ایران تو سربلند ہوا مگر یورپ والو گرین لینڈ جا رہا ہے
اشاعت کی تاریخ: 16th, January 2026 GMT
اسلام ٹائمز: محسن رضائی، سابق کمانڈر اِن چیف سپاہِ پاسدارانِ انقلاب اسلامی ایران کا یہ بیان سوشل میڈیا پر وائرل ہے جس میں انہوں نے ٹرمپ کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ جب میں ٹرمپ کا چہرہ دیکھتا ہوں تو مجھے روس کی برف میں پھنس جانے والی ہٹلر کی فوج یاد آ جاتی ہے، تم نے یہ کیسے سمجھ لیا کہ قلیل مدت کا حملہ کرنے کے بعد ہم تمہاری جنگ بندی کی درخواست قبول کر لیں گے؟ پیچھے ہٹ جاؤ، ورنہ خطے میں تمہارا کوئی بھی اڈہ محفوظ نہیں رہے گا، یہ لوگ ابھی تک نہیں سمجھ پائے کہ وہ کس ملک کا سامنا کر رہے ہیں۔ تحریر: ڈاکٹر ندیم عباس
اسلامی جمہوریہ ایران میں پلانٹڈ فسادات ناکام ہوئے ویسے ہی یورپی سفارتکار اور میڈیا ایران میں کسی تبدیلی کے وہم کے پیچھے بھاگ رہے تھے۔ انہیں ابھی تک یقین نہیں آ رہا ہے کہ جس پیالی میں طوفان برپا کیا گیا تھا وہ جاتا رہا ہے۔ بیرون ملک مقیم ایرانی عوام کے دشمن جو مدت سے ایران میں داخل تک نہیں ہوئے ان کے مظاہرے بس آپ کی فنڈنگ حلال کرنے کی کامیاب کوششیں ہیں۔ آپ کے وہم گمان میں بھی نہیں تھا اور سارے پتے شو کر بیٹھے اور اب الگ الگ بیٹھے رو رہے ہو۔ پیر کے دن ایران کے شہر شہر ہونے والے ملین مارچز نے بین الاقوامی دنیا کے آزاد خیال لوگوں کو یہ بات باور کروا دی ہے کہ جن چند زر خرید لوگوں کے ذریعے دنگا فساد کی کوشش کی گئی تھی ان کا عوام سے کوئی تعلق نہیں۔ وہ سب یورپ، اسرائیل اور امریکہ سمیت کئی ممالک کے مفادات کے لیے کام کر رہے تھے۔ جیسے ہی ان کے رابطے کٹے وہ ٹھس ہوگئے۔ وائٹ ہاؤس کا دعویٰ ہے کہ گزشتہ روز ایران میں 800 پھانسیوں پر عمل درآمد ہونا تھا لیکن ٹرمپ کے دباؤ کی وجہ سے انہیں منسوخ کر دیا گیا۔ اب اسی کا کریڈٹ لیا جا رہا ہے اور دھمکیاں ذرا کم ہوگئی ہیں۔
حاتمی صاحب نے درست تجزیہ کیا کہ ایران عام طور پر ہر سال اوسطاً 1000 مجرموں کو پھانسی دیتا ہے، جن میں سے زیادہ تر طویل کارروائیوں کے بعد ہوتے ہیں۔ یہ دعویٰ کرنا کہ ایک ہی دن میں 800 شیڈول کیے گئے تھے ناممکن بات ہے۔ محسن رضائی، سابق کمانڈر اِن چیف سپاہِ پاسدارانِ انقلاب اسلامی ایران کا یہ بیان سوشل میڈیا پر وائرل ہے جس میں انہوں نے ٹرمپ کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ جب میں ٹرمپ کا چہرہ دیکھتا ہوں تو مجھے روس کی برف میں پھنس جانے والی ہٹلر کی فوج یاد آ جاتی ہے، تم نے یہ کیسے سمجھ لیا کہ قلیل مدت کا حملہ کرنے کے بعد ہم تمہاری جنگ بندی کی درخواست قبول کر لیں گے؟ پیچھے ہٹ جاؤ، ورنہ خطے میں تمہارا کوئی بھی اڈہ محفوظ نہیں رہے گا، یہ لوگ ابھی تک نہیں سمجھ پائے کہ وہ کس ملک کا سامنا کر رہے ہیں۔ یہ بات بالکل درست ہے کہ ان کے تجزیے رائنج ملکوں کے نظام کی بنیاد پر ہوتے ہیں اور اسی پر پالیسیاں بناتے ہیں اسی لیے ہر بار ناکام ہو جاتے ہیں۔ اب کی بار بھی انہیں منہ کی کھانی پڑی ہے۔
یورپ مفت میں امریکہ اور اسرائیل کی چاپلوسی کے لیے دستیاب رہتا ہے۔ اب اسے معلوم ہو جانا چاہیئے کہ اس سفید ہاتھی کا رخ آپ کی طرف ہو گیا ہے۔ ٹرمپ جس طرح سے ڈنمارک اور پورے یورپ کو بے عزت کر رہا ہے یہ یورپی رہنماؤں کی ہمت ہے کہ وہ محسوس نہیں کر رہے۔ دو مثالیں ملاحظہ کریں گرین لینڈ کے وزیرِ اعظم جینس فریڈرک نیلسن نے منگل کو کہا کہ ان کا خطہ امریکا میں شامل ہونے کے بجائے ڈنمارک کا حصہ ہی رہنا چاہتا ہے۔ انہوں نے کوپن ہیگن میں پریس کانفرنس کے دوران کہا کہ موجودہ جغرافیائی سیاسی بحران میں اگر امریکا اور ڈنمارک میں سے کسی ایک کا انتخاب کرنا پڑے تو ہم ڈنمارک کو چنتے ہیں۔ نیلسن کے بیان پر ردِعمل دیتے ہوئے ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا میں اس سے اتفاق نہیں کرتا۔ میں اسے نہیں جانتا اور نہ ہی اس کے بارے میں کچھ جانتا ہوں لیکن یہ اس کے لیے ایک بڑا مسئلہ بننے والا ہے۔
واشنگٹن میں نائب صدر جے ڈی وینس کی میزبانی میں گرین لینڈ اور ڈنمارک کے سفارت کاروں کے ساتھ ہونے والی ملاقات کے بعد ٹرمپ نے کہا: گرین لینڈ قومی سلامتی کے لیے انتہائی اہم ہے۔ اگر روس یا چین گرین لینڈ پر قبضہ کرنا چاہیں تو ڈنمارک اس کے بارے میں کچھ بھی نہیں کر سکتا لیکن ہم سب کچھ کر سکتے ہیں۔ آپ نے یہ بات گزشتہ ہفتے وینزویلا کے معاملے میں دیکھ لی ہے۔ گرین لینڈ کے وزیراعظم کی بے عزتی کہ میں اسے جانتا ہی نہیں ہوں اور اس کا بیان اس کے لیے مسئلہ بننے والا ہے دوسرے بیان میں تو سیدھی وینزویلا کے حشر نشر کی ہی دھمکی لگا دی۔ ویسے ڈنمارک اور گرین لینڈ وزرائے خارجہ کو وائیٹ ہاؤس بلا کر ان کی اچھی خاصی عزت افزائی کی گئی ہے۔ آپ اس پریس کانفرنس کو دیکھیں ایسے لگتا ہے جیسے دونوں کسی بڑے قریبی عزیز کی فوتگی پر اظہار خیال کر رہے ہوں۔
ڈنمارک کے وزیرِ خارجہ لارس لوکے راسموسن نے کہا کہ گرین لینڈ پر امریکا کا قبضہ بالکل بھی ضروری نہیں ہے، ہم امریکی مؤقف تبدیل نہیں کر سکے۔ یہ واضح ہے کہ صدر کے ذہن میں گرین لینڈ پر غلبہ حاصل کرنے کی خواہش موجود ہے۔ اس لیے ہمارے درمیان بنیادی اختلاف اب بھی برقرار ہے۔ محترم وزیر خارجہ صاحب کو یہ بات معلوم ہوگئی ہے کہ امریکی صدر محترم جناب ٹرمپ صاحب گرین لینڈ کو ہر صورت میں ہتھیانا چاہتے ہیں۔ انہیں یہی بات سمجھانے کے لیے طلب کیا گیا تھا کہ بہتری اسی میں ہے کہ آپ خود ہی اسے ہمارے حوالے کر دیں۔ ویسے یورپ نے ہلکی ہلکی ڈھولکی بجانا شروع کی ہے۔ یورپی اور خارجہ امور کے فرانسیسی وزیر ژاں نوئل بارو نے 14 جنوری 2026 کو کہا: بین الاقوامی قانون کو پاؤں تلے روند دیا گیا ہے، اور 2026 کے ابتدائی دنوں نے یہ بات بالکل واضح کر دی ہے کہ اب قوموں کے درمیان تعلقات طاقتور کی حکمرانی کے اصول پر چل رہے ہیں۔
جناب وزیر خارجہ صاحب آپ کو دہائیاں دیتے رہے کہ یورپ کی منافقانہ خارجہ پالیسیوں کی وجہ سے دنیا برباد ہو رہی ہے۔ فلسطینی اسی بین الاقوامی قانون کا غزہ میں انتظار کرتے رہے۔ ان کی دو سال تک نسل کشی جاری رہی مگر آپ اسرائیل کو اسلحہ اور یورو فراہم کرتے رہے۔ آج کس منہ سے بین الاقوامی قانون کی بات کر رہے ہیں؟ کیا آپ ایران پر امریکہ اور اسرائیل کی جارحیت کی مذمت کی تھی؟ وہ بین الاقوامی قانون کی صریح خلاف ورزی تھی۔ اس وقت ہم دہائیاں دے رہے تھے کہ بین الاقوامی قانون کا احترام ہر آزاد ملک کے مفاد میں ہے۔ اس وقت آپ بغلیں بجا رہے تھے۔ آج فلسطین کے شیر خوار بچوں کی آہیں رنگ لا رہی ہیں اور آپ ہاتھی کے پاؤں کے نیچے آنے والے ہیں۔ ویسے مجھے اس بات کی امید بہت ہی کم ہے کہ یورپ امریکہ کے مقابل کوئی مزاحمت کرے گا، قوی امید یہ ہے کہ آپ اپنی پرامن ہاتھوں سے گرین لینڈ کے حوالے کر دیں گے اور وائٹ ہاوس میں تالیاں بجائی جائیں گے اور سوشل میڈیا پر ٹرمپ آپ کو گریٹ کہہ دے گا آپ بھی خوش ہو جائیں گے۔ ویسے لطیفہ ہی لگتا ہے مگر یہ میڈیا پر یہ بات آ رہی ہے کہ گرین لینڈ کو امریکی قبضے سے بچانے کیلئے فرانس نے 15، جرمنی نے 13 اور ہالینڈ نے 1 فوجی فقط ایک فوجی گرین لینڈ بھیج دیا ہے۔
ذریعہ
ذریعہ: Islam Times
کلیدی لفظ: بین الاقوامی قانون ایران میں گرین لینڈ میڈیا پر نہیں کر رہے تھے رہے ہیں ہے کہ ا کر رہے کے لیے یہ بات کہا کہ کے بعد اور اس رہا ہے
پڑھیں:
ٹرمپ کی خام خیالی تھی وہ ہمیں مذاکرات میں لگاکر حزب اللہ کیخلاف کارروائیاں کریں گے، ایرانی سفیر
ایرانی سفیر رضا امیری مقدم(فائل فوٹو)۔پاکستان میں متعین ایرانی سفیر رضا امیری مقدم نے کہا کہ ٹرمپ کی خام خیالی تھی کہ وہ ہمیں مذاکرات میں مشغول کرکے حزب اللہ کیخلاف کارروائیاں کریں گے۔
ایرانی سفیر نے کہا کہ میناب میں اسکول اور عام شہریوں کو نشانہ بنایا گیا، امریکا اور اسرائیل کو 40 روزہ جنگ کے بعد شکست کا سامنا کرنا پڑا۔
اسلام آباد میں تقریب سے خطاب کرتے ہوئے ایرانی سفیر رضا امیری مقدم نے مزید کہا کہ مذاکرات کے حوالے پاکستان ثالث کے طور پر ابھرا، ہم مذاکرات میں اس لیے آئے کہ ہماری نیت ہے، ٹرمپ کہتے ہیں کہ ہمارے پاس ایٹمی ہتھیار نہیں ہونے چاہئیں۔
ایرانی سفیر نے کہا ہمارے رہبر اعلیٰ نے فتویٰ دیا ہوا ہے کہ ہم ایٹمی ہتھیاروں کو حرام سمجھتے ہیں، مذاکرات کی میز پر امریکی کہتے ہیں آپ یورینیم بھی افزودہ نہیں کرسکتے۔
رضا امیری مقدم نے کہا کہ ایٹمی ہتھیاروں اور پرامن مقاصد کیلئے یورینیم افزودہ کرنا الگ ہے، امریکا اور مغرب کے سامنے ایران کبھی نہیں جھکے گا۔
ایرانی سفیر نے کہا کہ ٹرمپ صبح سے شام تک دیوانوں کی طرح باتیں کرتے رہتے ہیں، ان کی خام خیالی تھی کہ وہ ہمیں مذاکرات میں مشغول کرکے حزب اللہ کیخلاف کارروائیاں کریں گے۔