چترال میں مسافر کوچ حادثہ، دو افراد جاں بحق
اشاعت کی تاریخ: 16th, January 2026 GMT
چترال:
اپر چترال میں پشاور سے چترال جانے والی ایک فلائنگ کوچ کو کوراغ کے مقام پر دریا کے کنارے حادثہ پیش آیا، جس کے نتیجے میں دو افراد جاں بحق اور متعدد مسافر زخمی ہو گئے۔
حغکام کے مطابق اپر چترال میں مسافر کوچ کے حادثے کی اطلاع ملتے ہی پاک فوج نے شدید موسمی حالات اور دشوار گزار راستوں کے باوجود فوری اور مؤثر امدادی کارروائی کا آغاز کیا اور پاک فوج کے جوانوں نے موقع پر پہنچ کر زخمیوں کو بروقت ابتدائی طبی امداد فراہم کی۔
ریسکیو ٹیموں نے زخمیوں کو فوری طور پر ٹی ایچ کیو اسپتال بونی منتقل کر دیا۔
ریسکیو آپریشن کے دوران پاک فوج نے مسافروں کو محفوظ مقام پر منتقل کیا اور شدید سردی کے پیش نظر انہیں گرم لباس بھی فراہم کیا، بروقت اور منظم امدادی کارروائی کے باعث کئی قیمتی جانوں کو بچا لیا گیا۔
مقامی شہریوں اور متاثرہ مسافروں نے مشکل حالات میں فوری رسپانس اور انسانی خدمت کے جذبے پر پاک فوج کا بھرپور شکریہ ادا کیا اور اس اقدام کو قابل تحسین قرار دیا۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Express News
کلیدی لفظ: پاک فوج
پڑھیں:
مستونگ میں فائرنگ،سیشن جج گن مین سمیت شہید،2 افراد زخمی
مستونگ میں فائرنگ سے سیشن جج عبدالحکیم کاکڑ اوران کے گن مین شہید جبکہ ایڈیشنل سیشن جج طارق لاشاری سمیت دو افراد شدید زخمی ہوگئے.وزیراعلیٰ بلوچستان اور وزیر داخلہ نے واقعے کی مذمت کرتے ہوئے فوری کارروائی کا حکم دیا۔ضلع مستونگ میں قومی شاہراہ پرنامعلوم مسلح افراد کی فائرنگ کے نتیجے میں سیشن جج عبدالحکیم کاکڑ اور ان کے گن مین شہید ہوگئے، جبکہ ایڈیشنل سیشن جج طارق لاشاری سمیت دو افراد شدید زخمی ہوگئے۔ڈپٹی کمشنر مستونگ بہرام سلیم کے مطابق سیشن جج عبدالحکیم کاکڑ کوئٹہ سے مستونگ جا رہے تھے کہ راستے میں ان کی گاڑی پر نامعلوم مسلح افراد نے فائرنگ کردی۔واقعے کے بعد لاشوں اور زخمیوں کو فوری طور پر اسپتال منتقل کردیا گیا، جبکہ قانون نافذ کرنے والے اداروں نے علاقے کو گھیرے میں لے کر تحقیقات اور حملہ آوروں کی تلاش شروع کردی۔بلوچستان بار کونسل نے حملے کو نظام انصاف پر دہشت گرد حملہ قرار دیتے ہوئے شدید مذمت کی. واقعے کے خلاف صوبہ بھر میں دو روزہ عدالتی ہڑتال اور تین روزہ سوگ کا اعلان کیا، جبکہ ججز، وکلاء اور شہریوں کے تحفظ کے لیے مؤثر اقدامات اور ملوث عناصر کی فوری گرفتاری کا مطالبہ کیا۔
دوسری جانب وزیراعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی اور صوبائی وزیر داخلہ میر ضیاء اللہ لانگو نے بھی واقعے کی شدید مذمت کرتے ہوئے شہداء کے لواحقین سے اظہار تعزیت کیا اور حملہ آوروں کو جلد قانون کے کٹہرے میں لانے کی ہدایت کی۔