ریفرنڈم شروع، بلدیاتی ایکٹ کےخلاف پنجاب بیدار ہو چکا: حافظ نعیم الرحمن
اشاعت کی تاریخ: 16th, January 2026 GMT
لاہور (خصوصی نامہ نگار) جماعت اسلامی کے زیر اہتمام پنجاب میں بلدیاتی قانون کے خلاف تین روزکیلئے صوبہ بھر میں ریفرنڈم کا اعلان کر دیا۔ امیر جماعت اسلامی حافظ نعیم الرحمن کا کہنا ہے کہ بلدیاتی ایکٹ کے خلاف اب پورا پنجاب بیدار ہو چکا ہے، اس ایکٹ کےخلاف بھرپور آواز بلند کی جائے گی۔ 18 جنوری تک پورے پنجاب میں بلدیاتی ایکٹ کے خلاف ریفرنڈم جاری رہے گا، جس کے ذریعے عوامی رائے حاصل کی جائے گی۔ ٹاﺅن شپ لاہور میں جماعت اسلامی کے ریفرنڈم کے موقع پر پولنگ کیمپ میں شرکاءسے خطاب میں امیر جماعت اسلامی حکومت بلدیاتی انتخابات سے بھاگ رہی ہے۔ بلدیاتی ایکٹ کے خلاف عوامی ریفرنڈم کا آغاز ہو گیا۔ یہ عوامی ریفرنڈم 15 سے 18 جنوری تک جاری رہے گا، جس میں لاہور سمیت پنجاب بھر کے شہروں اور اضلاع میں عوام کی بڑی تعداد شریک ہو کر حکومت کے قانون کو مسترد کرے گی۔ عوامی ریفرنڈم کے پہلے دن لاہور، فیصل آباد، گوجرانوالہ، ساہیوال، اوکاڑہ، پاکپتن، قصور، شیخوپورہ، سیالکوٹ، حافظ آباد، وزیر آباد، جھنگ، ٹوبہ ٹیک سنگھ، چنیوٹ، ننکانہ، نارروال میں پنجاب حکومت کے بلدیاتی ایکٹ کےخلاف ووٹ کاسٹ کیے گئے۔ لوگوں کی بڑی تعداد نے اپنا حق رائے دہی استعمال کیا۔ شہریوں نے مطالبہ کیا کہ بلدیاتی انتخابات جماعتی بنیادوں پر کرائے جائیں اور منتخب نمائندوں کو مکمل مالی و انتظامی اختیارات دئیے جائیں۔
حافظ نعیم
.
ذریعہ
ذریعہ: Nawaiwaqt
کلیدی لفظ: بلدیاتی ایکٹ کے جماعت اسلامی کے خلاف
پڑھیں:
ٹرمپ کے وار پاورز محدود؛ امریکی پارلیمان نے ایران جنگ روکنے کی قرارداد منظور کرلی
امریکی ایوانِ نمائندگان نے صدر ڈونلڈ ٹرمپ کو ایران کے ساتھ جاری فوجی تنازع سے امریکی افواج واپس بلانے کی ہدایت دینے والی وار پاورز قرارداد دوبارہ منظور کرلی۔
عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق یہ قرارداد اپوزیشن جماعت ڈیموکریٹ کی رکنِ کانگریس پرامیلا جے پال کی جانب سے پیش کی گئی جس کے حق میں 214 جب کہ مخالفت میں 208 ووٹ پڑے۔
رائے شماری میں اپوزیشن جماعت ڈیموکریٹ کے تمام اراکین نے قرارداد کی حمایت کی جب کہ حکمراں جماعت ریپبلکن کے 5 ارکان نے بھی پارٹی پالیسی کے برعکس ووٹ دیتے ہوئے قرارداد کے حق میں رائے دی۔
خیال رہے کہ یہ دوسری بار ہے کہ ایوانِ نمائندگان نے اسی نوعیت کی قرارداد منظور کی ہے۔ گزشتہ ماہ بھی ایوان نے ایسی ہی ایک قرارداد منظور کی تھی جسے بعد میں سینیٹ نے بھی منظور کر لیا تھا۔
اگرچہ قرارداد کی منظوری سیاسی لحاظ سے اہم سمجھی جا رہی ہے تاہم اس کی قانونی حیثیت محدود ہے۔ ٹرمپ انتظامیہ کا مؤقف ہے کہ اس قسم کی وار پاورز قراردادیں آئین سے مطابقت نہیں رکھتیں اور صدر بطور کمانڈر اِن چیف قومی سلامتی کے معاملات میں فوجی فیصلے کرنے کا اختیار رکھتے ہیں۔
ووٹنگ سے قبل ہونے والی بحث میں ایوانِ خارجہ امور کمیٹی کے سرکردہ ڈیموکریٹ رکن گریگ میکس نے کہا کہ صدر ٹرمپ نے کانگریس کی پیشگی منظوری کے بغیر ایران کے خلاف فوجی کارروائی کر کے امریکی قانون اور آئینی تقاضوں کی خلاف ورزی کی ہے۔
یہ قرارداد ایسے وقت منظور ہوئی جب یمن کے حوثیوں کے بحیرہ احمر میں سعودی آئل ٹینکرز پر حملوں کے بعد عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمتیں 100 ڈالر فی بیرل سے تجاوز کرچکی ہیں۔