ملک میں شارٹ فال 2 ہزار میگاواٹ تک پہنچ گیا
اشاعت کی تاریخ: 17th, January 2026 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
اسلام آباد(کامرس رپورٹر) پاور ڈویژن ذرائع کے مطابق اس وقت ملکی بجلی کا انحصار جنوب پر ہے، بجلی کا ترسیلی نظام غیر مستحکم ہونے کا خدشہ ہے، پن بجلی کی اوسط پیداوار اس وقت 930 میگاواٹ ہے، تربیلا ڈیم سے اوسط 500میگاواٹ بجلی پیدا ہورہی ہے۔ذرائع نے بتایا کہ غازی بھروتھا سے 300 میگاواٹ اوسط بجلی پیدا ہورہی ہے،اس وقت ملک بھر میں 2 ہزار میگاواٹ سے زائد بجلی کا شارٹ فال ہے، ملک کے جنوبی علاقوں میں دھند کے باعث بجلی کی ترسیل میں رکاوٹیں درپیش ہیں، جنوب سے آنے والے ترسیلی نظام میں ٹرپنگ ہورہی ہے۔پاور ڈویژن ذرائع کا کہنا تھا کہ غیر متوازن بجلی نظام سے ملک بھر میں بجلی کے بڑے بریک ڈاون کا خدشہ برقرار ہے، ترسیلی کمپنیاں اور تقسیم کار کمپنیوں کو لوڈ متوازن رکھنے کے لیے کوششیں کررہی ہے۔
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
پڑھیں:
ایران سے جنگ نے ایک اور مشکل کھڑی کر دی، امریکا کے تیل کے ذخائر 45 سال کی کم ترین سطح پر پہنچ گئے
واشنگٹن:مشرق وسطیٰ میں ایران کے ساتھ بڑھتی ہوئی کشیدگی کے دوران امریکہ کے خام تیل کے ذخائر میں نمایاں کمی ریکارڈ کی گئی ہے جس نے ملکی توانائی کے تحفظ سے متعلق نئے سوالات کھڑے کر دیے ہیں۔
بینک آف امریکا کی جانب سے جاری کیے گئے اعداد و شمار کے مطابق اس وقت امریکہ کے پاس خام تیل کا ذخیرہ صرف 43 روز کی ضروریات پوری کرنے کے لیے باقی رہ گیا ہے۔
یہ صورت حال جولائی 1983 کے بعد پہلی مرتبہ سامنے آئی ہے جسے توانائی کے شعبے کے لیے غیر معمولی پیش رفت قرار دیا جا رہا ہے۔
امریکی انرجی انفارمیشن ایڈمنسٹریشن کے تازہ ڈیٹا کے مطابق 10 جولائی تک ملک کے کمرشل خام تیل کے ذخائر کم ہو کر 409.7 ملین بیرل رہ گئے، جو گزشتہ پانچ برس کی اوسط کے مقابلے میں تقریباً 6 فیصد کم ہیں۔
ادھر امریکی اسٹریٹیجک پیٹرولیم ریزرو بھی مسلسل دباؤ کا شکار ہے۔ 18 جولائی تک اس کا حجم گھٹ کر 316.5 ملین بیرل رہ گیا، جو اپریل 1983 کے بعد کی سب سے کم سطح ہے۔
اعداد و شمار کے مطابق کمرشل اور اسٹریٹیجک ذخائر کو ملا کر امریکہ کے مجموعی خام تیل کے ذخائر تقریباً 730.8 ملین بیرل رہ گئے ہیں جو گزشتہ چار دہائیوں کی کم ترین سطحوں میں شمار کیے جا رہے ہیں۔