بھارتی دوغلی پالیسیاں، چاہ بہار سے دستبردار، سرکاری نامزد ڈائریکٹرز مستعفی
اشاعت کی تاریخ: 16th, January 2026 GMT
اسلام آباد(نیوزڈیسک) بھارت کی جانب سے ایران کی چاہ بہار بندرگاہ سے عملی دستبرداری بھارت کی ایران کے ساتھ تعلقات کی اصلیت سامنے لے آئی ہے ۔ امریکی دباؤ کے تحت ایران سے طے شدہ معاہدے کو ترک کرنا بھارت کی دوغلی اور موقع پرستانہ پالیسیوں کا واضح ثبوت ہے۔
رپورٹس کے مطابق بھارت نے امریکی پابندیوں کے نفاذ سے قبل ایران کو معاہدے کے تحت 120 ملین ڈالر کی طے شدہ رقم ادا کی تھی۔ انڈیا پورٹس گلوبل لمیٹڈ کے بورڈ پر موجود سرکاری نامزد ڈائریکٹرز نے استعفیٰ دے دیا ہے، جبکہ کمپنی کی ویب سائٹ بھی بند کر دی گئی ہے۔
رپورٹس کے مطابق اس کا مقصد امریکی پابندیوں کے ممکنہ اثرات سے متعلق افراد اور اداروں کو بچایا جا سکے۔ معاشی ماہرین کا کہناہے کہ خدشہ ہے بھارت نے ایران کی چاہ بہار بندرگاہ بظاہر سرمایہ کاری کیلئے لی تھی ، حقیقت میں بھارت اس کو مذموم عزائم کیلئے استعمال کر رہا تھا ۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Daily Mumtaz
پڑھیں:
ٹرمپ کے وار پاورز محدود؛ امریکی پارلیمان نے ایران جنگ روکنے کی قرارداد منظور کرلی
امریکی ایوانِ نمائندگان نے صدر ڈونلڈ ٹرمپ کو ایران کے ساتھ جاری فوجی تنازع سے امریکی افواج واپس بلانے کی ہدایت دینے والی وار پاورز قرارداد دوبارہ منظور کرلی۔
عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق یہ قرارداد اپوزیشن جماعت ڈیموکریٹ کی رکنِ کانگریس پرامیلا جے پال کی جانب سے پیش کی گئی جس کے حق میں 214 جب کہ مخالفت میں 208 ووٹ پڑے۔
رائے شماری میں اپوزیشن جماعت ڈیموکریٹ کے تمام اراکین نے قرارداد کی حمایت کی جب کہ حکمراں جماعت ریپبلکن کے 5 ارکان نے بھی پارٹی پالیسی کے برعکس ووٹ دیتے ہوئے قرارداد کے حق میں رائے دی۔
خیال رہے کہ یہ دوسری بار ہے کہ ایوانِ نمائندگان نے اسی نوعیت کی قرارداد منظور کی ہے۔ گزشتہ ماہ بھی ایوان نے ایسی ہی ایک قرارداد منظور کی تھی جسے بعد میں سینیٹ نے بھی منظور کر لیا تھا۔
اگرچہ قرارداد کی منظوری سیاسی لحاظ سے اہم سمجھی جا رہی ہے تاہم اس کی قانونی حیثیت محدود ہے۔ ٹرمپ انتظامیہ کا مؤقف ہے کہ اس قسم کی وار پاورز قراردادیں آئین سے مطابقت نہیں رکھتیں اور صدر بطور کمانڈر اِن چیف قومی سلامتی کے معاملات میں فوجی فیصلے کرنے کا اختیار رکھتے ہیں۔
ووٹنگ سے قبل ہونے والی بحث میں ایوانِ خارجہ امور کمیٹی کے سرکردہ ڈیموکریٹ رکن گریگ میکس نے کہا کہ صدر ٹرمپ نے کانگریس کی پیشگی منظوری کے بغیر ایران کے خلاف فوجی کارروائی کر کے امریکی قانون اور آئینی تقاضوں کی خلاف ورزی کی ہے۔
یہ قرارداد ایسے وقت منظور ہوئی جب یمن کے حوثیوں کے بحیرہ احمر میں سعودی آئل ٹینکرز پر حملوں کے بعد عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمتیں 100 ڈالر فی بیرل سے تجاوز کرچکی ہیں۔