پاکستان کے دو افسران اقوام متحدہ کے آئی سی ای او گلوبل ایمبیسیڈر پروگرام میں شامل
اشاعت کی تاریخ: 16th, January 2026 GMT
ویب ڈیسک:اقوام متحدہ کے ذیلی ادارے آئی سی ای او نے پاکستان کے 2 افسران، رضوان الدین خان اور لقمان خان کو 2026–27 کے لیے آئی سی ای او گلوبل ایمبیسیڈر پروگرام میں شامل کرنے کا اعلان کیا ہے۔ یہ تقرری عالمی معیار، پیشہ ورانہ اہلیت اور میرٹ کی بنیاد پر کی گئی اور پاکستان کے لیے ایک غیر معمولی اعزاز قرار دی گئی ہے۔
اقوام متحدہ کے ادارے آئی سی ای او نے گلوبل ایمبیسیڈر پروگرام کے لیے پاکستان کے 2 افسران کا انتخاب کیا ہے، جو عالمی ہوا بازی کے معیار کے فروغ میں پاکستان کی نمائندگی کریں گے۔
لاہور میں 187 ٹریفک حادثات؛ 217 افراد زخمی
رضوان ادین خان اور لقمان خان اس پروگرام کا حصہ بنیں گے، جس کا مقصد دنیا بھر میں ہوا بازی کی حفاظت، ریگولیٹری اصلاحات اور تربیت کے شعبوں میں معیار کو بہتر بنانا ہے۔
پاکستان سول ایوی ایشن اتھارٹی (پی سی اے اے) کی یہ کامیابی جنوبی ایشیا کے لیے اہم سنگِ میل سمجھی جا رہی ہے، کیونکہ 1992 کے بعد پاکستان کی آئی سی ای او میں نمایاں نمائندگی کا یہ نیا موقع ہے۔ ماہرین کے مطابق اس تعیناتی سے پاکستان عالمی سطح پر اپنے کردار کو مزید مؤثر انداز میں پیش کر سکے گا۔
پنجاب میں پتنگ بازی پر پابندی ؛ خلاف ورزی پر قید اور جرمانے ہوں گے ؛ محکمہ داخلہ پنجاب
پی سی اے اے کی سیفٹی، ریگولیٹری اصلاحات اور تربیت کے شعبوں میں مسلسل پیشرفت کو آئی سی ای او نے تسلیم کیا، اور اس کی بنیاد پر پاکستان کے افسران کو عالمی ایمبیسیڈر کے طور پر منتخب کیا گیا۔ اس تعیناتی سے پاکستان کو عالمی ہوا بازی کے معیار کے فروغ میں اپنا مثبت اثر ڈالنے کا موقع ملے گا۔
.
ذریعہ
ذریعہ: City 42
کلیدی لفظ: ا ئی سی ای او پاکستان کے کے لیے
پڑھیں:
سعودی عرب ابراہام معاہدوں میں شامل ہوا تو یہ تاریخی پیش رفت ہوگی؛ اسرائیلی وزیراعظم
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے سعودی عرب کے ساتھ جوہری معاہدے کے لیے اسرائیل سے تعلقات کی بحالی سے مشروط کردیا۔
عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق اسرائیلی وزیراعظم بنیامین نیتن یاہو نے کہا ہے کہ اگر سعودی عرب ابراہام معاہدوں میں شامل ہو جاتا ہے تو یہ مشرقِ وسطیٰ میں امن کے لیے ایک ’’تاریخی جست‘‘ ثابت ہوگی۔
نیتن یاہو نے اپنے بیان میں مزید کہا کہ سعودی عرب کی ابراہام معاہدوں میں شمولیت نہ صرف اسرائیل اور عرب دنیا کے تعلقات میں ایک نئے باب کا آغاز کرے گی بلکہ پورے خطے میں استحکام اور تعاون کے امکانات بھی بڑھ جائیں گے۔
خیال رہے کہ اسرائیلی وزیراعظم کا یہ بیان امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے سعودی عرب کے سول جوہری پروگرام کو اسرائیل سے تعلقات معمول پر لانے سے مشروط کرنے کے بعد سامنے آیا ہے۔
کچھ دیر قبل ہی امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اپنے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ٹروتھ سوشل پر کہا تھا کہ امریکا اور سعودی عرب کے درمیان مجوزہ سول جوہری معاہدے کی منظوری اس وقت تک نہیں دی جائے گی جب تک سعودیہ ابراہام معاہدوں میں شامل نہیں ہوجاتا۔
صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اپنی پوسٹ میں یہ بھی واضح کیا تھا کہ مجوزہ معاہدہ صرف پُرامن اور غیر فوجی مقاصد کے لیے ہوگا اور اس کے تحت سعودی عرب کو یورینیم افزودگی کی اجازت نہیں دی جائے گی۔
یاد ہے کہ ایک روز قبل جب جوہری معاہدے کی ابتدائی منظوری کا اعلان کیا گیا تھا تو صدر ٹرمپ نے اسے سعودی عرب کے اسرائیل سے تعلقات معمول پر لانے کی شرط سے نہیں جوڑا تھا تاہم بعد میں انھوں نے واضح کیا کہ دونوں معاملات ایک دوسرے سے منسلک ہیں۔
ادھر سعودی حکومت نے تاحال صدر ٹرمپ کے تازہ بیان پر کوئی باضابطہ ردعمل نہیں دیا تاہم ریاض متعدد مواقع پر واضح کرچکا ہے کہ وہ اس وقت تک اسرائیل کو تسلیم نہیں کرے گا جب تک فلسطینی ریاست کے قیام کے لیے قابلِ عمل اور واضح راستہ موجود نہ ہو۔
سعودی عرب کا مؤقف رہا ہے کہ 1967 کی سرحدوں کی بنیاد پر آزاد فلسطینی ریاست کا قیام، مشرقی یروشلم کو اس کا دارالحکومت بنانا اور فلسطینی عوام کے جائز حقوق کا تحفظ اسرائیل سے تعلقات کی بحالی کے لیے بنیادی شرائط ہیں۔
ابراہام معاہدے کیا ہیں؟
ابراہام معاہدے 2020 میں امریکی ثالثی کے تحت طے پائے تھے جن کے نتیجے میں متحدہ عرب امارات، بحرین، سوڈان اور مراکش نے اسرائیل کے ساتھ سفارتی تعلقات قائم کیے۔ بعد ازاں قازقستان نے بھی معاہدے کی حمایت کا اعلان کیا تاہم سعودی عرب اب تک اس کا حصہ نہیں بنا۔
ان معاہدوں کا مقصد اسرائیل کے عرب و مسلم ممالک کے ساتھ سفارتی، اقتصادی اور سکیورٹی تعاون کو فروغ دینا تھا لیکن غزہ جنگ اور فلسطینی مسئلے کے باعث سعودی عرب نے اسرائیل کے ساتھ تعلقات معمول پر لانے کا عمل روک رکھا ہے۔