عوام کے لیے بری خبر، ایک ماہ کے لیے بجلی 48 پیسے فی یونٹ مہنگی ہونے کا امکان ہے
اشاعت کی تاریخ: 17th, January 2026 GMT
اسلام آباد (ڈیلی پاکستان آن لائن )عوام کے لیےبری خبر،ایک ماہ کے لیے بجلی 48 پیسےفی یونٹ مہنگی ہونےکا امکان ہے،سنٹرل پاور پرچیزنگ ایجنسی (سی پی پی اے) نےدسمبر کےماہانہ فیول پرائس ایڈجسٹمنٹ کی مد میں درخواست دائر کر دی ہے۔
سی پی پی اے کی درخواست پر نیپرا اتھارٹی 29 جنوری کو سماعت کرے گی۔ منظوری کی صورت میں کے الیکٹرک اور ڈسکوز کے صارفین پر مجموعی طور پر 4 ارب روپے سے زائد کا اضافی بوجھ پڑنے کا امکان ہے۔
درخواست کے مطابق دسمبر میں مجموعی طور پر 8 ارب 48 کروڑ 70 لاکھ یونٹس بجلی پیدا کی گئی جبکہ ڈسکوز کو 8 ارب 20 کروڑ 80 لاکھ یونٹس بجلی فراہم کی گئی۔ ماہ دسمبر میں بجلی کی فی یونٹ لاگت 9 روپے 62 پیسے رہی۔
سرگودھا میں شدید دھند کے باعث ٹرک نہر میں گر گیا، 14 افراد جاں بحق، متعدد زخمی
سی پی پی اے کے مطابق دسمبر میں بجلی کی پیداوار میں ہائیڈل کا حصہ 18.
درخواست میں مزید بتایاگیاکہ نیوکلیئر سے بجلی کی پیداوار دسمبر میں 25.05 فیصد رہی،نیپرا کی جانب سے سماعت کےبعد حتمی فیصلہ کیا جائےگاجس کے اثرات بجلی صارفین کے بلوں پر پڑنے کا امکان ہے۔
مزید :
ذریعہ
ذریعہ: Daily Pakistan
کلیدی لفظ: کا امکان ہے
پڑھیں:
گورنر خیبر پختونخوا کی وزیراعظم سے ضم شدہ اضلاع کیلئے ٹیکس استثنیٰ بحال کرنے کی درخواست
فیصل کریم کنڈی نے خط میں کہا کہ صوبائی حکومت ضم شدہ اضلاع اور پاٹا کے تمام صوبائی ٹیکس ختم کر چکی ہے، تاہم وفاقی ٹیکسز کے خاتمے کے بغیر قبائلی عوام کو مکمل ٹیکس ریلیف نہیں مل سکتا۔ اسلام تائمز۔ گورنر خیبر پختونخوا فیصل کریم کنڈی نے وزیراعظم پاکستان کے نام خط لکھ کر ضم شدہ قبائلی اضلاع اور پاٹا کے لیے وفاقی ٹیکس استثنیٰ بحال کرنے اور اس میں توسیع کی درخواست کی ہے۔ انہوں نے کہا کہ وفاقی ٹیکس استثنیٰ بحال کر کے انضمام کے وقت کیے گئے وعدوں کی پاسداری کی جائے۔ گورنر فیصل کریم کنڈی نے خط میں مطالبہ کیا کہ قبائلی اضلاع اور پاٹا میں انکم ٹیکس، سیلز ٹیکس اور دیگر وفاقی محصولات کے نفاذ پر نظرثانی کی جائے۔ انہوں نے کہا کہ صوبائی حکومت ضم شدہ اضلاع اور پاٹا کے تمام صوبائی ٹیکس ختم کر چکی ہے، تاہم وفاقی ٹیکسز کے خاتمے کے بغیر قبائلی عوام کو مکمل ٹیکس ریلیف نہیں مل سکتا۔
انہوں نے تجویز دی کہ وفاقی اور صوبائی حکومتوں پر مشتمل مشترکہ کمیٹی قائم کر کے قبائلی اضلاع کی معاشی صورتحال کا جائزہ لیا جائے۔ ان کا کہنا تھا کہ نئے ٹیکسوں کے نفاذ سے قبل ضم شدہ اضلاع اور پاٹا کی معاشی و مالی صورتحال کا جائزہ لینا ضروری ہے، جبکہ ٹیکسوں کا معاملہ مشترکہ مفادات کونسل یا کسی مناسب آئینی فورم پر فوری طور پر پیش کیا جائے۔
گورنر خیبر پختونخوا نے کہا کہ قبائلی عوام نے پاکستان کے امن، استحکام اور سلامتی کے لیے بے مثال قربانیاں دی ہیں۔ وفاق اور صوبے کی یکساں ٹیکس پالیسی قبائلی عوام کا ریاست پر اعتماد بحال کرنے میں مددگار ثابت ہوگی، جبکہ ٹیکس ریلیف سے ضم شدہ اضلاع کی سماجی و معاشی ترقی اور قومی دھارے میں انضمام کا عمل مزید تیز ہوگا۔