جرمنی میں اجتماعی قبر: قرون وسطیٰ کے یورپ کی ہولناک وبا کی علامات دریافت
اشاعت کی تاریخ: 16th, January 2026 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
برلن: جرمنی میں محققین نے قرون وسطیٰ کے ایک قدیم گاؤں میں اپنی نوعیت کی پہلی بڑی اجتماعی قبر دریافت کی ہے، جس میں طاعون یا بلیک ڈیتھ سے مرنے والے ہزاروں افراد کے شواہد سامنے آئے ہیں۔
ماہرین کے مطابق یہ دریافت یورپ میں طاعون کے دوران ہونے والی اجتماعی تدفین کی پہلی واضح نشاندہی ہے۔
تحقیقی ٹیم کے مطابق یہ اجتماعی قبر 14ویں صدی میں پھیلنے والی بلیک ڈیتھ وبا سے تعلق رکھتی ہے، جس نے 1346 سے 1353 کے درمیان یورپ کی تقریباً نصف آبادی کو موت کے گھاٹ اتار دیا تھا۔ اس وبا کو انسانی تاریخ کی سب سے ہولناک وباؤں میں شمار کیا جاتا ہے۔
تاریخی تحریری ریکارڈز میں اس بات کا ذکر ملتا ہے کہ جرمنی کے شہر ارفرٹ کے مضافات میں بڑے بڑے گڑھوں میں ہزاروں افراد کو اجتماعی طور پر دفن کیا گیا تھا، تاہم صدیوں تک ان مقامات کی درست نشاندہی ممکن نہ ہو سکی تھی۔
اب ایک انٹر ڈسپلنری تحقیقی ٹیم نے تاریخی دستاویزات، زمینی پیمائشوں اور سیڈیمنٹ کور کے معائنے کی مدد سے ان اجتماعی قبروں کی شناخت کی ہے۔ ماہرین نے جدید سائنسی طریقوں کو استعمال کرتے ہوئے زمین کے نیچے موجود باقیات کا جائزہ لیا۔
لیپزگ یونیورسٹی کے جغرافیہ دان مائیکل ہائن نے بتایا کہ تحقیق کے نتائج اس بات کی مضبوط شہادت فراہم کرتے ہیں کہ ماہرین نے ارفرٹ کرونیکلز میں بیان کی گئی طاعون کی اجتماعی قبروں میں سے ایک کو دریافت کر لیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ یہ دریافت نہ صرف تاریخی ریکارڈز کی تصدیق کرتی ہے بلکہ قرون وسطیٰ کے دور میں وباؤں سے نمٹنے کے طریقوں کو سمجھنے میں بھی مدد دے گی۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ اس دریافت سے بلیک ڈیتھ کے پھیلاؤ، اموات کی شدت اور اس دور کے سماجی حالات پر مزید روشنی پڑے گی، جس سے یورپی تاریخ کے ایک تاریک باب کو بہتر طور پر سمجھا جا سکے گا۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
پڑھیں:
میٹا اے آئی سمیت چیٹ بوٹس کے ذریعے سوشل میڈیا اکاؤنٹس ہیک ہونے کا خطرہ، ماہرین کی وارننگ
سائبر سیکیورٹی ماہرین نے خبردار کیا ہے کہ مصنوعی ذہانت یا اے آئی پر مبنی چیٹ بوٹس کے خلاف ایک نئے قسم کے سائبر حملے سامنے آئے ہیں جن کے ذریعے ہیکرز سوشل میڈیا اکاؤنٹس اور ذاتی معلومات تک غیر مجاز رسائی حاصل کر سکتے ہیں۔
یہ بھی پڑھیں: دنیا بھر کی اہم شخصیات کے انسٹاگرام اکاؤنٹس ہیک ہونے کا انکشاف، میٹا نے سب بتادیا
ماہرین کے مطابق جدید بڑی زبان کے ماڈلز(ایل ایل ایمز) جن میں میٹا اے آئی سمیت دیگر اے آئی چیٹ بوٹس شامل ہیں کو ایک تکنیک پرومپٹ انجیکشن‘ کے ذریعے دھوکا دیا جا سکتا ہے۔ اس طریقے میں حملہ آور چیٹ بوٹس کے حفاظتی نظام کو بائی پاس کرتے ہوئے انہیں ایسے احکامات پر عمل کرنے پر آمادہ کرتے ہیں جو عام حالات میں ممکن نہیں ہوتے۔
سائبر سیکیورٹی ماہر بروس شنائر کے مطابق ہیکرز اس مقصد کے لیے ’پرولیج ایسکلیشن‘ نامی حکمت عملی استعمال کرتے ہیں جس کے تحت اے آئی ماڈل کو ایسی فرضی شخصیت اختیار کرنے پر قائل کیا جاتا ہے جو حفاظتی قواعد کو نظر انداز کر دے یوں چیٹ بوٹ کی محدود صلاحیتیں وسیع ہو جاتی ہیں۔
رپورٹ کے مطابق حملہ آور یہ خفیہ ہدایات بظاہر بے ضرر مواد، جیسے ای میلز، ویب سائٹس یا آن لائن پیغامات میں شامل کرتے ہیں۔ اگر چیٹ بوٹ ان ہدایات کو قبول کر لے تو ہیکرز کو صارف کے منسلک اکاؤنٹس اور ڈیجیٹل سروسز تک رسائی حاصل ہو سکتی ہے۔
مزید پڑھیے: اوپن اے آئی نے ’سورا‘ ایپ لانچنگ کے چند ماہ بعد ہی اچانک کیوں بند کردی؟
ماہرین کا کہنا ہے کہ ایک بار چیٹ بوٹ کے متاثر ہونے کے بعد اسے ذاتی معلومات چرانے، حساس ڈیٹا باہر منتقل کرنے یا صارف کے اکاؤنٹس تک غیر مجاز رسائی حاصل کرنے جیسے اقدامات کے لیے استعمال کیا جا سکتا ہے۔
سائبر سیکیورٹی ماہرین نے خبردار کیا ہے کہ خطرہ اس وقت مزید بڑھ جاتا ہے جب صارفین اے آئی ٹولز کو اپنی ای میل، کیلنڈر یا دیگر ذاتی سروسز تک رسائی دے دیتے ہیں کیونکہ اس سے حملہ آوروں کے لیے نقصان دہ سرگرمیوں کے نئے راستے کھل سکتے ہیں۔
مزید پڑھیں: ’کوئی پڑھے نہ پڑھے اے آئی تو پڑھے گی‘: قدیم زمانوں کے محبت نامے، خفیہ تحریریں آشکار
ماہرین کے مطابق ہیکرز کا حتمی مقصد مالی فراڈ، شناختی معلومات کی چوری اور دیگر نقصان دہ سرگرمیوں کو انجام دینا ہوتا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ یہ رجحان ظاہر کرتا ہے کہ مستقبل میں مصنوعی ذہانت کی اپنی استدلالی صلاحیتیں بھی صارفین کے خلاف استعمال کی جا سکتی ہیں جس سے روایتی سائبر سیکیورٹی اقدامات کو مؤثر بنانا مزید مشکل ہو جائے گا۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
اے آئی مصنوعی ذہانت ہیکنگ