قرارداد منظور

امریکا کے ریپبلکن اکثریتی ایوان نمائندگان (ہاؤس آف ریپریزنٹیٹوز) نے صدر ڈونلڈ ٹرمپ کو ایران کے خلاف امریکی فوجی کارروائیاں روکنے کی ہدایت دینے والی قرارداد منظور کر لی جسے کانگریس کی جانب سے صدر ٹرمپ کے لیے ایک اور علامتی پیغام قرار دیا جا رہا ہے۔

یہ بھی پڑھیں: آبنائے ہرمز میں کسی بھی جہاز پر حملہ ہوا تو ایران کا بنیادی ڈھانچہ تباہ کردیں گے، ڈونلڈ ٹرمپ کی دھمکی

قرارداد 214 کے مقابلے میں 208 ووٹوں سے منظور ہوئی جبکہ چار ریپبلکن ارکان نے بھی ڈیموکریٹس کا ساتھ دیتے ہوئے اس کی حمایت کی۔

یہ قرارداد واشنگٹن سے تعلق رکھنے والی ڈیموکریٹ رکن پرامیلا جے پال نے پیش کی جس میں صدر ٹرمپ کو ہدایت دی گئی ہے کہ کانگریس کی منظوری کے بغیر ایران کے خلاف امریکی مسلح افواج کی کارروائیاں بند کی جائیں۔

تاہم ماہرین کے مطابق اس قرارداد کی حیثیت زیادہ تر علامتی ہے، کیونکہ حالیہ مہینوں میں بھی کانگریس اس نوعیت کی متعدد قراردادیں منظور کر چکی ہے مگر ان کے نتیجے میں جنگی کارروائیاں نہیں رک سکیں۔

مزید پڑھیے: ایران مذاکرات کے لیے بے تاب، لیکن بامعنی بات چیت ہی ہوگی، ڈونلڈ ٹرمپ

قرارداد کی حمایت کرنے والے چار ریپبلکن ارکان میں ٹام بیریٹ (مشی گن)، برائن فٹزپیٹرک (پنسلوانیا)، وارن ڈیوڈسن (اوہائیو) اور تھامس میسی (کینٹکی) شامل ہیں۔

Today, the House PASSED my bipartisan War Powers Resolution to end the war in Iran by a vote of 214-208.

This is a big victory for the vast majority of Americans who want President Trump to end this illegal war and focus on their lives right here at home. pic.twitter.com/ZaE3NtTJdP

— Rep. Pramila Jayapal (@RepJayapal) July 23, 2026

اگرچہ ریپبلکن پارٹی کو ایوان نمائندگان اور سینیٹ دونوں میں معمولی برتری حاصل ہے تاہم اس قرارداد کی منظوری کو صدر ٹرمپ کی پالیسیوں پر اپنی ہی جماعت کے بعض ارکان کے تحفظات کی علامت بھی قرار دیا جا رہا ہے۔

ادھر امریکی سینیٹ میں بھی ایران سے متعلق ایک علیحدہ مگر ملتی جلتی قرارداد پر ووٹنگ متوقع تھی۔

یہ پیشرفت ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب صدر ٹرمپ نے ایران کے خلاف فوجی کارروائیوں میں مزید شدت لانے کا اعلان کیا ہے اور امریکی فوجیوں کی ہلاکتوں کی بھی تصدیق کی ہے۔

مزید پڑھیں: ایران کو ایک امریکی فوجی کے قتل کی کئی گنا زیادہ قیمت چکانی پڑےگی، ڈونلڈ ٹرمپ کی تہران کو وارننگ

صدر ٹرمپ نے جمعرات کو ایران اور اس کے اتحادی یمنی حوثی گروپ کو بڑی فوجی سزا دینے کا عندیہ دیا۔ دوسری جانب، عارضی جنگ بندی کے مؤثر طور پر ختم ہونے کے 2 ہفتے بعد امریکی فوج نے ایران پر ایک اور رات فضائی حملے کیے، جس کے جواب میں ایران نے پڑوسی ممالک میں قائم امریکی فوجی اڈوں کو نشانہ بنایا۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

امریکا امریکی ایوان نمائندگان ایران امریکا کشیدگی ٹرمپ کو جنگ روکنے کی ہدایت ڈیموکریٹ رکن پرامیلا جے پال ہاؤس آف ریپریزنٹیٹوز

متعلقہ مضامین

  • مانجھی خیل چیک پوسٹ حملہ، گورنر خیبرپختونخوا نے رپورٹ طلب کر لی
  • ٹرمپ کو ریلیف مل گیا؛ امریکی سینیٹ نے ایران جنگ ختم کرنے کی قرارداد مسترد کر دی
  • سعودیہ کی ابراہم معاہدوں میں شمولیت مشرقِ وسطیٰ میں تاریخی پیش رفت ہوگی، نیتن یاہو
  • ’سب کچھ تیار ہے‘ ٹرمپ نے ایران پر تاریخ کے سب سے بڑے حملے کا اشارہ دیدیا
  • گورنر خیبر پختونخوا کی وزیراعظم سے ضم شدہ اضلاع کیلئے ٹیکس استثنیٰ بحال کرنے کی درخواست
  • امریکی ایوان نمائندگان کی ٹرمپ کو ایران جنگ روکنے کی ہدایت، قرارداد منظور
  • آبنائے ہرمز میں ہر حملے کے بدلے ایک پل یا پاور پلانٹ تباہ کریں گے، ٹرمپ کی ایران کو نئی دھمکی
  • حملہ ہوا تو خلیج میں امریکہ سے منسلک پلوں اور بجلی گھروں کو نشانہ بنائیں گے، ایران
  • پیٹرول پمپس اونرز ایسوسی ایشن کاکل کی ہڑتال مؤخر کرنے کا اعلان
  • سعودی عرب کی ابراہیمی معاہدے میں شمولیت تاریخی قدم ہوگا، نیتن یاہو کا ٹرمپ کی شرط پر ردعمل