محمود اچکزئی کو اپوزیشن لیڈر کس نے بنوایا؟ سینیٹر کا حیران کن دعویٰ
اشاعت کی تاریخ: 16th, January 2026 GMT
(ویب ڈیسک) جمعیت علمائے اسلام (ف) کے سینیٹر کامران مرتضیٰ نے دعویٰ کیا ہے کہ محمود اچکزئی کو قومی اسمبلی میں اپوزیشن لیڈر سابق وزیر اعظم کے کہنے پر بنایا گیا ہے۔
کامران مرتضیٰ نے اپنے بیان میں کہا ہے کہ محمود اچکزئی کا بطور اپوزیشن لیڈر تقرر نواز شریف نے کروایا ہے، انہوں نے سابق وزیر اعطم سے براہ راست رابطہ کیا تھا۔
رہنما جے یو آئی (ف) نے مزید کہا کہ نواز شریف نے بھی غصہ نکالنے کیلیے محمود اچکزئی کا نوٹیفکیشن کروایا، اقدام آنے والے دنوں میں وسیع تر میثاق جمہوریت کی بنیاد بن سکتا ہے۔
خیرپور ؛ خسرہ کی وبا بے قابو ، 3 ننھے پھول مرجھاگئے
انہوں نے مطالبہ کیا ہے کہ قومی اسمبلی کی طرح سینیٹ میں بھی اپوزیشن لیڈر کا تقرر کیا جائے، محمود اچکزئی جے یو آئی (ف) کے بھی اپوزیشن لیڈر ہیں، پارٹی نے بھی ان کی تقرری کا مطالبہ کیا تھا۔
واضح رہے کہ آج عمران خان کے نامزد کردہ محمود اچکزئی کو قومی اسمبلی میں اپوزیشن لیڈر مقرر کر دیا گیا ہے۔
اسپیکر قومی اسمبلی ایاز صادق نے ان کی بطور قائد حزب اختلاف تقرری کی منظوری دے دی۔ انہوں نے چیئرمین پی ٹی آئی بیرسٹر گوہر اور عامر ڈوگر کو اپنے چیمبر میں بلا لیا جہاں تعیناتی کا نوٹیفکیشن دیا گیا۔
اپنی ہی 2 بیٹیوں کے ساتھ زیادتی، بدبخت باپ نے اعترافِ جرم کرلیا
پی ٹی آئی رہنما عمر ایوب کے نااہل اور ممبر قومی اسمبلی کے منصب سے فارغ ہونے کے بعد عمران خان نے اپوزیشن لیڈر کیلیے سینئر سیاستدان اور آئین پاکستان بحالی تحریک کے سرکردہ رہنما محمود اچکزئی کا نام تجویز کیا تھا۔
Ansa Awais Content Writer.
ذریعہ
ذریعہ: City 42
کلیدی لفظ: محمود اچکزئی اپوزیشن لیڈر قومی اسمبلی
پڑھیں:
کے پی اسمبلی میں حکومتی ناراض ارکان کا مذاکرات سے انکار
پشاور:خیبرپختونخوا اسمبلی میں ناراض حکومتی ارکان کے ساتھ مفاہمت نہ ہوسکی ناراض ارکان نے کسی بھی قسم کے مذاکرات سے انکار کرتے ہوئے آئندہ کے لائحہ عمل کے لیے آج اجلاس طلب کرلیا۔
ایکسپریس نیوز کے مطابق خیبرپختونخوا اسمبلی میں حکومتی ارکان کا ناراض گروپ اپنے مطالبات پر ڈٹ گیا، ناراض ارکان سے سابق اسپیکر اسد قیصر اور سابق صوبائی وزیر شوکت یوسفزئی نے بھی رابطہ کیا ہے لیکن ناراض ارکان نے حکومت کے علاقہ کسی سے بھی مذاکرات سے انکار کردیا۔
ناراض ارکان کا کہنا ہے کہ ہمیں وزیراعلی سہیل آفریدی کی جانب سے یقین دہانی چاہیے، ایک ناراض رکن نے بتایا کہ ہمارا کوئی فارورڈ بلاک نہیں اگر فارورڈ بلاک بنتا ہے تو یہ عمران خان کے خلاف ہوگا ہم حکومت کے پالیسیوں سے ناراض ہیں مرکزی قیادت کو بتایا دیا گیا ہے اور انھیں خط بھی لکھا گیا ہے لیکن پارٹی چیئرمین کی جانب سے کوئی جواب نہیں ملا، ناراض ارکان نے آئندہ کے لائحہ عمل کے لیے اجلاس آج دوبارہ طلب کرلیا ہے۔