راولپنڈی میں ٹریفک پولیس کی جانب سے مبینہ طور پر شہریوں پر زائد چالان وصول کرنے کا انکشاف ہوا ہے، ٹریفک پولیس کے اپنے ہی وارڈن نے شہریوں سے زائد چالان وصول کرنے کی پول کھول دی۔

راولپنڈی میں اعلیٰ افسران کی جانب سے ٹریفک وارڈنز کو شہریوں پر زائد چالان عائد کرنے کا انکشاف ہوا ہے، ٹریفک وارڈن احسن شاہ نے اپنے ہی چیف ٹریفک آفیسر فرحان اسلم، انسپکٹر ناصر جدون، انچارج چالان برانچ سمیت دیگر افسران کو قانونی نوٹس بھیج دیا۔

 قانونی نوٹس میں بتایا گیا ہے ریونیو اکٹھا کرنے کیلئے روزانہ کی بنیاد پر 15 چالان کا ٹارگٹ دیا جاتا ہے، اعلیٰ افسران کی جانب سے روزانہ کی بنیاد پر غیر قانونی چالان کرنے پر مجبور کیا جاتا ہے، یہ طرز عمل اختیارات کے ناجائز استعمال، اور آئین کے آرٹیکل 4 اور 14 کی خلاف ورزی ہے، سی ٹی او راولپنڈی نے شہریوں پر کم چالان عائد کرنے پر61 ٹریفک وارڈنز کو ایک لاکھ 22 ہزار روپے جرمانہ عائد کر رکھا ہے۔

اسپیکر قومی اسمبلی ایاز صادق کو بھی فیک چالان بھیج دیا گیا

قومی اسمبلی اجلاس میں سردار ایاز صادق نے بتایا کہ انہیں بھی فیک ٹریفک چالان موصول ہوا ہے،

دوسری جانب ترجمان ٹریفک پولیس کا کہنا ہے کہ ٹریفک وارڈنز کو چالان کا ٹارگٹ دینے میں کوئی حقیقت نہیں، ٹریفک کی روانی کو سیف سٹی کیمروں کے ذریعے مانیٹر کیا جارہا ہے، سیف سٹی کیمروں میں ٹریفک وائلیشنز ریکارڈ ہوتی ہیں،جن جن علاقوں میں ٹریفک وائلیشنز پر کارروائی نہیں ہوتی، ان علاقوں میں متعلقہ عملے کے خلاف کارروائی کی جاتی ہے۔

کراچی: ٹریفک پولیس کے ای چالان میں خامیوں کا سلسلہ رک نہ سکا

شہری کا کہنا ہے کہ مجھ سےٹریفک پولیس نے کسی قسم کا کوئی رابطہ نہیں کیا، میں نے از خود ہی ایپ سےچالان چیک کیا تو یہ انکشاف ہوا، اوور اسپیڈ پر چالان کیا گیا مگر 29 اکتوبر کو اسپیڈ لمٹ کے بورڈ بھی آویزاں نہیں تھے۔

ماسٹر کنٹرول روم سے خلاف ورزیوں کی فہرست بھیجی جاتی ہے، جہاں جہاں ٹریفک وارڈنز کی غفلت سامنے آتی ہے انکے خلاف کارروائی کی جاتی ہے، ناقص کارکردگی پر 214  وارڈنز کو سزائیں جبکہ کرپشن پر 3 وارڈنز نوکری سے برخاست کیے گئے ہیں، فرائض کی بہترین ادائیگی پر 1 ہزار 23 وارڈنز کو انعامات دیے گئے ہیں۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Jang News

کلیدی لفظ: ٹریفک وارڈنز ٹریفک پولیس وارڈنز کو

پڑھیں:

کوئٹہ: سرکاری دستاویزات میں شہریوں کو غیرقانونی سہولت دینے والے 14 ایجنٹ گرفتار

فیڈرل انویسٹی گیشن ایجنسی (ایف آئی اے) بلوچستان نے کوئٹہ شہر میں مختلف وفاقی اداروں کے مبینہ ایجنٹس کے خلاف بڑے پیمانے پر کریک ڈاؤن کرتے ہوئے 14 افراد کو گرفتار کرلیا۔

 ڈائریکٹر ایف آئی اے بلوچستان بہرام مندوخیل کے مطابق کارروائی کے دوران نادرا، سوئی سدرن گیس کمپنی، پاسپورٹ آفس اور میٹروپولیٹن کارپوریشن سے متعلق مبینہ ایجنٹس کو حراست میں لیا گیا ہے، جو شہریوں کو مختلف سرکاری امور میں غیر قانونی سہولت کاری فراہم کرنے میں ملوث تھے۔

انہوں نے بتایا کہ گرفتار ملزمان مبینہ طور پر برتھ سرٹیفکیٹس، قومی شناختی کارڈز، پاسپورٹس اور دیگر سرکاری دستاویزات کے حصول کے لیے غیر قانونی طریقے سے سہولت فراہم کرتے اور شہریوں سے رقوم وصول کرتے تھے۔

ڈائریکٹر ایف آئی اے کا کہنا تھا کہ گرفتار ملزمان سے تفتیش جاری ہے اور ابتدائی تحقیقات کی روشنی میں ان کے نیٹ ورک میں شامل دیگر افراد کی نشاندہی کی جا رہی ہے۔ امید ہے کہ مزید گرفتاریاں بھی عمل میں آئیں گی۔

بہرام مندوخیل نے کہا کہ ایف آئی اے سرکاری اداروں میں بدعنوانی، جعلسازی اور غیر قانونی سہولت کاری کے خاتمے کے لیے کارروائیاں جاری رکھے گی اور قانون شکنی میں ملوث عناصر کے خلاف بلاامتیاز کارروائی کی جائے گی۔

متعلقہ مضامین

  • دفتری نظم و ضبط کی پابندی کی ہدایت ،نیاسرکلرجاری
  • عطا اللہ تارڑ نے اب تک معافی نہیں مانگی، وزیراعظم وزرا کے تضحیک آمیز رویے کا نوٹس لیں، سحر کامران
  • کوئٹہ، سرکاری دفاتر میں ایجنٹس کیخلاف ایف آئی اے کی کارروائی، 14 افراد گرفتار
  • راولپنڈی میں 14 سالہ فیکٹری ملازم کے ساتھ ’استاد‘ کی بدفعلی، لڑکا اسپتال میں داخل
  • کالم نگار کو بیوروکریسی کے بارے میں مبینہ ریمارکس پر نوٹس صرف مؤقف حاصل کرنے کے لیے جاری کیا گیا تھا، اس پر کوئی ایف آئی آر درج نہیں کی گئی، سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے اطلاعات و نشریات کے اجلاس میں این سی سی آئی کی بریفنگ
  • مودی کا امتحانی پرچے لیک کرنے والوں کے خلاف فاسٹ ٹریک عدالتیں قائم کرنے کا اعلان
  • مون سون کا طاقتورسپیل ، جھل تھل ایک ہوگیا،2 وکلاء کے چیمبر گرگئے
  • کوئٹہ: سرکاری دستاویزات میں شہریوں کو غیرقانونی سہولت دینے والے 14 ایجنٹ گرفتار
  • دہشتگردی کے خاتمے تک فتنۃ الخوارج و فتنۃ الہندوستان کے خلاف کارروائیاں جاری رہیں گی، فیلڈ مارشل
  • کراچی: 6 سالہ بچی سے مبینہ زیادتی کرنے والا ملزم پولیس مقابلے میں مارا گیا