پی ٹی آئی نے عمران خان سے ملاقاتوں کا معاملہ سینیٹ میں اٹھا دیا
اشاعت کی تاریخ: 17th, January 2026 GMT
دو ماہ سے بانی تک کسی کی رسائی نہیں(فلک ناز چترالی) عدالتی حکم کے باوجود ملاقات نہیں کروائی جارہی،علی ظفر
معاملہ عدالت اور جیل حکام کے مابین ، حکومت کا کنٹرول نہیں،وزیرقانون اعظم تارڑ کاپی ٹی آئی رہنمائوں کو جوا ب
پی ٹی آئی نے بانی پی ٹی آئی عمران خان سے ملاقاتوں کا معاملہ ایک بار پھر سینیٹ میں پھر اٹھادیا۔سینیٹ کا اجلاس سینیٹر شیری رحمان کی زیر صدارت شروع ہوا تو پی ٹی آئی رہنما فلک ناز چترالی نے کہا دو ماہ سے بانی پی ٹی آئی تک کسی کی رسائی نہیں۔اس موقع پر پی ٹی آئی رہنما علی ظفر نے کہا کہ عدالتی حکم کے باوجود ملاقات نہیں کروائی جارہی۔پی ٹی آئی رہنمائوں کو جوا ب دیتے ہوئے وزیرقانون اعظم تارڑ نے کہا کہ یہ معاملہ عدالت اور جیل حکام کے مابین ہے، حکومت کا کنٹرول نہیں۔وفاقی وزیرقانون اعظم نذیر تارڑ نے کہا میں خود اس حوالے سے رپورٹ آئندہ ہفتے سینٹ میں پیش کروں گا، انہوںنے واضح کیا کہ یہ معاملہ عدالت اور جیل حکام کے مابین ہے حکومت کا اس معاملے پر کنٹرول نہیں۔دریں اثنا سینیٹ اجلاس میں مسلم لیگ کے نومنتخب سینیٹر عابد شیر علی نے حلف اٹھالیا۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Juraat
کلیدی لفظ: پی ٹی ا ئی نے کہا
پڑھیں:
حکومت نے بجلی کی سبسڈی کو “ٹارگٹڈ” بنانے کیلئے نیا سسٹم متعارف کرادیا۔۔؟؟
حکومت نے بجلی کی سبسڈی کو “ٹارگٹڈ”(targeted subsidy) بنانے کے لیے نیا سسٹم متعارف کرا دیا ۔ جس کے تحت اب صارفین کو اپنی شناخت اور گھریلو معلومات کی تصدیق کرنا ہوگی۔
صارف جب کیو آر کوڈ اسکین کرتا ہے تو اسے ایک آن لائن پورٹل پر لے جایا جاتا ہے۔ اس پورٹل پر شناختی کارڈ ، موبائل نمبر اور بجلی کے میٹر کی تفصیلات درج کرنا ہوتی ہیں۔ اس کے بعد ون ٹائم پاس ورڈ کے ذریعے تصدیق مکمل کی جاتی ہے۔
حکام کے مطابق اس نظام کا مقصد ایک ہی خاندان کے مختلف افراد کے نام پر موجود متعدد میٹرز کو چیک کرنا ہے ۔ یہ بھی دیکھا جا سکے گا کہ کم یونٹس استعمال کرنے والا صارف واقعی مستحق ہے یا نہیں ۔
ذرائع کے مطابق اس عمل میں نادرا ، بجلی تقسیم کار کمپنیوں اور دیگر سرکاری ڈیٹا بیسز سے حاصل معلومات کو ملا کر صارف کی معاشی حیثیت کا جائزہ لیا جائے گا۔ یعنی اب سبسڈی صرف بجلی کے استعمال پر نہیں بلکہ گھرانے کی مجموعی صورتحال پر دی جائے گی۔
پاور ڈویژن کے مطابق اس وقت2 کروڑ 95 لاکھ 70 ہزار یعنی 86 فیصد گھریلو صارفین کو سبسڈی فراہم کی جارہی ہے۔ سبسڈی کا حجم 199 ارب سے بڑھ کر 423 ارب روپے تک پہنچ گیا۔ زرعی اور گھریلو شعبے کو 527 ارب روپے کی سبسڈی مل رہی ہے۔
حکام کے مطابق کیو آر کوڈ سسٹم کے ذریعے اہل صارفین کو بلاتعطل سبسڈی کی فراہمی جاری رہے گی۔دوسری طرف اس نئے نظام پر سوالات بھی اٹھ رہے ہیں کہ کیا صارفین کا ذاتی ڈیٹا محفوظ ہے؟ اور کیا تصدیق نہ کرنے کی صورت میں سبسڈی ختم ہو سکتی ہے؟
مزید پڑھیں:کسی کی برائی کرکے نہیں کارکردگی پر ووٹ مانگتے ہیں، نوازشریف
ادھر حکومت نے صارفین کو خبردار کیا ہے کہ جعلی کیو آر کوڈز اور لنکس سے محتاط رہیں ۔ کسی بھی غیر مصدقہ پلیٹ فارم پر اپنی ذاتی معلومات ہرگز شیئر نہ کریں۔