امریکی پابندیوں کا خوف، بھارت نے ایران کی چاہ بہار بندرگاہ سے جڑے منصوبے ترک کر دیے
اشاعت کی تاریخ: 16th, January 2026 GMT
امریکا کے دباؤ کے بعد بھارت نے اچانک ایران کی چاہ بہار بندرگاہ سے دستبرداری اختیار کر لی ہے۔
بھارتی میڈیا کے مطابق چاہ بہار بندرگاہ کے انتظام کو دیکھنے والی انڈیا پورٹس گلوبل لمیٹڈ کے بورڈ میں شامل تمام سرکاری نامزد ڈائریکٹرز نے اجتماعی طور پر استعفیٰ دے دیا ہے۔ کمپنی کی ویب سائٹ بھی بند کر دی گئی تاکہ امریکی پابندیوں کے ممکنہ اثرات سے متعلق افراد اور اداروں کو محفوظ رکھا جا سکے۔
واضح رہے کہ سال 2024 میں بھارت نے 10 سال کے لیے چاہ بہار بندرگاہ کے انتظام کا ذمہ لیا تھا، تاہم امریکہ اور ایران کے درمیان حالیہ کشیدگی کے بعد بھارت نے اس منصوبے سے علیحدگی اختیار کر لی۔
بھارتی میڈیا کی معاشی رپورٹس کے مطابق بھارت نے پابندیوں کے نفاذ سے قبل تہران کو اپنی طے شدہ 120 ملین ڈالر کی رقم ادا کر دی تھی۔ ماہرین کے مطابق بھارت نے بظاہر چاہ بہار بندرگاہ میں سرمایہ کاری کے لیے حصہ لیا تھا، لیکن حقیقت میں اسے اپنے ممکنہ ذاتی مفادات کے لیے استعمال کر رہا تھا۔
انڈیا پورٹس گلوبل لمیٹڈ خاص طور پر چاہ بہار منصوبے کے لیے قائم کی گئی تھی، اور ماہرین کا کہنا ہے کہ امریکی پابندیوں کی صورت میں کمپنی کی سرگرمیوں اور اصل کردار سے پردہ اٹھ سکتا تھا، جس سے بھارت کی بین الاقوامی ساکھ کو نقصان پہنچنے کا خدشہ تھا۔
معاشی ماہرین نے یہ بھی کہا کہ چاہ بہار بندرگاہ سے ممکنہ طور پر بھارتی خفیہ ایجنسی “را” کی سرگرمیاں جاری تھیں، جبکہ ایران اور اسرائیل کے درمیان کشیدگی کے بعد ایرانی حکام پہلے ہی بندرگاہ اور اس سے منسلک سرگرمیوں پر الرٹ تھے۔
تجزیہ کاروں کے مطابق بھارت نے ان خدشات کو مدنظر رکھتے ہوئے اس منصوبے سے علیحدگی کو اپنے مفاد میں بہتر سمجھا۔ اس اقدام سے بھارت کے اصولوں پر مبنی اور متوازن خارجہ پالیسی کے دعوے پر سوالیہ نشان لگ گیا ہے، اور یہ ظاہر ہوتا ہے کہ بھارت نے طویل المدتی شراکت داری اور وعدوں کو وقتی مفادات کی خاطر نظرانداز کیا۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
.
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: چاہ بہار بندرگاہ بھارت نے کے مطابق کے لیے
پڑھیں:
امریکا ایران غیر یقینی صورتحال: عالمی منڈی میں تیل کی قیمتیں بلند سطح پر برقرار
امریکا اور ایران کے درمیان جنگ بندی اور مذاکرات سے متعلق غیر یقینی صورتحال کے باعث عالمی منڈی میں تیل کی قیمتیں بلند سطح پر برقرار رہیں۔
منگل کے روز برینٹ خام تیل 95.04 ڈالر فی بیرل جبکہ امریکی ویسٹ ٹیکساس انٹرمیڈیٹ (WTI) 91.99 ڈالر فی بیرل پر ٹریڈ ہوا۔ دونوں بینچ مارکس گزشتہ سیشن میں 5 فیصد سے زائد اضافے کے بعد مستحکم رہے۔
سرمایہ کاروں کی توجہ خاص طور پر آبنائے ہرمز کی ممکنہ بحالی اور مشرق وسطیٰ کی کشیدگی پر مرکوز ہے۔ امریکی صدر نے کہا ہے کہ ایران کے ساتھ مذاکرات جاری ہیں اور جلد کسی معاہدے کی امید ہے تاہم ایرانی میڈیا کے مطابق بات چیت میں تعطل بھی سامنے آیا ہے۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ تیل کی قیمتوں میں موجود اتار چڑھاؤ کا دارومدار امریکا-ایران مذاکرات اور خطے کی صورتحال پر ہے۔ دوسری جانب لبنان میں حزب اللہ اور اسرائیل کے درمیان جزوی جنگ بندی کو کشیدگی کم کرنے کی محدود کوشش قرار دیا جا رہا ہے۔
یاد رہے کہ خلیجی علاقے میں کشیدگی کے باعث تیل اور ایل این جی کی عالمی ترسیل متاثر ہوئی جس سے قیمتوں میں نمایاں اضافہ دیکھنے میں آیا ہے۔