data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">

260117-08-12

 

اسلام آباد(نمائندہ جسارت) ہمدرد یونیورسٹی اسلام آباد کیمپس کے زیر اہتمام بانی ہمدرد فاؤنڈیشن پاکستان شہید حکیم محمد سعید کی زندگی، وژن اور گراں قدر خدمات کو خراج عقیدت پیش کرنے کیلیے ایک یادگاری تقریب بعنوان ’’یادیں، باتیں‘‘ منعقد کی گئی۔ اس تقریب میں عوامی صحت کے اہم موضوعات جن میں خون کا عطیہ، ذیابیطس سے بچاؤ، غذائیت اور بچوں کی

صحت شامل تھے، کو اجاگر کیا گیا اور معاشرتی فلاح و بہبود کیلیے ہمدرد کے دیرینہ عزم کی تجدید کی گئی۔ تقریب میں ممتاز شخصیات، ماہرین صحت، ماہرین تعلیم، طلبہ اور قومی و بین الاقوامی اداروں کے نمائندگان نے شرکت کی۔ سینیٹر مشاہد حسین سید مہمان خصوصی نے شہید حکیم محمد سعید کو زبردست خراج عقیدت پیش کرتے ہوئے انہیں پاکستان کی اصل شناخت، علم، کردار اور خدمت کا حسین امتزاج قرار دیا۔ انہوں نے کہا کہ حکیم سعید وہ واحد شخصیت تھے جن کی پہلی اردو کتاب سابق سوویت یونین میں شائع ہوئی جبکہ ان کا مشہور سفرنامہ ‘‘سفرنامہ روس’’ روس میں نمایاں اعزاز کا حامل رہا۔ سینیٹر مشاہد حسین نے اس بات پر زور دیا کہ شہید حکیم محمد سعید نوجوانوں کو امت مسلمہ کا مستقبل سمجھتے تھے اور صحت کے شعبے میں متوازن اور ہمہ گیر نظام کے قائل تھے۔ انہوں نے مزید کہا کہ ہمدرد ان چند اداروں میں سے ہے جو وقت گزرنے کے باوجود اپنے مشن اور اثر کو کامیابی سے برقرار رکھے ہوئے ہے۔ ہمدرد یونیورسٹی کی چانسلر اور ہمدرد فاؤنڈیشن پاکستان کی صدر سعدیہ راشد نے کہا کہ ہمدرد کی بنیاد شہید حکیم محمد سعید کے وژن اور عمر بھر کی خدمات پر رکھی گئی۔ انہوں نے کہا کہ ہمدرد یونیورسٹی محض ایک تعلیمی ادارہ نہیں بلکہ تعلیم، صحت، تحقیق اور قومی خدمت پر مبنی ایک مشن ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ ہمدرد نہ صرف ایک جامع ادارہ ہے بلکہ طب کے میدان میں ایک ممتاز اور نمایاں مقام رکھتا ہے اور شہید حکیم محمد سعید کی طبی خدمات ناقابل فراموش ہیں۔ انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ حکیم سعید کی کاوشوں کو سراہنا اور آگے بڑھانا ہم سب کی مشترکہ ذمہ داری ہے۔ ان کے مطابق حکیم سعید کی محنت کی بدولت آج پاکستانی طلبہ طب کے میدان میں عالمی سطح پر پہچان حاصل کر رہے ہیں اور ہمدرد یونیورسٹی ان کے مشن کی عملی تصویر ہے۔ لیفٹیننٹ جنرل (ر) معین الدین حیدر، سابق گورنر سندھ، نے شہید حکیم محمد سعید کو ایک غیر متنازع قومی ہیرو قرار دیا۔ انہوں نے بین الاقوامی سطح پر قومی ادویات کے فروغ میں حکیم سعید کے کلیدی کردار اور عالمی ادارہ صحت (WHO) کے ساتھ ان کی ذاتی وابستگی کو اجاگر کیا۔ انہوں نے کہا کہ شہادت کے بعد بھی ہمدرد نے ترقی کا سفر جاری رکھا اور آج پاکستان کے ساتھ ساتھ بنگلا دیش اور بھارت میں بھی فعال کردار ادا کر رہا ہے۔ پاکستان ایسوسی ایشن آف ایسٹرن میڈیسن (PAEM) کے صدر حکیم عبدالحنان نے شہید حکیم محمد سعید کو صحت اور تعلیم کیلیے ایک روشن مینار قرار دیا۔ انہوں نے کہا کہ حکیم محمد سعید کی زندگی ہمیں یہ سبق دیتی ہے کہ خدمت، علم اور اخلاق انسانیت کیلیے سب سے بڑی میراث ہیں۔ انہوں نے مزید کہا کہ علم اور خدمت ہی انسانیت کو زندہ رکھتے ہیں اور ہر فرد پر لازم ہے کہ وہ اپنی زندگی میں علم، کردار اور خدمت کو ترجیح دے۔ ان کے مطابق حکیم محمد سعید نہ صرف اپنے ادارے بلکہ پوری قوم کیلیے مشعل راہ تھے، اور ان کا وژن آج بھی نوجوانوں کی رہنمائی کر رہا ہے۔ ایسی عظیم شخصیات کی خدمات کو یاد رکھنا اور آگے بڑھانا ہم سب کی مشترکہ ذمہ داری ہے۔ عالمی ادارہ صحت (WHO) کے نمائندے شہزاد عالم نے صحت کے شعبے میں ہمدرد کی خدمات کو سراہتے ہوئے محترمہ سعدیہ راشد کی جانب سے پاکستان میں WHO پروگرامز، بشمول عالمی یومِ صحت، کے فروغ میں تعاون کو قابل تحسین قرار دیا۔ ہمدرد یونیورسٹی اسلام آباد کیمپس کے ڈائریکٹر جنرل امتیاز حیدر نے کہا کہ شہید حکیم محمد سعید کا یقین تھا کہ قومیں محض نعروں سے نہیں بلکہ کردار اور خدمت سے بنتی ہیں۔ انہوں نے اس عزم کا اظہار کیا کہ ہمدرد یونیورسٹی تعلیم کو اخلاقیات، تحقیق اور سماجی ذمہ داری کے ساتھ جوڑنے کیلیے پرعزم ہے۔ تمام معزز مہمانوں اور شرکائکا شکریہ ادا کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ ایسی تقریبات صرف یادگاری نہیں ہوتیں بلکہ علم، اخلاقی اقدار اور انسانیت کی خدمت کے عہد کی تجدید کا ذریعہ بنتی ہیں۔ تقریب کا اختتام اتحاد، غور و فکر اور عزم کے پراثر پیغام کے ساتھ ہوا، جس میں شہید حکیم محمد سعید کی دائمی خدمات کو خراج تحسین پیش کرتے ہوئے پاکستان کے مستقبل کیلیے اہم صحت کے مسائل پر آگاہی کو فروغ دیا گیا۔

نمائندہ جسارت.

ذریعہ

ذریعہ: Jasarat News

کلیدی لفظ: شہید حکیم محمد سعید کی ہمدرد یونیورسٹی انہوں نے کہا کہ کہا کہ ہمدرد حکیم سعید کردار اور خدمات کو اور خدمت قرار دیا کے ساتھ صحت کے

پڑھیں:

غزہ میں اسرائیلی بمباری سے مسجد شہید، قریبی مکانات بھی تباہ

اسرائیلی قابض جنگی طیاروں نے وسطی غزہ کی پٹی میں بوریج کیمپ میں ایک مسجد اور اس کے آس پاس کے علاقوں کو فضائی حملے میں تباہ کردیا ہے۔

صفا نیوز ایجنسی کے مطابق اسرائیلی طیاروں نے بوریج پناہ گزین کیمپ کے جنوب مشرق میں بلاک 9 میں مسجد النور اور اس کے آس پاس کے علاقے کو تباہ کر دیا۔ اسرائیلی جنگی طیاروں نے جبالیہ پناہ گزین کیمپ پولیس اسٹیشن کے قریب ایک مکان کو بھی نشانہ بنایا۔

مقامی میڈیا نمائندے نے کہا کہ اسرائیلی جنگی طیارے غزہ کی پٹی کے متعدد علاقوں پر کم اونچائی پر پرواز کر رہے ہیں۔

غزہ شہر کے مشرق میں واقع زیتون محلے کے کچھ حصوں کے لیے بھی انخلا کی وارننگ جاری کی گئی جو کہ کئی دنوں سے اسرائیلی فوجی کارروائیوں کی زد میں ہے، نیز شمالی غزہ کی پٹی میں بیت لاہیہ پروجیکٹ کے علاقے کو بھی نشانہ بنایا گیا۔

مسلسل اسرائیلی بمباری نے خطے میں بڑے پیمانے پر خوف و ہراس کو جنم دیا ہے جبکہ رہائشیوں کو متاثرہ علاقوں سے انخلا پر مجبور کیا جارہا ہے۔

گزشتہ سال اکتوبر سے نافذ ہونے والے جنگ بندی معاہدے کے باوجود اسرائیلی فوج نے غزہ کی پٹی میں کارروائیاں اور حملے جاری رکھے ہوئے ہیں جس میں متعدد افراد ہلاک ہوچکے ہیں۔

متعلقہ مضامین

  • ایس سی او اجلاس: اسحاق ڈار نے مشترکہ مصوری کی تقریب میں شرکت کی
  • غزہ میں اسرائیلی بمباری سے مسجد شہید، قریبی مکانات بھی تباہ
  • کیوبا کے سفارتخانے میں فوٹو نمائش کے ذریعے فیڈل کاسترو کی صد سالہ تقریبات کا انعقاد
  • برطانوی ہائی کمیشن میں گلاسگو 2026 دولتِ مشترکہ کھیلوں کے آغاز کی تقریب
  • اسلام آباد میں گلاسگو 2026 دولتِ مشترکہ کھیلوں کی افتتاحی تقریب
  • بيزوس، مسک اور زکربرگ جیسے ارب پتی ہر سال ایک خفیہ سمر کیمپ میں کیوں اکٹھے ہوتے ہیں؟
  • ارشد ندیم کی قیادت میں پاکستانی دستے کی کامن ویلتھ گیمز کی رنگا رنگ افتتاحی تقریب میں شاندار شرکت
  • شہدا ء کا مقام اور فضیلت
  • کوہاٹ میں گاڑی پر فائرنگ سے کسٹم اہلکار شہید، ایک شخص زخمی
  • نیشنل اسپیشل گیمز: کراچی میں  فٹبال ٹورنامنٹ کے بعد اختتامی تقریب کا انعقاد