کتنے چالان کا ٹارگٹ؟ وارڈن نے قانونی نوٹس بھیجتے ہوئے بھانڈا پھوڑ دیا
اشاعت کی تاریخ: 16th, January 2026 GMT
ارشاد قریشی : اعلٰی افسران کی جانب سے ٹریفک وارڈنز کو شہریوں پر زائد چالان عائد کرنے کی احکامات کا انکشاف ہوا۔ کم چالان عائد کرنے پر61 ٹریفک وارڈنز کو ایک لاکھ 22 ہزار روپے جرمانہ عائد ہوا۔
کم چالان کرنے پر ٹریفک وارڈنز پر جرمانے عائد کرنے کا بھی انکشاف ہوا۔متاثرہ وارڈنز میں سے ایک وارڈن احسن شاہ نے افسران کے خلاف قانونی کاروائی کا فیصلہ کرلیا
وارڈن احسن شاہ نے سی ٹی او راولپنڈی، انسپکٹر ناصر جدون، انچارج چالان برانچ سمیت دیگر افسران کو قانونی نوٹس بھیج دیا۔
نوٹس کے مطابق ریونیو اکٹھا کرنے کیلئے روزانہ کی بنیاد پر 15 چالان کا ٹارگٹ دیا جاتا ہے،بد انتظامی،غفلت اور ڈیوٹی کی خلاف ورزی ثابت کیے بغیر جرمانہ عائد کیا گیا۔افسران کی جانب سے کارروائی انصاف کے اصولوں کی خلاف ورزی ہے۔افسران کی رویے نے غیر قانونی دباؤ اور ذہنی اذیت کا نشانہ بنایا۔ اعلٰی افسران کی جانب سے روزانہ کی بنیاد پر غیر قانونی چالان کرنے پر مجبور کیا جاتا ہے۔یہ طرز عمل اختیارات کے ناجائز استعمال، اور آئین کے آرٹیکل 4 اور 14 کی خلاف ورزی ہے۔
افسران قانونی نوٹس کا 7 دن کے اندر جواب جمع کروائیں۔
سی ٹی او راولپنڈی نے شہریوں پر کم چالان عائد کرنے پر61 ٹریفک وارڈنز کو ایک لاکھ 22 ہزار روپے جرمانہ عائد کر رکھا ہے۔
خیرپور ؛ خسرہ کی وبا بے قابو ، 3 ننھے پھول مرجھاگئے
ذریعہ
ذریعہ: City 42
کلیدی لفظ: اعل ی افسران ٹریفک وارڈنز احکامات انکشاف کم چالان ٹریفک وارڈنز کم چالان ٹریفک وارڈنز انکشاف اعل ی افسران کم چالان ٹریفک وارڈنز ٹریفک وارڈنز افسران کی
پڑھیں:
پٹرولیم قیمتوں کے روزانہ تعین پر سینیٹ میں توجہ دلاؤ نوٹس جمع
توجہ دلاؤ نوٹس میں جے یو آئی کے سینیٹر نے حکومت سے مجوزہ پالیسی کی وجوہات، اس کے نفاذ کے طریقہ کار اور صارفین کو قیمتوں میں غیر معمولی اتار چڑھاؤ سے تحفظ دینے کے لئے کئے جانے والے اقدامات کی تفصیلات طلب کی ہیں۔ اسلام ٹائمز۔ سینیٹر کامران مرتضیٰ نے پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں کے 15 روزہ نظام کے بجائے روزانہ تعین کے مجوزہ فیصلے پر سینیٹ میں توجہ دلاؤ نوٹس جمع کرا دیا۔ توجہ دلاؤ نوٹس میں وفاقی حکومت سے مجوزہ پالیسی پر وضاحت طلب کرتے ہوئے کہا گیا ہے کہ روزانہ قیمتوں کے تعین سے مہنگائی، ٹرانسپورٹ اخراجات اور اشیائے ضروریہ کی قیمتوں میں اضافے کا خدشہ ہے۔ نوٹس کے متن کے مطابق مجوزہ نظام کے کاروباری سرگرمیوں اور عوامی زندگی کے اخراجات پر ممکنہ اثرات سے متعلق بھی سوالات اٹھائے گئے ہیں۔
سینیٹر کامران مرتضیٰ نے حکومت سے مجوزہ پالیسی کی وجوہات، اس کے نفاذ کے طریقہ کار اور صارفین کو قیمتوں میں غیر معمولی اتار چڑھاؤ سے تحفظ دینے کے لئے کئے جانے والے اقدامات کی تفصیلات طلب کی ہیں۔ انہوں نے مطالبہ کیا کہ عوام کو ممکنہ منفی اثرات سے بچانے کے لیے اختیار کیے جانے والے حفاظتی اقدامات سے بھی سینیٹ کو آگاہ کیا جائے۔