بھارتی کپتان کا بالی ووڈ اداکارہ پر 100 کروڑ روپے ہرجانے کا مقدمہ
اشاعت کی تاریخ: 17th, January 2026 GMT
بھارتی ٹی ٹوئنٹی کرکٹ ٹیم کے کپتان سوریا کمار یادیو نے بالی ووڈ اداکارہ خوشی مکھرجی پر ہتک عزت کا مقدمہ دائر کردیا۔
بھارتی میڈیا رپورٹس کے مطابق سوریا کمار یادیو نے سوشل میڈیا پر وائرل ہونے والے ایک متنازع بیان کے بعد سخت قانونی قدم اٹھاتے ہوئے خوشی مکھرجی کے خلاف ہتکِ عزت کے مقدمے میں 100 کروڑ روپے ہرجانے کا مطالبہ کیا ہے۔
میڈیا رپورٹس کے مطابق خوشی مکھرجی نے دعویٰ کیا تھا کہ سوریا کمار یادیو انہیں اکثر پیغامات بھیجا کرتے تھے۔
سوریا کمار یادیو کی قانونی ٹیم نے اس الزام کو سراسر جھوٹا، بے بنیاد اور ان کی ساکھ کو نقصان پہنچانے والا قرار دیا ہے۔
بھارتی اداکارہ کا کرکٹر سوریا کمار یادیو سے متعلق حیران کن انکشاف
وکلاء کا کہنا ہے کہ اس دعوے کے حق میں کوئی ثبوت موجود نہیں اور اس طرح کے غیر مصدقہ بیانات کسی بھی عوامی شخصیت کی ذاتی اور پیشہ ورانہ زندگی کو شدید متاثر کر سکتے ہیں۔
سوریا کمار کی قانونی ٹیم نے مزید واضح کیا کہ مشہور شخصیات کو نشانہ بنا کر بغیر ثبوت الزامات لگانا نہ صرف غیر ذمہ دارانہ عمل ہے بلکہ اس سے عوام میں غلط تاثر بھی پیدا ہوتا ہے۔
ان کے مطابق ایسے اقدامات کے خلاف قانونی کارروائی ضروری ہوچکی ہے۔
TagsShowbiz News Urdu.
ذریعہ
ذریعہ: Al Qamar Online
کلیدی لفظ: پاکستان کھیل سوریا کمار یادیو
پڑھیں:
بجٹ 2026-27، پائیڈ کی کم از کم ماہانہ تنخواہ 45 ہزار روپے مقرر کرنے کی تجویز
اسلام آباد، نئے مالی سال 2026-27 کے بجٹ میں کم از کم ماہانہ اجرت یا تنخواہ (minimum wages monthly)کے تعین کے حوالے سے پاکستان انسٹی ٹیوٹ آف ڈیویلپمنٹ اکنامکس (پائیڈ) نے اہم سفارشات پیش کر دی ہیں۔
پائیڈ نے مالی سال 2026-27 کیلئے کم از کم ماہانہ اجرت 40 ہزار روپے سے بڑھا کر 45 ہزار روپے مقرر کرنے کی تجویز دی ہے، جو موجودہ کم از کم اجرت کے مقابلے میں 12.5 فیصد اضافے کے برابر ہے۔
ادارے نے کم از کم اجرت کے تعین کیلئے شفاف اور سائنسی بنیادوں پر مبنی نظام تجویز کرتے ہوئے کہا ہے کہ اجرت کا تعلق غربت، مہنگائی اور عوام کی قوتِ خرید سے براہِ راست جڑا ہوا ہے۔
سفارشات کے مطابق سندھ میں کم از کم ماہانہ اجرت 46 ہزار روپے، پنجاب اور خیبرپختونخوا میں 45 ہزار روپے جبکہ بلوچستان میں 45 ہزار 500 روپے مقرر کرنے کی تجویز دی گئی ہے۔
پائیڈ نے کم از کم اجرت کے نفاذ کو مرحلہ وار یقینی بنانے کی سفارش کرتے ہوئے کہا ہے کہ سرکاری ٹھیکوں اور آؤٹ سورس خدمات میں کم از کم اجرت پر عملدرآمد کو لازمی قرار دیا جانا چاہیے۔
ادارے کے مطابق پاکستان میں 80 فیصد سے زائد روزگار غیر رسمی شعبے میں ہونے کے باعث کم از کم اجرت کے قانون پر عملدرآمد ایک بڑا چیلنج ہے۔
پائیڈ نے یہ بھی تجویز دی ہے کہ تمام صوبے سالانہ کم از کم اجرت پر عملدرآمد کی رپورٹ جاری کریں تاکہ نظام کی نگرانی اور مؤثر جائزہ ممکن ہو سکے۔رپورٹ کے مطابق مجوزہ فریم ورک پلاننگ کمیشن کو غور کیلئے بھجوا دیا گیا ہے۔
مزید پڑھیں:سانحہ اٹلی، جاں بحق افراد کی شہریت کی تصدیق تاحال نہیں ہو سکی، دفتر خارجہ
پائیڈ کا کہنا ہے کہ کم از کم اجرت کا نظام محض سالانہ اعلان تک محدود نہیں ہونا چاہیے بلکہ اسے مؤثر طرزِ حکمرانی، نگرانی اور عملدرآمد کے نظام سے جوڑا جانا ضروری ہے۔