بدل دو نظام کو… سنواردو سندھ کو
اشاعت کی تاریخ: 17th, January 2026 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
اس وقت پورا ملک خاص طور پر سندھ بدامنی، لاقانونیت، ڈاکو راج، قبائلی تصادم کی زد میں ہے۔ اغوا برائے تاوان، بھتا خوری اور لوٹ مار کی وجہ سے ہر شہری عدم تحفظ کا شکار ہے۔ اب تو روڈ راستے اور موٹروے تک بھی محفوظ نہیں رہے۔ کراچی تا کشمور پورا صوبہ کرپشن، بیڈ گورننس، ڈاکو راج اور بدامنی کی آگ میں جل رہا ہے۔ عملی طور پر پورے ملک کی طرح سندھ میں بھی سول اور ملٹری بیوروکریسی کی اجارہ داری جبکہ جاگیردارنہ وسرمایہ دارانہ نظام کے ذریعے عوام کو غلام بنایا گیا ہے۔ میڈیا سروے رپورٹ کے مطابق 2025 میں ہائبرڈ ماڈل کے ذریعے جمہوری اداروں اور حکومتی معاملات پر اسٹیبلشمنٹ کا اثر مضبوط ہوگیا ہے۔ ملک پر آئی پی پیز، آٹا چینی مافیاز کا راج ہے۔ عوام کا خون نچوڑنے میں فارم47 کے ذریعے مسلط کردہ حکمران ان کے سرپرست بنے ہوئے ہیں۔ پی آئی اے سمیت قومی اداروں کو خسارے کا جواز پیش کرکے اونے پونے فروخت کیا جارہا ہے جبکہ حکومت میں شامل لوگوں کے بینک بیلنس میں روز بروز اضافہ اور ان کے ادارے منافع میں جارہے ہیں۔
1973 کے متفقہ آئین میں من پسند ترمیمات کرکے آئین کا حلیہ بگاڑ دیا گیا، پارلیمنٹ کو بے روح، عدلیہ کو مفلوج اور فارم47 کے ذریعے عوام کو اپنے حق حکمرانی سے محروم کردیا گیا ہے۔ جب ملک میں آئین وقانون ہی نہیں ہوگا تو ملک کیسے قائم اور آگے بڑھ سکے گا۔ حد تو یہ ہے کہ نصف سال سے قومی اسمبلی اور سینیٹ سمیت دونوں اہم ایوانوں میں اپوزیشن لیڈر نہیں 26 اور 27 ویں ترمیم کے ذریعے آئین کو دفن تو دوسری جانب مجوزہ 28 ویں ترمیم کے ذریعے نئے صوبوں کا پینڈورا باکس کھولنے کے ساتھ صوبوں کے وسائل پر ڈاکا ڈالنے کی کوشش کی جارہی ہے حالانکہ مضبوط اور خوشحال صوبے ہی ایک مستحکم ومضبوط ملک کی ضمانت ہوتے ہیں۔ اقتدار کی ہوس اور انا نے حکمرانوں کو اندھا کردیا ہے۔ کے پی وبلوچستان میں دہشت گردی کا راج ہے تو سندھ میں ڈاکو راج نے عوام کی زندگی اجیرن بنادی ہے۔ کرپشن اور بے اختیار بلدیاتی نظام کی وجہ سے کراچی سے کشمور پورا سندھ کچرا کنڈی میں تبدیل ہوچکا ہے۔ سترہ سال سے برسراقتدار پیپلزپارٹی نے کرپشن اور ڈاکو راج سندھ کی پہچان بنادی ہے۔ کوئلہ تیل گیس کی دولت کے باوجود سندھ میں لوگ گیس وبجلی کی نعمت سے محروم ہیں۔ 21لاکھ گھر سے لیکر بینظیر انکم سپورٹ تک سندھ میں 80 فی صد کرپشن ہے۔ 27 ارب کی سولر انرجی پروجیکٹ میں کرپشن کا انکشاف ہوا ہے۔ کروڑوں اربوں روپے کی گندم بھی چوہے کھاجاتے ہیں۔ ایک سابق بیوروکریٹ فضل اللہ قریشی کے مطابق وفاق سے سندھ کو 12 ہزار ارب روپے ملے مگر دس فی صد بھی کام نہیں ہوا۔ ہر پیدا ہونے والا بچہ ساڑھے تین لاکھ کا مقروض۔ اس وقت بھی 44 فی صد گھرانے گیس اور 30 فی صد گھرانوں کو بجلی سے محروم رکھا گیا ہے۔ صوبہ میں ایک موٹروے نہیں ہے۔ کراچی حیدرآباد موٹروے سندھ کے عوام کے ساتھ مذاق ہے۔ دنیا کا دستور ہے کہ جہاں پورٹ ہوتا ہے سب سے پہلے موٹروے وہاں پر بنتا ہے جبکہ 78 لاکھ بچے اسکول سے محروم ہیں یہ سندھ کے لوگوں کے ساتھ ناانصافی نہیں تو اورکیا ہے؟ پیپلزپارٹی کے چیئرمین کا ہر ضلع میں یونیورسٹی قائم کرنے کا اعلان اچھی بات ہے مگر وہ سب سے پہلے 78 لاکھ اسکول سے باہر بچوں کو تعلیم کے زیور سے آراستہ کرنے کی فکرکریں۔ تعلیم نہ ہونے کی وجہ سے بچے بے راہ روی، منشیات کی لعنت میں مبتلا اور جرائم کی دنیا میں چلے جارہے ہیں۔
خود پولیس کے جاری کردہ اعدادو شمار کے مطابق گزشتہ سال 2025 کے صرف 8 ماہ کے دوران سندھ میں بد امنی، لاقانونیت، ڈاکو راج اور عوامی حقوق کے استحصال کا سال رہا۔ صرف ضلع شکارپور میں مہر۔ جتوئی قبائلی تصادم سمیت 200 سو سے زائد انسانی جانیں ضایع ہوئیں۔ 2981 پولیس پرحملے، 1332 شہری قتل جبکہ 3817 لوگ اغوا ہوئے جن میں 385 بچے شامل تھے۔ لوٹ مار کے واقعات اس کے علاوہ ہیں۔ اس صورتحال میں ہم سمجھتے ہیں کہ جب تک فرسودہ نظام اور کرپٹ قیادت تبدیل نہیں ہوتی اس وقت تک ملک وقوم کے حالات میں بہتری ممکن نہیں ہے۔ جماعت اسلامی حافظ نعیم الرحمن کی قیادت میں ’’بدل دو نظام‘‘ تحریک چلارہی ہے جو اب عام آدمی کی دلوں کی آواز بن چکا ہے۔ 78 سال سے برسراقتدار ٹولے اور اشرافیہ نے عوام کو بھوک افلاس، بد امنی، دہشت گردی، بیروزگاری اور محرومیوں کے سوا کچھ نہیں دیا ہے۔ عوام ملک میں حقیقی جمہوری تبدیلی اور بہتر قیادت کے لیے جماعت اسلامی کا ساتھ دیں۔
جماعت اسلامی سندھ نے بھی یکم جنوری سے سندھ میں 12نکات پر مشتمل ’’بدل دو نظام، سنواردو سندھ کو‘‘ مہم شروع کردی ہے۔ جس میں ہم سندھ کے ہر شہرگائوں اور گلے محلے تک اپنا پیغام پہنچائیں گے۔ اس سلسلے میں بڑے پیمانے پر جلسے، کارواں، سیمینار اور رابطہ عوام کریں گے۔ جس میں ٭ آئین وقانون کی حکمرانی، پارلیمنٹ کی بالادستی اور عوام کا حق حکمرانی یقینی بنایا جائے۔ ٭ بلدیاتی اداروں کو انتظامی ومالی طور پر بااختیار بنا کر شہروں کی تعمیر وترقی اور عوام کے بنیادی مسائل حل کیے جائیں۔ ٭ طبقاتی تعلیم، گھوسٹ اسکولز، کاپی کلچر، میرٹ کا قتل ختم اور ایک نظام، ایک معیار اور ایک نصاب کی پالیسی بنائی جائے۔ ٭ بدامنی، لاقانونیت، قبائلی تصادم، ڈاکو راج ختم کر کے عوام کو عزت کے ساتھ جینے کا حق دیا جائے۔ ٭ سول اور ملٹری بیورو کریسی کی اجارہ داری، کرپشن لوٹ مارآئی پی پیز، آٹا، چینی مافیا سے نجات دلائی جائے۔ ٭ سندھ کو اپنے حصے کا پانی دیا جائے، پانی کی کمی اور جائز حصہ نہ ملنے کی وجہ سے زراعت تباہ اور کاشت کار بدحال ہوگیا ہے۔ ٭ آئین کے مطابق صوبہ سے نکلنے والے قدرتی وسائل اور جزائر پر پہلا حق صوبے کے عوام کا ہے۔ SIFC کارپوریٹ فارمنگ کے نام پر غیر قانونی سندھ کی زمینوں کو ہتھیانے کا سلسلہ بند کیا جائے۔ ٭ جاگیردارانہ وسرمایہ دارانہ نظام کے ذریعے سندھ کو غلام بنایا جا رہا ہے، اس سے نجات وقت کی ضرورت ہے۔ ٭ سندھ میں صنعت کو بحال اور موجودہ صنعتوں، کارخانوں میں مقامی لوگوں کو روزگار دیا جائے۔ ٭ منشیات کی لعنت کا خاتمہ کرکے نوجوان نسل کو بے راہ روی اور تباہی سے بچایا جائے۔ ٭ اسپتالوں میں عوام کو صحت کی بہتر سہولتیں فراہم کی جائیں جعلی مہنگائی اور ڈرک مافیا سے نجات دلائی جائے۔ ٭ متناسب نمائندگی پر مبنی شفاف انتخابی نظام قائم کیا جائے جیسے مطالبات شامل ہیں۔ بدل دونظام کو۔۔۔ سنوار دو سندھ کو
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
کلیدی لفظ: کی وجہ سے کے مطابق کے ذریعے ڈاکو راج کے ساتھ سندھ کو عوام کو گیا ہے
پڑھیں:
حکومت نے یومیہ بنیادوں پر آج پھر عوام پر پیٹرول بم گرا دیا
اسلام آباد (اردوپوائنٹ اخبار تازہ ترین۔ انٹرنیشنل پریس ایجنسی۔ 23 جولائی 2026ء ) وفاقی حکومت نے پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں ردوبدل کا اعلان کردیا ہے۔ پیٹرولیم ڈویژن کے جاری کردہ نوٹیفکیشن کے مطابق پیٹرول کی قیمت میں 4 روپے 40 پیسے فی لیٹر اضافہ کردیا ہے۔ پیٹرول کی نئی قیمت 331 روپے 52 پیسے فی لیٹر مقرر کردی گئی ہے۔ جبکہ ڈیزل کی قیمت فی لیٹر قیمت میں 3 روپے 62 پیسے اضافہ کر دیا گیا ہے، ڈیزل کی نئی قیمت 378 روپے 66 پیسے فی لیٹر مقرر کردی گئی۔(جاری ہے)
نئی قیمتوں کا اطلاق آج رات 12 کے بعد ایک دن کیلئے ہوگا۔ یاد رہے وفاقی کابینہ نے پیٹرولیم مصنوعات کے لیے روزانہ قیمتوں کے تعین کا نیا نظام منظور کر لیا جس کے تحت اوگرا اب پیٹرول اور ڈیزل کی ایکس ڈپو قیمتیں روزانہ جاری کرے گا۔ پیٹرول اور ڈیزل کی نئی قیمتیں گزشتہ سات کاروباری دن کی اوسط عالمی قیمت کے مطابق ہوں گی، پیٹرول اور ڈیزل کی قیمتوں کا تعین عالمی مارکیٹ کے حساب سے کیا جائے گا۔ قیمتوں کے اعلان کے لیے وزیراعظم یا وفاقی حکومت کی پیشگی منظوری درکار نہیں ہوگی جبکہ اوگرا بغیر وزیراعظم یا حکومت کی منظوری کے قیمتوں کا اعلان کرے گا۔