ٹریفک وارڈنز کو چالان ٹارگٹ; سی ٹی او کا موقف سامنے آگیا
اشاعت کی تاریخ: 16th, January 2026 GMT
سٹی 42: ٹریفک وارڈنز کو چالان ٹارگٹ کے معاملے پر ٹریفک پولیس کا موقف سامنے آگیا۔
سی ٹی او راولپنڈی نے کہا ٹریفک پولیس کے کسی آفیسر و اہلکار کو کسی قسم کا چالان ٹارگٹ نہیں دیا جاتا،چالان صرف ٹریفک کیخلاف ورزیوں پر کیے جاتے ہیں،کسی بھی پوائنٹ پر ٹریفک وائلیشن کنٹرول کرنا متعلقہ آفیسر کی ذمہ داری ہوتی ہے۔ڈیوٹی کے دوران غفلت و لاپرواہی پر متعلقہ آفیسر کو محکمانہ سزا دی جاتی ہے۔اچھی ڈیوٹی کرنیوالوں کو انعامات بھی دیے جاتے ہیں۔
خیرپور ؛ خسرہ کی وبا بے قابو ، 3 ننھے پھول مرجھاگئے
گزشتہ 45یوم کے دوران1ہزار23جوانوں کو سر ٹیفکیٹ اور نقد انعام دیا گیا۔ دوران ڈیوٹی عدم دلچسپی پر اور غفلت کا مظاہرہ کرنے پر214وارڈنز کو سزا دی گئی۔
کرپشن ثابت ہونے پر3اہلکاروں کو نوکری سے برخاست بھی کیا گیا۔ٹریفک کی روانی اور عوام کی سہولت کیلئے دفاتر سے100 اہلکاروں کو فیلڈ میں تعینات کیا گیا۔ہمارا مقصد شہر میں بلارکاوٹ ٹریفک کی روانی اور لاءا نفورسمنٹ ہے۔
راولپنڈی ٹریفک پولیس کے افسران و جوان صرف قانونی تقاضوں کے مطابق کارروائی کرتے ہیں۔
اپنی ہی 2 بیٹیوں کے ساتھ زیادتی، بدبخت باپ نے اعترافِ جرم کرلیا
واضح رہے اس سے قبل ایک ٹریفک وارڈن نے سی ٹی او سمیت اپنے انچارج وغیرہ کو قانونی نوٹس بھیجا ہے اور موقف اپنایا ہے کہ روزانہ 15 چالان کرنے کا ٹارگٹ دیا جاتا ہے ۔اگر ٹارگٹ پورا نہ ہو محکمہ سزا اور جرمانہ دیتا ہے جس کی وجہ سے ٹریفک وارڈنز ذہنی اذیت کا شکار ہوچکے ہیں ۔
.
ذریعہ
ذریعہ: City 42
پڑھیں:
لاہور میں وین ڈرائیور سے بدتمیزی ٹریفک وارڈن کو مہنگی پڑ گئی
لاہور میں نجی کوریئر کمپنی کی وین کے ڈرائیور سے بدتمیزی کرنے پر ٹریفک وارڈن کو معطل کر دیا گیا۔
سی ٹی او لاہور سید عبدالرحیم شیرازی نے فوری ایکشن لیتے ہوئے واقعے کی تحقیقات کے لیے ایس پی صدر کو انکوائری کا حکم دے دیا۔
ٹریفک پولیس افسر کا کہنا تھا کہ انکوائری رپورٹ کی روشنی میں مزید کارروائی ہوگی، شہریوں سے حسنِ سلوک پر کوئی سمجھوتہ نہیں کیا جائے گا۔
سی ٹی او لاہور نے ٹریفک پولیس میں نظم و ضبط اور عوامی احترام اولین ترجیح قرار دیتے ہوئے کہا کہ اختیارات کے ناجائز استعمال کی اجازت نہیں دی جائے گی، انکوائری مکمل ہونے پر حقائق عوام کے سامنے لائے جائیں گے۔
شہری کے مطابق ٹریفک وارڈن نے رکنے کا اشارہ کیا لیکن اشارہ نظر نہیں آیا، تاہم آگے جا کر رکا جس پر ٹریفک وارڈن نے گاڑی کے اندر سوار ہو کر تشدد کا نشانہ بنایا اور گالم گلوچ کی۔ موقع پر وارڈن نے آن لائن چالان بھی جمع کروایا۔