پنجاب میں شدید دھند ، مختلف موٹر ویز ٹریفک کے لیے بند
اشاعت کی تاریخ: 16th, January 2026 GMT
سٹی42: پنجاب بھر میں شدید دھند کے باعث مختلف موٹرویز کو ٹریفک کے لیے بند کر دیا گیا ہے جس سے شہریوں کو شدید مشکلات کا سامنا ہے۔
موٹروے پولیس کے مطابق دھند کے باعث موٹروے ایم ٹو لاہور سے کوٹ مومن تک بند کر دی گئی ہے جبکہ ایم تھری فیض پور سے درخانہ تک ٹریفک معطل ہے۔ اسی طرح موٹروے ایم فور پنڈی بھٹیاں سے ملتان تک اور ایم فائیو ملتان سے ظاہر پیر تک دھند کی وجہ سے بند کر دی گئی ہے۔
لاہور میں 187 ٹریفک حادثات؛ 217 افراد زخمی
موٹروے پولیس کا کہنا ہے کہ لاہور سیالکوٹ موٹروے ایم گیارہ لاہور سے سمبڑیال تک بند ہے جبکہ لاہور ایسٹرن بائی پاس پر بھی دھند کے باعث ٹریفک متاثر ہوئی ہے۔ قومی شاہراہوں پر بھی مختلف علاقوں میں شدید دھند چھائی ہوئی ہے جن میں لاہور، مانگا منڈی، پھولنگر، جمبر، پتوکی، رینالہ خورد، اوکاڑہ، ساہیوال، چیچہ وطنی، کسوال، اقبال نگر اور میاں چنوں شامل ہیں۔
موٹرویز کی بندش کے باعث قومی شاہراہوں پر ٹریفک کا دباؤ بڑھ گیا ہے۔ موٹروے پولیس کے ترجمان کے مطابق دھند ٹکڑوں کی صورت میں انتہائی خطرناک ہو سکتی ہے، اس لیے شہری غیر ضروری سفر سے گریز کریں۔ موٹروے پولیس نے روڈ یوزرز کو ہدایت کی ہے کہ دھند کے دوران صرف دن کے وقت سفر کریں جبکہ محفوظ سفری اوقات صبح 10 بجے سے شام 6 بجے تک ہیں۔
پنجاب میں پتنگ بازی پر پابندی ؛ خلاف ورزی پر قید اور جرمانے ہوں گے ؛ محکمہ داخلہ پنجاب
.
ذریعہ
ذریعہ: City 42
کلیدی لفظ: سٹی42 موٹروے پولیس کے باعث دھند کے
پڑھیں:
کراچی میں 2 سال قبل شروع ہونیوالی مفت شٹل سروس کمرشل بنیاد پر چلائی جارہی ہے
کراچی سے دوسرے شہروں میں جانے کے لیے شہر میں جگہ جگہ قائم بس اڈے دو سال پہلے ختم کرکے شہر سے باہر منتقل کر دیے گئے تھے، شٹل سروس کیلئے مخصوص گاڑیاں اپنے اصل کام کے بجائے کمرشل بنیادوں پر مسافروں کو براہ راست کراچی سے حیدرآباد لے جارہی ہیں۔
حکومت نے مسافروں کی سہولت کے لیے مفت شٹل سروس شروع کی تھی تاکہ مختلف مقامات سے مسافروں کو کراچی بس ٹرمینل پہنچایا جا سکے، مگر یہ شٹل سروس اب ٹرمینل تک محدود نہیں رہی بلکہ روٹ پرمٹ کے بغیر کمرشل بنیادوں پر کراچی سے حیدرآباد تک بھی چلائی جا رہی ہے۔
محکمہ ٹرانسپورٹ سندھ نے اگست 2024 میں آپریشن کرتے ہوئے شہر کے مختلف انٹر سٹی بس اڈے ختم کیے اور بڑی کوچز کے شہر میں داخلے پر پابندی عائد کی تھی۔
مسافروں کی سہولت کے لیے وزیر ٹرانسپورٹ شرجیل انعام میمن نے مفت شٹل سروس شروع کرنے کا اعلان کیا تھا۔ ایک سوال کے جواب میں انہوں نے بتایا تھا کہ تقریباً 50 شٹل گاڑیاں چلائی جا رہی ہیں تاکہ مسافروں کو مختلف مقامات سے کراچی بس ٹرمینل پہنچایا جا سکے۔ لیکن شٹل سروس کیلئے مخصوص گاڑیاں اپنے اصل کام کے بجائے کمرشل بنیادوں پر مسافروں کو براہ راست کراچی سے حیدرآباد لے جارہی ہیں۔
ادھر ٹرانسپورٹرز اپنی سواریاں مختلف ذرائع سے کراچی بس ٹرمینل تک پہنچا رہے ہیں، جس کے اضافی اخراجات بھی انہیں خود برداشت کرنا پڑ رہے ہیں۔
محکمہ ٹرانسپورٹ کا بتانا ہے کہ اس روٹ کے لیے شٹل سروس کے پاس کوئی روٹ پرمٹ موجود نہیں۔
جیو نیوز نے اس حوالے سے کراچی بس ٹرمینل انتظامیہ سے مؤقف لینے کی کوشش کی، مگر ان کی جانب سے کوئی جواب نہیں دیا گیا۔