ڈھاکہ: اسلامی موومنٹ کا عام انتخابات اکیلے لڑنے کا اعلان، 268 نشستوں پر امیدوار میدان میں اتار دیے
اشاعت کی تاریخ: 16th, January 2026 GMT
بنگلہ دیش اسلامک موومنٹ، اسلامی اندولن بنگلہ دیش نے جماعت اسلامی کی قیادت میں بننے والے انتخابی اتحاد میں شامل نہ ہونے اور 13ویں پارلیمانی انتخابات آزاد حیثیت میں لڑنے کا فیصلہ کرلیا ہے۔ جماعت کی قیادت چرمونائی پیر کر رہے ہیں۔
جمعے کے روز ڈھاکہ کے علاقے پرانا پلٹن میں واقع مرکزی دفتر میں پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے پارٹی کے ترجمان اور سینئر جوائنٹ سیکریٹری جنرل غازی عطا الرحمان نے اعلان کیا کہ اسلامی اندولن 300 میں سے 268 حلقوں میں اپنے امیدوار میدان میں اتار رہی ہے۔
یہ بھی پڑھیں: بنگلہ دیش میں انتخابات 12 فروری کو ہی ہوں گے، شیڈول میں تبدیلی نہیں، چیف ایڈوائزر محمد یونس
یہ فیصلہ جماعت اسلامی اور اس کی اتحادی جماعتوں کے ساتھ نشستوں کی تقسیم پر کئی دنوں تک جاری رہنے والے سخت مذاکرات ناکام ہونے کے بعد سامنے آیا۔ اس سے قبل جماعت اسلامی کی قیادت میں 11 جماعتی مذہبی اتحاد نے متناسب نمائندگی کے مطالبے اور ریفرنڈم کے انعقاد کے لیے مشترکہ سیاسی تحریک کے بعد مل کر الیکشن لڑنے پر اتفاق کیا تھا۔
تاہم نشستوں کی تقسیم پر اختلافات شدت اختیار کر گئے۔ اطلاعات کے مطابق جماعت اسلامی نے اسلامی اندولن کو 40 نشستوں کی پیشکش کی، جبکہ اسلامی اندولن نے 50 نشستوں کا مطالبہ کیا۔ مذاکرات ناکام ہونے پر جماعت اسلامی اور اس کی 10 اتحادی جماعتوں نے جمعرات کو اپنے امیدواروں کی فہرست جاری کردی، جبکہ 47 نشستیں خالی رکھی گئیں، تاہم اسلامی اندولن نے اتحاد میں شامل ہونے کے بجائے آزاد حیثیت میں الیکشن لڑنے کا فیصلہ کرلیا۔
غازی عطا الرحمان کے مطابق پارٹی نے ابتدا میں 270 حلقوں میں کاغذات نامزدگی جمع کرائے تھے، تاہم اپیل کے بعد 2 حلقوں میں نامزدگیاں مسترد ہوئیں۔ انہوں نے واضح کیا کہ باقی 268 حلقوں میں امیدوار انتخابی مہم جاری رکھے ہوئے ہیں اور کوئی امیدوار دستبردار نہیں ہوگا۔
باقی 32 حلقوں کے حوالے سے ان کا کہنا تھا کہ اسلامی اندولن ایسے امیدواروں کی حمایت کرے گی جن کی سوچ اور نظریات پارٹی کے اصولوں سے ہم آہنگ ہوں۔
یہ بھی پڑھیں: جماعتِ اسلامی بنگلہ دیش کا معتبر اور شفاف انتخابات پر زور
انہوں نے 5 اگست کے بعد پیدا ہونے والی سیاسی صورتحال کو ایک تاریخی موقع قرار دیتے ہوئے کہا کہ اس سے مذہبی قوتوں کو انصاف اور امتیاز سے پاک معاشرے کے قیام کا موقع ملا ہے۔ انہوں نے بعض سیاسی حلقوں پر الزام عائد کیا کہ وہ اسلامی اندولن کے امیر کی جانب سے پیش کی گئی ون باکس پالیسی کو ذاتی سیاسی مفادات کے لیے استعمال کر رہے ہیں۔
جماعت اسلامی سے علیحدگی کی وضاحت کرتے ہوئے غازی عطا الرحمان نے کہا کہ اگرچہ جماعت اسلامی سیاسی طور پر مضبوط ہے، مگر اسلامی اندولن نظریاتی اور اخلاقی طور پر کمزور نہیں۔
ان کے مطابق جماعت اسلامی کے امیر کی جانب سے اقتدار میں آکر موجودہ قوانین کے تحت حکومت کرنے کے بیان اور ایک اجلاس میں موجود مسیحی خاتون کو شریعت نافذ نہ کرنے کی یقین دہانی کے بعد اسلامی اندولن کو یہ احساس ہوا کہ اتحاد کے اندر رہ کر اس کے مقاصد حاصل نہیں ہوسکیں گے۔
یہ بھی پڑھیں: بنگلہ دیش کے انتخابات پر یورپی یونین کی کڑی نظر، 200 مبصرین تعینات
پریس کانفرنس میں اسلامی اندولن کے سینیئر رہنما شیخ فضل باری مسعود اور اشرف الاسلام بھی موجود تھے۔
واضح رہے کہ بنگلہ دیش میں 13ویں پارلیمانی انتخابات 12 فروری 2026 کو منعقد ہونے والے ہیں۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
we news اسلامک موومنٹ اسلامی آندولن بنگلہ دیش بنگلہ دیش جماعت اسلامی.
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: اسلامک موومنٹ اسلامی ا ندولن بنگلہ دیش بنگلہ دیش جماعت اسلامی اسلامی اندولن جماعت اسلامی بنگلہ دیش اسلامی ا کے بعد
پڑھیں:
گلگت بلتستان انتخابات کو متنازع بنانے کی ہر کوشش جمہوریت کے خلاف ہے، حلیم عادل شیخ
صدر پی ٹی آئی سندھ نے کہا کہ عوامی مینڈیٹ کو متنازع بنانے اور اس پر اثر انداز ہونے کی کوششوں نے جمہوری عمل کو نقصان پہنچایا، آج بھی عوام عمران خان کے بیانیے اور قیادت پر بھرپور اعتماد کا اظہار کر رہے ہیں اور پاکستان تحریک انصاف ملک کی مقبول ترین سیاسی جماعت ہے۔ اسلام ٹائمز۔ پاکستان تحریک انصاف سندھ کے صدر حلیم عادل شیخ نے کہا ہے کہ گلگت بلتستان کے آئندہ انتخابات کو متنازع بنانے کی کسی بھی کوشش سے گریز کیا جائے اور انتخابی عمل کو مکمل طور پر شفاف، غیر جانبدار اور منصفانہ بنایا جائے۔ انہوں نے کہا کہ گلگت بلتستان کے عوام کو اپنا ووٹ آزادانہ طور پر استعمال کرنے کا مکمل حق حاصل ہے اور کسی قسم کی مداخلت یا دباؤ جمہوری اقدار کے منافی ہوگا۔ حلیم عادل شیخ نے کہا کہ ملک میں سیاسی استحکام کا راستہ صرف آزاد، شفاف اور غیر جانبدار انتخابات سے ہو کر گزرتا ہے، عوامی مینڈیٹ پر ڈاکہ ڈالنے کی روایت نے ماضی میں پاکستان کو سیاسی اور معاشی بحرانوں سے دوچار کیا، اس لیے ضروری ہے کہ عوام کے فیصلے کا مکمل احترام کیا جائے۔ انہوں نے کہا کہ 8 فروری 2024ء کے عام انتخابات میں عوام نے اپنا واضح فیصلہ دیا تھا، تاہم عوامی مینڈیٹ کو متنازع بنانے اور اس پر اثر انداز ہونے کی کوششوں نے جمہوری عمل کو نقصان پہنچایا، آج بھی عوام عمران خان کے بیانیے اور قیادت پر بھرپور اعتماد کا اظہار کر رہے ہیں اور پاکستان تحریک انصاف ملک کی مقبول ترین سیاسی جماعت ہے۔
حلیم عادل شیخ نے مطالبہ کیا کہ پاکستان تحریک انصاف کو گلگت بلتستان میں انتخابی مہم چلانے کے مساوی اور آئینی حقوق فراہم کیے جائیں تاکہ تمام سیاسی جماعتوں کو یکساں مواقع میسر آ سکیں۔ انہوں نے کہا کہ انتخابی عمل کو ہر قسم کے دباؤ، جانبداری اور غیر ضروری مداخلت سے پاک رکھا جائے تاکہ عوام اپنی مرضی کے نمائندوں کا انتخاب کر سکیں۔ انہوں نے کہا کہ گلگت بلتستان کے عوام باشعور ہیں اور وہ اپنے ووٹ کی طاقت سے حقیقی نمائندوں کا انتخاب کریں گے، عوام کا فیصلہ ہی جمہوریت اور پاکستان کے روشن مستقبل کی بنیاد ہے۔ انہوں نے اس امید کا اظہار کیا کہ پاکستان تحریک انصاف گلگت بلتستان کے انتخابات میں عوامی حمایت کے ساتھ بھرپور کامیابی حاصل کرے گی۔ حلیم عادل شیخ نے مزید کہا کہ سیاسی استحکام کے بغیر معاشی ترقی، سرمایہ کاری اور عوامی خوشحالی ممکن نہیں، لہذا تمام متعلقہ حکام اس امر کو یقینی بنائیں کہ انتخابات مکمل طور پر شفاف اور منصفانہ ہوں اور عوام کے مینڈیٹ کا ہر صورت احترام کیا جائے۔