صنعتی صارفین اور سی این جی اسٹیشنز کی گیس عارضی طور پر بند کرنے کا فیصلہ
اشاعت کی تاریخ: 17th, January 2026 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
کراچی(اسٹاف رپورٹر)شہریوں کو گیس کی قلت اور کم پریشر کی شکایات کے پیش نظر سوئی سدرن گیس کمپنی نے گھریلو صارفین کے لیے فراہمی بہتر بنانے کا فیصلہ کیا ہے اس مقصد کے لیے صنعتی صارفین اور سی این جی اسٹیشنز کی گیس 48 گھنٹوں کے لیے بند کی جا رہی ہے۔سوئی سدرن گیس کمپنی نے اعلان کیا ہے کہ صنعتی صارفین اور سی این جی اسٹیشنز کو گیس کی فراہمی 17 جنوری صبح 8 بجے سے پیر کی صبح 8 بجے تک معطل رہے گی۔ کمپنی کے مطابق یہ فیصلہ ملک کے مختلف حصوں میں گیس کی قلت اور کم پریشر کے باعث گھریلو صارفین کو درپیش مشکلات کے پیش نظر کیا گیا ہے۔سوئی سدرن گیس کے مطابق سرد موسم میں گھریلو گیس کی طلب میں نمایاں اضافہ ہو جاتا ہے، جس کے باعث نظام پر دباؤ بڑھ جاتا ہے۔ اس صورتحال میں گھریلو صارفین کو ترجیح دیتے ہوئے صنعتی صارفین اور سی این جی اسٹیشنز کی گیس عارضی طور پر بند کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔کمپنی حکام کا کہنا ہے کہ اس اقدام سے رہائشی علاقوں میں گیس پریشر میں بہتری آنے کی توقع ہے اور شہریوں کو کھانا پکانے سمیت دیگر گھریلو ضروریات کے لیے بہتر گیس سپلائی میسر آ سکے گی۔ سوئی سدرن گیس نے صنعتی صارفین اور سی این جی اسٹیشنز سے تعاون کی اپیل کرتے ہوئے کہا ہے کہ مقررہ مدت کے بعد گیس فراہمی بحال کر دی جائے گی۔
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
کلیدی لفظ: صنعتی صارفین اور سی این جی اسٹیشنز سوئی سدرن گیس کے لیے گیس کی
پڑھیں:
ویپنگ کے نقصانات: نئی تحقیق میں صحت کے سنگین خطرات سے خبردار
اسلام آباد: ویپنگ کے نقصانات سے متعلق سامنے آنے والی نئی تحقیق نے ای سگریٹ استعمال کرنے والوں کے لیے خطرے کی گھنٹی بجا دی ہے۔ ماہرین صحت کا کہنا ہے کہ ویپنگ کو عام سگریٹ کا محفوظ متبادل سمجھنا ایک غلط فہمی ہے، کیونکہ اس کے استعمال سے بھی انسانی صحت پر سنگین منفی اثرات مرتب ہو سکتے ہیں۔
تحقیقی رپورٹ کے مطابق ویپ استعمال کرنے والے افراد کے منہ اور پھیپھڑوں کے خلیوں میں ڈی این اے کو نقصان پہنچنے کے شواہد ملے ہیں۔ ماہرین کے مطابق ڈی این اے میں خرابی مختلف بیماریوں، خصوصاً کینسر کے خطرات میں اضافے کا باعث بن سکتی ہے۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ اگرچہ ویپ میں روایتی تمباکو موجود نہیں ہوتا، لیکن اس میں شامل مختلف کیمیکلز اور فلیورز انسانی خلیوں پر منفی اثرات مرتب کر سکتے ہیں۔ تحقیق میں یہ بھی سامنے آیا ہے کہ پوڈ سسٹم پر مبنی ویپ استعمال کرنے والے افراد میں خلیاتی نقصان نسبتاً زیادہ دیکھا گیا۔
سائنس دانوں کے مطابق ویپنگ اور روایتی سگریٹ نوشی کا طریقہ کار مختلف ضرور ہے، تاہم دونوں صورتوں میں جسم کو نقصان پہنچنے کا خطرہ موجود رہتا ہے۔ بعض مطالعات میں ویپ استعمال کرنے والوں کے خلیوں میں ہونے والے ڈی این اے نقصان کی سطح سگریٹ نوش افراد کے قریب پائی گئی۔
ماہرین صحت نے خبردار کیا ہے کہ نوجوانوں میں ویپنگ کا بڑھتا ہوا رجحان مستقبل میں صحت عامہ کے لیے ایک بڑا چیلنج بن سکتا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ ای سگریٹ کو محفوظ متبادل سمجھ کر استعمال کرنے کے بجائے اس سے مکمل اجتناب اختیار کرنا زیادہ بہتر ہے۔
ماہرین نے عوام کو مشورہ دیا ہے کہ وہ ویپنگ کے نقصانات کو سنجیدگی سے لیں اور اپنی صحت کے تحفظ کے لیے ایسی تمام مصنوعات سے حتیٰ الامکان دور رہیں، کیونکہ نئی سائنسی تحقیقات کے نتائج اس بات کی نشاندہی کرتے ہیں کہ ویپنگ بھی انسانی جسم کے لیے خطرناک ثابت ہو سکتی ہے۔