چاہ بہار سے اچانک علیحدگی، بھارت کے ایران سے تعلقات کی حقیقت سامنے آگئی
اشاعت کی تاریخ: 16th, January 2026 GMT
بھارت کی جانب سے ایران کی چاہ بہار بندرگاہ سے دستبرداری کے فیصلے کے بعد دونوں ممالک کے تعلقات کی نوعیت پر سوالات اٹھنے لگے ہیں۔
معاشی رپورٹس کے مطابق بھارت نے معمولی امریکی دباؤ کے بعد ایران کے ساتھ کیا گیا ایک اہم معاہدہ ترک کر دیا، جسے ماہرین بھارت کی مفاد پر مبنی خارجہ پالیسی کی مثال قرار دے رہے ہیں۔
بھارتی میڈیا کی رپورٹس کے مطابق، پابندیوں کے نفاذ سے قبل بھارت نے تہران کو معاہدے کے تحت طے شدہ 120 ملین ڈالر کی رقم ادا کی تھی۔ تاہم بعد ازاں، چاہ بہار منصوبے سے منسلک سرکاری کمپنی انڈیا پورٹس گلوبل لمیٹڈ کے بورڈ پر موجود تمام سرکاری نامزد ڈائریکٹرز نے اجتماعی استعفیٰ دے دیا۔
رپورٹس میں یہ بھی بتایا گیا ہے کہ کمپنی کی ویب سائٹ اچانک بند کر دی گئی، جس کا مقصد امریکی پابندیوں کے ممکنہ اثرات سے متعلق اداروں اور افراد کو تحفظ فراہم کرنا تھا۔
معاشی ماہرین کا کہنا ہے کہ بھارت نے بظاہر چاہ بہار بندرگاہ میں سرمایہ کاری تجارتی مقاصد کے لیے کی، لیکن خدشہ ہے کہ اس منصوبے کے پس پردہ دیگر اسٹریٹجک عزائم بھی موجود تھے۔ ماہرین کے مطابق انڈیا پورٹس گلوبل لمیٹڈ دراصل خاص طور پر چاہ بہار منصوبے کے لیے قائم کی گئی تھی۔
ماہرین نے یہ خدشہ بھی ظاہر کیا ہے کہ امریکی پابندیوں کی صورت میں کمپنی کی سرگرمیوں اور اصل کردار سے پردہ اٹھ سکتا تھا، جس سے بھارت کی بین الاقوامی ساکھ کو نقصان پہنچنے کا امکان تھا۔ بعض ماہرین کے مطابق، اس بندرگاہ سے بھارتی خفیہ ایجنسی را کی ممکنہ سرگرمیوں کے شبہات بھی سامنے آتے رہے ہیں۔
ایران اور اسرائیل کے درمیان کشیدگی کے بعد ایرانی حکام پہلے ہی چاہ بہار بندرگاہ اور اس سے منسلک سرگرمیوں پر الرٹ تھے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ انہی خدشات کے پیش نظر بھارت نے اس منصوبے سے علیحدگی کو اپنے مفاد میں بہتر سمجھا۔
تجزیہ کاروں کے مطابق، چاہ بہار منصوبے سے دستبرداری بھارت کے اس دعوے کے برعکس ہے جس میں وہ اصولوں پر مبنی اور متوازن خارجہ پالیسی کی بات کرتا ہے۔ اس اقدام سے یہ تاثر مضبوط ہوا ہے کہ بھارت نے طویل المدتی شراکت داری اور وعدوں کو وقتی مفادات کی خاطر نظرانداز کیا۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Express News
کلیدی لفظ: چاہ بہار کے مطابق بھارت نے
پڑھیں:
ایران سے جنگ نے ایک اور مشکل کھڑی کر دی، امریکا کے تیل کے ذخائر 45 سال کی کم ترین سطح پر پہنچ گئے
واشنگٹن:مشرق وسطیٰ میں ایران کے ساتھ بڑھتی ہوئی کشیدگی کے دوران امریکہ کے خام تیل کے ذخائر میں نمایاں کمی ریکارڈ کی گئی ہے جس نے ملکی توانائی کے تحفظ سے متعلق نئے سوالات کھڑے کر دیے ہیں۔
بینک آف امریکا کی جانب سے جاری کیے گئے اعداد و شمار کے مطابق اس وقت امریکہ کے پاس خام تیل کا ذخیرہ صرف 43 روز کی ضروریات پوری کرنے کے لیے باقی رہ گیا ہے۔
یہ صورت حال جولائی 1983 کے بعد پہلی مرتبہ سامنے آئی ہے جسے توانائی کے شعبے کے لیے غیر معمولی پیش رفت قرار دیا جا رہا ہے۔
امریکی انرجی انفارمیشن ایڈمنسٹریشن کے تازہ ڈیٹا کے مطابق 10 جولائی تک ملک کے کمرشل خام تیل کے ذخائر کم ہو کر 409.7 ملین بیرل رہ گئے، جو گزشتہ پانچ برس کی اوسط کے مقابلے میں تقریباً 6 فیصد کم ہیں۔
ادھر امریکی اسٹریٹیجک پیٹرولیم ریزرو بھی مسلسل دباؤ کا شکار ہے۔ 18 جولائی تک اس کا حجم گھٹ کر 316.5 ملین بیرل رہ گیا، جو اپریل 1983 کے بعد کی سب سے کم سطح ہے۔
اعداد و شمار کے مطابق کمرشل اور اسٹریٹیجک ذخائر کو ملا کر امریکہ کے مجموعی خام تیل کے ذخائر تقریباً 730.8 ملین بیرل رہ گئے ہیں جو گزشتہ چار دہائیوں کی کم ترین سطحوں میں شمار کیے جا رہے ہیں۔